Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

مشہور عابد و عارف شیخ فتح موصلی فرماتے ہیں کہ مجھے ایک بار جنگل میںایک نا بالغ بچہ نظرآیا جو ہونٹ ہلاتا ہوا جا رہا تھا۔ میں نے اسے السلام علیکم کہا' اس نے وعلیکم السلام کہہ کر جواب دیا۔ میں نے اس لڑکے سے پوچھا کہ بیٹا کہاں جا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ کعبہ شریف جا رہا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ تم اپنے ہونٹ کیوں ہلا رہے ہو؟

کہنے لگا: تلاوت قرآن پاک کی وجہ سے۔

میں نے کہا: ابھی تو تم مکلف نہیںہو پھر اتنی مشقت و فکر کیوں کر رہے ہو؟ اس نے کہا: میں نے موت کو دیکھا ہے کہ وہ مجھ سے چھوٹوں کو بھی نہیں چھوڑتی۔

میں نے کہا: تمہارے قدم چھوٹے ہیں اور راستہ(سفر) بہت لمبا ہے۔

وہ کہنے لگا: قدم اٹھانا میرا کام ہے اور منزل تک پہنچانا رب تعالیٰ کا کام ہے۔

میں نے کہا: زادراہ اور سواری بھی تو تمہارے پاس نہیںہے؟

وہ لڑکا کہنے لگا: میرا زادراہ دل کا یقین ہے اور سواری میرے اپنے پائوں ہیں۔

میں نے کہا: میں نے تو روٹی اور پانی کے متعلق سوال کیا ہے' یقین وغیرہ امور کے متعلق تو نہیں پوچھا؟

کہنے لگا: اے چچا! اگر ایک انسان آپ کو اپنے گھر آنے کی دعوت دے تو کیا آپ اپنے ساتھ زادراہ لے جانا درست سمجھیں گے؟

میں نے کہا: نہیں۔ وہ کہنے لگا: میرے مولیٰ یعنی رب تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنے گھر کی طرف بلایا اور زیارت کی اجازت دی تومیں نے اس کو قبیح سمجھتے ہوئے ادب کاخیال کیا۔ میں نے کہا: نہیں' ہر گز نہیں' وہ تجھے ضائع نہیں کرے گا۔ پھر وہ بچہ اچانک غائب ہوگیا' معلوم ہوتاہے کہ وہ بچہ کوئی صاحب کرامت ولی تھا۔ شیخ فتح موصلی فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں پھر اس بچے سے میری ملاقات ہوئی۔ تو اس نے کہا:

اے شیخ! کیا آپ کا یقین ابھی تک اسی طرح ضعیف ہے؟ پھر اس نے یہ اشعار پڑھے:

1۔تمام جہانوں کا رب میرے رزق کا ضامن ہے۔ پس میں کیوں رزق کے معاملے میں مخلوق کو تکلیف دوں۔

2۔میرا مالک میرے نفع و ضرر کا فیصلہ میری پیدائش سے پہلے کرچکا ہے۔

3۔حالت غناء میں مدار سخاوت و صدقات اور تنگ دستی میں میرا مدد گار و رفیق میری سچائی و حسن اخلاص ہے۔

4۔جس طرح میری کمزوری رزق کے لئے مانع نہیں ہے اسی طرح صرف ہوشیار ہونا بھی حصول رزق کا سبب نہیں ہوسکتا۔

آخری شعر میں ایک بڑے علمی نکتے کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ رزق کا مدار عقل مند ہونا یا ہوشیار ہونا نہیں ہے بلکہ رزق براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے تقسیم ہوتا ہے ورنہ ہر کم عقل مفلس ہوتا اور ہر عقل مند دولت مند ہوتا۔ جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ اکثر موقع میں معاملہ برعکس ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں