Daily Mashriq

گیس کی لوڈشیڈنگ‘ عذر گناہ بدتر از گناہ

گیس کی لوڈشیڈنگ‘ عذر گناہ بدتر از گناہ

جنرل منیجر سوئی ناردرن گیس خیبر پختونخوا کا خیبر پختونخوا میں گیس کی لوڈشیڈنگ نہ ہونے کا دعویٰ کس حد تک سچا ہے اور کس حد تک لغو اس کا فیصلہ ہم گیس صارفین پر چھوڑتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں روزانہ کی بنیاد پر گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کے حوالے سے جو رپورٹیں اور شکایات شائع ہوتی ہیں اس سے صورتحال سب کے سامنے اور بخوبی واضح ہے جس کی وضاحت و تردید سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ جی ایم ایس این جی پی ایل گیس کی لوڈشیڈنگ اور صارفین کی مشکلات کا ایک جانب انکار کر رہے ہیں اور دوسری جانب انہی کے بیان میں اس کا اعتراف بھی ملتا ہے کہ فیلڈ آپریشن کے باعث صارفین کو گیس کی ضرورت کے مطابق ترسیل نہیں ہورہی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ واپڈا گرمیوں میں ٹرانسمیشن لائنز کی تبدیلی و مرمت کیوں کرتی ہے جبکہ ایس این جی پی ایل کو سردیوں میں آپریشن کی یاد کیوں آتی ہے۔ کیا یہ کام موسمی شدت اور صارفین کی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر نا ممکن نہیں۔ حیات آباد‘ گلبہار‘ زریاب کالونی اور جن جن علاقوں میں بد ترین لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے وہاں جی ایم کے بیان کے مطابق رات کے اوقات میں کو پریشر کی کمی نہیں ہوتی بلکہ دن کے اوقات میں بھی چولہا نہیں جلتا۔ ہیٹر اور گیزر کا استعمال تو دور کی بات ہے کیا ان علاقوں کو سالوں سال سے موجود گیس پائپ لائن موجود نہیں۔ اگر توسیعی منصوبہ بنایاگیا تھا تو اس پر گرمیوں میں کام شروع کیوں نہ کیا گیا اس پر چوبیس گھنٹے ہفتہ ہفتہ تو کام نہیں ہو رہا ہوگا۔ اصل مسئلہ گیس کے کم پریشر کا ہے جس کے محکمے کے پاس کوئی جواب‘ جواز اور توجیہہ نہیں۔ بہتر ہوگا کہ جی ایم ایس این جی پی ایل تکنیکی سہاروں کے پیچھے چھپنے اور اپنے محکمے کی کارکردگی کا غیر حقیقت پسندانہ دفاع اور موقف دینے کی بجائے گیس پریشر میں اضافے پر توجہ دے کر صارفین کو مشکلات سے نکالنے کی سعی کریں اور عوام کے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے کی نوبت نہ آنے دیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو بھی اس عوامی مسئلے کے حل کے لئے ایس این جی پی ایل کی انتظامیہ کو خصوصی ہدایات جاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کی مشکلات کا ازالہ نہیں تو کم از کم ممکنہ تدارک تو کیا جاسکے۔
مقامی وسائل سے صنعتوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی ضرورت
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور بھتہ خوری کی وارداتوں اور دیگر نا مساعد حالات کی بناء پر صوبے میں صنعتی ترقی محدود ہو چکی ہے۔ اٹھارہ سو صنعتی یونٹوں میں سے اب صرف چار سو یونٹ ہی پوری طرح فعال یا پھر شاید کم فعال ہیں۔ ا صورتحال کا مقابلہ مقامی طور پر صنعتی مواقع پیدا کرنے اور ان سے استفادے کے علاوہ کوئی اور طریقہ کار نظر نہیںآتا۔خیبر پختونخوا میں قدرت نے خام مال کی وافر دستیابی کی صورت میں صنعتی و زرعی ترقی اور کاروبار و روزگار کے بیشتر مواقع رکھے ہیں ۔صوبے میں مقامی وسائل اور مواقع کی مناسبت سے صنعت کے قیام کی ایک عمدہ مثال کے طور پر زیڈ آر کے کی مثال دینا غلط نہ ہوگا جس کا قیام ایک ایسے وقت میں عمل میں لایاگیا تھا جب 12 سو کے لگ بھگ صنعتی اداروں کی بندش اور کاشتکاروں پر مختلف قسم دبائو کے باعث خیبرپختونخوا کی معیشت کے دونوں شعبے یعنی زراعت اور صنعت شدید مشکلات کا شکار ہیں۔یہ صنعتی یونٹ جہاں اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کرکے پاکستان اور پڑوسی ملک افغانستان کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہاں مقامی نقد آور فصل کا استعمال کرکے مقامی کاشتکاروں کا معیار زندگی بہتربنانے میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے، خیبرپختونخوا کے انتہائی جنوب میں بھکر اور ڈیرہ اسماعیل خان کے علا قہ سے لے کر ملاکنڈ اور دیر اضلاع کی بائونڈری تک بشمول چارسدہ،مردان اور صوابی ’’زیڈ آر کے‘‘ ان تمام علاقوں میں کاشتکاروں سے پاپولر اور یوکلپٹس کی لکڑی اچھے داموں خرید کر نہ صرف ان کی معاشی حالت بہتر بنا رہا ہے بلکہ صنعت کا پہیہ بھی چلا کر ملکی معیشت سنوارنے میںاپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔مقام اطمینان امریہ ہے کہ ’’زیڈ آر کے‘‘ ایم ڈی ایف پلانٹ سو فیصد خام مال مقامی سطح پر دستیاب خام مال سے چل رہا ہے۔ لکڑی کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والا ایم ڈی ایف یا فائبر ووڈ جسے عام طور پر لاثانی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے دراصل لکڑی سے ہی تیار کیا جاتا ہے لیکن اس میں پاپولر یا سفیدے‘ یو کلپٹس جسے مقامی زبان میں لاچی کہتے ہیں اور اس جیسے دیگر درختوں کی لکڑی استعمال ہوتی ہے جس کے باعث یہ چیڑھ‘ دیودار‘ چلغوزہ اور دیگر قیمتی عمارتی لکڑی کے درختوں پر مشتمل قدرتی جنگلات کے بچائو کا ایک بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ اس وقت جس تیزی سے ہمارے ملک میں جنگلات کا رقبہ سکڑ رہا ہے اس کا تقاضا ہے کہ عمارتی لکڑی کے متبادل ایم ڈی ایف یا فائبر ووڈ کی صنعت کو فروغ دیا جائے اور ایسی صنعتی و تجارتی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے کہ ’’زیڈ آر کے‘‘ اور اس قسم کی دیگر مقامی صنعتیں برآمدی مال کا مقابلہ کرسکیں۔

اداریہ