Daily Mashriq


گیس کا کم پریشراور آثار قدیمہ کی خدمات

گیس کا کم پریشراور آثار قدیمہ کی خدمات

مرنے کے بعد بھی میری آنکھیں کھلی رہیں

عادت جو پڑگئی ہے تیرے انتظار کی

یہ انتظار بھی بڑا عجیب ہوتا ہے ۔اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک وہ آنہ جائے کہ جس کا انتظارکیا جارہا ہوتا ہے یا پھر اس کے آنے کی امید ختم ہوجائے ۔توڑ کے رکھ دیتا ہے یہ انتظار بندے کو۔ ہم جس انتظار کی بات کررہے ۔وہ بھی جان لیو اہونے سے کہاں کم ہے ۔بغیر عشق فرمائے ہی انتظار کی لذتوں کو لوٹنے میں ہم پاکستانی کافی خوش قسمت واقع ہوئے ہیں کہ ہمیں انتظار کی ''آفیشل'' کیفیات سے گزرنے کے روزانہ کی بنیاد پر مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔گرمی میں یہ انتظار کروانے کی ''قومی خدمت ''واپڈا کے ذمے ہے ،سردیوں میں یہی فریضہ سوئی نادرن والوں کے ناتواں کندھوں پر آجاتا ہے مگر فرائض منصبی کے ذوق وشوق میں ڈوبا ہوا یہ ادارہ نہایت فرض شناسی کے ساتھ یہ کام کرتا ہے کہ لوگوں کو گھنٹوں سوئی گیس کاانتظار کرنا پڑتا ہے ۔ہماری معلومات کے مطابق پشاور کے اکثر علاقے گیس کے انتظار میں ٹھنڈی آہیں بھرنے کا لطف لے رہے ہیں ۔جبکہ وہ'' خصوصی علاقے ''جہاں گیس پوری آتی ہے وہاں کے مکین گیس سے عاری اِن علاقوں کے باسیوں سے جلن محسوس کریں گے کہ انہیں کیوں انتظار کی ان لذتوں سے محروم کیوں رکھا جارہا ہے ۔ اب ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو سب قسمت کی باتیں ہیں ،ہر کسی کا اپنااپنا نصیب ہوتا ہے ۔گرمیوں میں بھی کتنے بدقسمت علاقوں کا آپ نے سنا ہوگا کہ جہاں سرے سے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہی نہیں تھی۔

