آخر کب تک

آخر کب تک

امریکہ نے پاکستان کوخبردارکیا ہے کہ اگر ملک کے اندرکارفرمادہشتگرد گروپوں کے ساتھ روابط بند نہیں ہوئے تو پاکستان اپنے علاقے کا کنٹرول گنوا بیٹھے گا، جو حلقے اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے پنپ رہے ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے یہ انتباہ ایسے وقت جاری کیا ہے جب امریکہ اور پاکستان باہمی تعلقات میں حائل بد اعتمادی کے معاملے میں بہتری لانے کے لئے نئے سرے سے سفارتی کوشش کررہے ہیں۔ایک جانب امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی سعی میں ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ تمام تر منفی بیانات ‘ تقریروں اور دھمکی آمیز لب و لہجے کے باوجود پاکستان کو امداد کی فراہمی بند کرنے کے متحمل نہیں ہو رہے ہیں ۔ شاید اس کا اثر زائل کرنے کے لئے امریکی ویر خارجہ نے تازہ بیان جاری کیا ہو۔ یہ کوئی پہلا بیان نہیں بلکہ اس طرح کے بیانات سن سن کر کان پک چکے ہیں مگر امریکی عہدیدار مرغ کی وہی ایک ٹانگ والی صورتحال سے باز نہیں آتے۔ امریکی عہدیدارپاکستان کو اس طرح کی دھمکیاں اور دھونس پہلے بھی دیتے رہے ہیں چونکہ بر سر زمین ان معاملات کا حقائق سے دور کا بھی تعلق نہیں اور نہ یہ امریکی حکام اپنے الزامات کی تصدیق کے لئے کسی قسم کے شواہد رکھتے ہیں اور نہ پیش کرنے پر تیار ہیں اس لئے ان الزامات کو محض دبائو کی پالیسی ہی کے زمرے میں دیکھا جانا چاہئے۔ اپنی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ وہ اس امر کے بھی خواہاں ہیں کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے ۔امریکیوں کی دانست میں دہشت گرد گروپ کابل سے توجہ ہٹا کر اسلام آباد کو ہدف بنانے کاسوچ سکتے ہیں۔کیا یہ تضادات کی انتہا نہیں کہ ایک جانب امریکی حکام پاکستان پر دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کا الزام دھر رہے ہیں اور دوسری طرف اسی بیان میں ان دہشت گردوں کے ہماری بلی ہمیں پہ میائوں کا خوف بھی دلا رہے ہیں۔ پاکستان کئی بار یہ وضاحت کر چکا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے نہیں ہیں۔ پاکستان کی طرف سے یہ پیش کش کی جا چکی ہے کہ امریکہ جن معلومات کی بنا پر یہ اصرار کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں ان معلومات کے حوالے سے پاکستان کو شریک کرے اور پاکستان ان ٹھکانوں پر کارروائی کرے گا۔ اس بات پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ امریکی خفیہ اداروںکو پاکستان کے بارے میں وسیع معلومات حاصل ہیں اور اگر ان کے علم میں ہوتا کہ پاکستان کی سرزمین کے کسی علاقے میں طالبان کے ٹھکانے ہیں تو وہ ضرور پاکستان کی اس پیش کش کو آزما سکتے تھے کہ امریکہ طالبان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرے‘ پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ یوں بھی کسی مسلح گروپ کا ٹھکانہ نہ کسی مقامی آبادی سے پوشیدہ رہ سکتا ہے اور نہ امریکی انٹیلی جنس کے وسائل سے خفیہ رہ سکتا ہے۔ یہ کہ پاکستان میں کسی بھی گروپ چند اہم امریکیوں کی جانب سے ایسی باتیں سامنے آئیں کہ طالبان کے برسر میدان نبرد آزما قیادت تو افغانستان میں ہے لیکن افغان طالبان کی مرکزی قیادت پاکستان میں مقیم ہے، یہ امکان قابلِ غور ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی بیس کروڑ آبادی میں خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مقیم تیس لاکھ افغانوں میں چند افراد کا پوشیدہ رہنا مشکل ضرور ہے لیکن بعید از قیاس نہیں۔ ان تیس لاکھ افغان باشندوں کی وجہ سے حکومت پاکستان کو خود مشکلات کا سامنا ہے۔ اس لاکھوں کی تعداد میں کسی اِکا دُکا شخص کی شناخت جنگل میں سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہے۔ کم ازکم اس وقت تک تو یہی صورتحال ہے۔ معروضی حالات اس امر پر دال ہیں کہ امریکہ پاکستان کی نہ سننے اور اپنی منوانے ہی کے جتن میں ہے۔ امریکہ پاکستان پر تو دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کیلئے دبائو ڈالتا ہے مگر خود افغانستان میں موجودگی اور اثر ورسوخ کے باوجود ان گروپوں سے تعرض تک نہیں کرتا۔ پاکستان اولاً خود دہشت گردی کا شکار ہے اس مختصر مدت میں کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گردی کے بد ترین واقعات ازخود اس امر کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف مسلسل نبرد آزما ہونے کے باوجود پاکستان ابھی تک دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ نہیں، ستم بالائے ستم ان واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملنے کے ٹھوس شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ ٹی ٹی پی کی افغانستان میں بیٹھی قیادت ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی ہے مگر مزید کوششوں کی فرمائش پھر بھی پاکستان سے ہوتی ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے حالیہ دورے میں بھی اسی کا اعادہ دکھائی دیا۔امریکہ اور پاکستان کی قیادت جب تک اس رویئے پر نظر ثانی نہیں کرتی خاص طور پر امریکہ جب تک معروضی حقائق کو سمجھنے کی سعی کیساتھ خطے کے ممالک کیساتھ تعلقات میں حقیقی توازن قائم نہیں کرتا اس وقت تک خطے میں استحکام کے مواقع کی امید حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا اور امریکی مطالبات‘ مطالبات اور فرمائشوں سے بڑھ کر کچھ وقعت کے حامل نہ ہوں گے اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور تعلقات میں بہتری ممکن ہوگی۔

اداریہ