Daily Mashriq


سانحہ اے پی ایس ‘احساس کرب مرنا نہیں چاہئے

سانحہ اے پی ایس ‘احساس کرب مرنا نہیں چاہئے

عام طور پر دسمبر کی آمد کو نعمتوں کی آمد کے طور پر تصور کیا جاتا ہے ۔کیونکہ یہ وہی مہینہ ہے جس میں پوری دنیا میں کرسمس ،نئے سال کی آمد کی تقریبات کی تیاریوںکا آغاز شروع ہوجاتا ہے ۔پاکستان کے لئے ملکی و سیاسی اعتبار سے دسمبر کی پچھلے چھیالیس سالوں سے بہت تلخ یادیں وابستہ ہیں ۔پچھلے سال 7دسمبر کے پی آئی اے کے طیارہ تباہ ہونے والے واقعے نے دسمبر کو غم ناک دسمبر بنا دیا ۔ 16دسمبرہر سال پاکستان کے حصے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا دکھ تازہ کرتا ہے ۔جس کا تمام تر قصور قیادت کے غلط فیصلوں اور پاکستان کے دشمنوں کو جاتا ہے ۔16دسمبر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن تو تھا ہی مگر 2014ء میں ہونے والے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے سانحے نے اسے مزید سیاہ کر دیا ۔ سال2014میں اسی تاریخ کو انسانیت کے دشمنوں نے 150سے زائدگھروں کے چراغ بجھا کر ظلم و بربریت کی ایسی تاریخ رقم کی جو بھلائے نہیں بھولے گی ۔پشاور میںآرمی پبلک اسکول میں رونما ہونے والے سانحے کو آج تین سال کا عرصہ بیت گیا ۔سانحہ آرمی پبلک اسکول نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ میں ایک انتہائی قابل نفرت اور قابل مذمت المیہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سانحہ پشاور المناک بھی تھا اور اندوہناک بھی جس کا پاکستان کے ہر طبقے نے نہ صر ف دکھ اور کرب کو محسوس کیا بلکہ اس خوفناک واقعے کی شدید مذمت بھی دیکھنے کو ملی ۔بکھرتی لاشیں دیکھ کر تڑپتے والدین ،روتے رشتہ دار اور غم و اندوہ کی کیفیت میں مبتلا پوری قوم اس کربناک سانحے کو تین سال بیت جانے کے بعد بھی اب تک سوگ کی کیفیت میں مبتلا ہے ۔سجھائی نہیں دے رہا کہ عین سقوط ڈھاکہ والے دن ہی مغربی پاکستان کی تعلیم پر حملہ کیوں کیا گیا ،کرنے کے مقاصد کیا تھے؟یقین نہیں آتا کہ اتنی منظم کار روائی آخر عمل میں آئی تو آئی کیوں؟کون سے ایسے ملک دشمن عناصر ہیں جو ملک توڑنے کی سر توڑ کوشش کرنے میں مصروف ہیں ۔دراصل یہ جال نیا ہے شکاری پرانے ،کھیل نیا ہے پر کھلاڑی پرانے۔

سازش در سازش انتشار در انتشار کے باوجود بھی جب کلیجہ ٹھنڈا نہ ہوا تو اجرتی قا تلوں سے وطن عزیز کے نشیمن کو خاکستر کروادیا۔150 سے زائد گھر اجڑ گئے ۔قصور کیا تھا پاکستانی ہونا ۔جرم کیا تھا سقوط ڈھاکہ والے دن سے سبق سیکھ کر آئندہ ایسی غلطی کا اعادہ نہ کرنا اور اتحاد و اتفاق کا عزم کرنا تھا۔

تعلیمی اداروں میں حملہ انسانیت سوز مظالم میں سے ایک ایسا ظلم ہے جو دنیا کے کسی مذہب کسی انسان اور کسی معاشرے میں کسی طور قابل قبول نہیں ۔یہ دہشت گردی کی بدترین شکل ہے ۔پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ۔ملک دشمن عناصر پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔مسلمانوں اور پاکستانیوں کے احساسات اور حوصلوں کو پست کرنے کی کوششوں میں دن رات مصروف ہیں ۔سانحہ آرمی پبلک اسکول پاکستانیوں کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش تھی لیکن صد شکر کہ وہ اپنی اس گھنائونی سازش میں ناکام ہوئے۔اس اہم موقع پر پاکستانیوں نہ صرف اپنے بہادراور غیور ہونے کا ثبوت پیش کیا بلکہ اپنے عمل سے دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ ’’ہم دشمنوں کا مقابلہ کرنا بہت اچھے سے جانتے ہیں ