Daily Mashriq

مداخلت یا خوف کی سیاست؟

مداخلت یا خوف کی سیاست؟

دنیا میں انتخابات پر کسی دوسرے ملک کے اثر انداز ہونے کا موضوع بہت پرانا ہے ان دنوں تو دنیا کی دو بڑی طاقتوں امریکہ اور روس کے درمیان اسی حوالے سے کھٹ پھٹ جاری ہے ۔امریکہ میں ایک موثر حلقے نے روس پر انتخابات میں مداخلت اور اثر انداز ہونے کا الزام عائد کیا تھا ۔اس بحث کا نچوڑ یہ تھا کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیاب کرانے کے لئے درپردہ کردار ادا کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ بحث کم ہو تی رہی مگر اس کے اثرات اب بھی جا ری ہیں ۔اب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست گجرات کے انتخابات پر اثرانداز ہونے کی پاکستانی کوششوں کی بات کرکے بھارتی سیاست میں ایک غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی ۔کانگریس گجرات میں جو مودی کے سیاسی ٹیک آف کی جگہ بھی ہے اور ان کی وزارت اعلیٰ کی بے شمار تلخ یادوں کی امین بھی، بی جے پی کے بیل کو سینگوں سے پکڑنے کی کوشش میں ہے ۔یہاں انتخابات میں نریندر مودی کئی سنجیدہ چیلنجز کا سامنا کررہے ہیں ۔اسی گرما گرمی کی فضا ء میں نریندر مودی نے اپنے الزام کے لئے دو باتوں کا سہار ا لیا ۔مودی کی پہلی دلیل پاک فوج کے ایک سابق ڈی جی ارشد رفیق کا ٹویٹ ہے جس میں کہا گیا کہ کانگریس کو گجرات کی وزارت اعلیٰ کے لئے سونیا گاندھی کے مشیر احمد پٹیل کو نامزد کرنا چاہئے ۔ مودی کی دوسری دلیل کانگریس کے راہنما سابق وزیر اورکالم نگار مانی شنکر آئیر کے گھر پر ہونے والی ایک ملاقات تھی جس میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری اور پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود کے علاوہ بھارت کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ اور سابق آرمی چیف دیپک کپور نے شرکت کی ۔اس نجی محفل کی خبر ایک ٹی وی چینل نے بریک کی اور مودی نے اسی کو پاکستان کی مداخلت کا رنگ دے کر اپنی انتخابی حریف کانگریس کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا ۔پاکستانی ہائی کمیشن نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی داخلی سیاست میں پاکستان کو گھسیٹنے سے گریز کیا جائے جبکہ من موہن سنگھ اور مانی شنکر آئر اس کے بعد تردیدوں اور بیانات میں اُلجھ کر رہ گئے ۔ مانی شنکر آئر نے مودی کو نیچ قرار دیا اور اس لفظ کے استعمال پر کانگریس نے ان کی رکنیت ہی معطل کر دی مگر مودی کا الزام اب بھی گرد اُڑا رہا ہے ۔من موہن سنگھ جو ذاتی حیثیت میں نرم خو انسان سمجھے جاتے ہیں باقاعدہ طور پر ایک وضاحتی بیان جاری کرنے پر مجبور ہوئے جس میں مودی پر گندی زبان استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ۔مسلمان راہنما اسد الدین اویسی کی طرف سے کہا گیا کہ اگر مودی کا الزام سچ ہے تو انہیں فوراََ اس جرم میں شریک افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے ۔مانی شنکر آئر نے گواہی کے طور پر اپنے گھر میں ہونے والی تقریب کے شرکاء کی باضابطہ فہرست جا ری کی جس میں خورشید محمود قصوری اور پاکستانی ہائی کمشنر کے سوا سب بھارت کے نامی گرامی شہری ہیں ۔جن کا تعلق فوج ،خارجہ امور،سیاست اور بیوروکریسی کے مختلف شعبوں سے رہا ہے۔انڈین ایکسپریس کے کالم نگار پرتاب بھانو مہتا نے Power and Insecurity کے عنوان سے لکھے گئے کالم میں کہا ہے کہ مودی کے اس الزام سے لگتا ہے کہ بھارت میں امید کی سیاست کی جگہ خوف کی سیاست جڑ پکڑ رہی ہے اور بھارت ایک دوراہے پر کھڑا ہے ۔اس سے بھارتی مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اُٹھیں گے ۔ نریند رمودی نے پاکستان پر ریاست گجرات کے انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کیا تو اس سے بھارت کی داخلی سیاست میں جہاں تنائو بڑھنے کے ساتھ ساتھ تنقید در تنقید کے کئی نئے باب کھل گئے وہیں یہ حقیقت بھی آشکارہ ہوئی کہ پاکستان اور بھارت کے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کسی نہ کسی سطح پر بیک چینل ڈپلومیسی جاری ہے ۔یہ کوششیں اگرچہ ابھی تک کوئی واضح عملی شکل اختیار نہیں کر سکیں مگر دونوں طرف سے سوچ وبچار کا عمل جا ری ہے ۔بھارت میں کانگریس نریندر مودی کو پیچھے کر کے امن گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کی خواہش مند ہے۔نریندر مودی نے بھارت میں جو پاکستان مخالف فضاء بنا ئی ہے اس میں کانگریس کا اس راہ پر چلنا سیاسی خود کشی سے کم نہیں اس کے باوجود کانگریس بھارت پر مودی ازم کے اثرات کو کم کرنے کے لئے تدابیر اختیار کر رہی ہے ۔شاید بین الاقوامی طاقتیں بھی یہ بات سمجھ چکی ہیں کہ نریندر مودی کا گرم اور لاٹھی سے ہانکنے والا سٹائل پاکستان کے لئے کارگر نہیں بلکہ اس پالیسی سے پاکستان مزید ردعمل کا شکا ر ہورہا ہے ۔اس لئے اب کانگریس او رمن موہن سنگھ کی’’ نرم گرم‘‘ پالیسی کو دوبارہ بروئے کار لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بھارتیوں کے کان میں’’ ڈومور ‘‘کی جو سرگوشی کی تھی شاید اس میں بھی کانگریس سے آگے آنے کا کہا گیا ہو۔نریندر مودی کی حکومت پاکستان کے ساتھ امن او ر خوش گوار تعلقات کو واجپائی کی لگیسی سمجھ رہی ہے اور وہ واجپائی اور ان کے ہمنوائوں سے جان چھڑا کر ایک نئی سخت گیر لگیسی کی وارث بن بیٹھی ہے ۔اس لئے انہیں واجپائی کی لگیسی کو آگے بڑھانے اور ساتھ لے کر چلنے میں دلچسپی ہی نہیں مگر کانگریس کے لئے یہ من موہن سنگھ اور اس سے بھی پہلے نوے کی دہائی کے کانگریسی وزیراعظم نرسہمارائو کی لگیسی ہے جس نے کشمیریوں کے مطالبات کے ماننے کے حوالے سے’’ سکائی از دی لمٹ ‘‘ کا معنی خیز جملہ کہا تھا ۔ 

اداریہ