مصیبت ساری انسان کی ترقی کی ہے ورنہ کیا برا تھا کہ ماضی کی طرح آج بھی انسان کچا ہی سب کھاجاتا۔کیاشیر نہیں کھاتے کچا گوشت۔ انسان چونکہ شیر نہیں ہے اس لیے اس میں عقل بھی زیادہ ہے اس عقل کا برا ہوکہ اس نے آگ سے یاری کرلی ہے ورنہ سوئی نادرن کی گیس کا سیاپا ہی نہ ہوتا۔مجھے سوئی نادرن والوں پر بڑا پیار آتا ہے ۔کتنا معصوم ساقومی ادارہ ہے ۔قدرتی گیس نکل آئی اور اس ادارے میںکام کرنے والوں کے چولہے جل پڑے ،گاڑیاں چل پڑیں ،دفتر میں ہاؤ ہو،ہونے لگی۔ حالانکہ ان کے کرنے کے کام بڑے واجبی سے ہیں ۔میٹر ریڈنگ کرانا ،بل بھیج دینا،شاید کچھ اور کام بھی ہوں مگر فی الحال ذہن میں کیوں نہیں آرہے،خداجانے۔پشاور کے بیشتر علاقوں میں گیس پریشر کی کمی کے بارے سوئی نادرن کے کارندوں وافسران کا فلسفیانہ خیال یہ ہے کہ یہاں کی گئی پائپنگ پرانی ہے اس لیے پریشر کم ہے۔آپ خود سوچیے کہ اس قسم کے فلسفیانہ اور ریاضیانہ خیالات ضرور مرحوم فیثاغورث کے بھی ہوں گے جو اس ادارے کے نابغوں کے ہیں ،اور یہ خیالات کوئی نئے بھی نہیں ہیں بلکہ دس بارہ برس پرانے ہیں ،لیکن اب کا حل سوئی نادرن والوں کے پاس نہیں ہے ،وجہ اس کی یہ ہے کہ چونکہ وہ پائپ قدیم ہیں اس لیے کھدائی کرکے انہیں تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔اس کا ایک نقصان یہ ہے کہ جہاں ہماری اتنی قدیم اور اعلیٰ قدریں تبدیل کردی گئی ہیں وہاں یہ پرانے پائپ بھی تبدیل کردیے جائیں تو ہماری روایات کو کتنا نقصان ہوگا،یار کیسی تہذیبی سوچ ہے ،شاباش دینے کو دل کرتا ہے۔ویسے پرانے پائپوں اور پرانی اقدار میں ضرور کوئی بات مشترک ہوگی۔ دوسری بات یہ ہوسکتی ہے کہ چونکہ یہ پائپ پرانے ہیں اس لیے ان کی کھدائی کا کام محکمہ آثارقدیمہ کے سپرد ہونا چاہیے کیونکہ اس قسم کی کھدائیاں انہی کا کام ہوتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے انتھراپالوجی والے گورگٹھڑی کی کھدائی میں اتنے مشغول و مصروف ہیں کہ آٹھ دس سال وہ پشاور کے ان علاقوں کی کھدائی کا ٹھیکہ نہیں لے سکتے ۔پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان علاقوں کے لوگوں کو بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ آٹھ دس برس انتظار ہی کرلیں تو بہتر ہے ،کم از کم یہ بالکل بھی نہ کہیں کہ

دیر کرنا تیری عادت ہی سہی

دیر ہی سے مگر آجا

وقت کا کیا ہے کٹ ہی جاتا ہے اور موسم بھی تو آتے جاتے ہیں ۔آج سردی آئی تو کل گرمی آجائے گی۔سردی تو مزا لینے کی چیز ہے ہم یونہی گیس کا ہیٹر جلا جلا کر اس سردی کامزا کرکرا کردیتے ہیں۔سوئی نادرن والوں کے مشورے پر کم از کم عمل ہی کرلیں تو کتنا اچھا ہوکہ گھروں میں گرم کپڑے پہنیں اور ہیٹر نہ لگائیں ۔اب یہ تو ہماری غلطی ہے کہ سردی کے موسم میں بھی ہم گھروں میں ''ٹھنڈے ''کپڑے پہن کربیٹھتے ہیں۔خدا جانے سوئی نادرن والوں سے کس نے کہہ دیاکہ ہم گھرمیں گرم کی بجائے ٹھنڈے کپڑے پہن کر گھومتے ہیں کہ یہ بات انہوں نے سرکاری اشتہارات کی زینت بنادی ہے ،آخر پرائیویسی بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے ۔مسئلہ اداروں کا نہیں ہے ہم ہی کچھ زود رنج سے ہوگئے ہیں ،ہر بات پر الجھنا ،ہر بات میں کیڑے نکالنا،''بے جا''تنقید کرنا،قومی اداروں کی اعلیٰ کارکردگی پر لطیفے ایس ایم ایس سینڈ کرنا ،حالانکہ غلطی ہماری اپنی ہی ہے کیونکہ ہماری عادتیں جو خراب ہوگئی ہیں۔ سو ہمارے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ ہم دعائیں کرلیں یا کوئی تعویذ کروالیں کہ ہمارے علاقوں میں گیس کا پریشر پورا ہوجائے کیونکہ سوئی نادرن والوں نے تو ہتھیار ڈال لیے ، اپنی ناکامی تسلیم کرلی ہے ورنہ 12برس سے مسئلہ حل نہ ہوجاتا۔۔۔۔ گیس والے پریشان نہ ہوں کہ ہماری دعاؤں سے ان کی تنخواہوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور اگر ہماری دعائیں قبول ہوگئیں تو کریڈٹ تو انہیں ہی جائے گا۔

متعلقہ خبریں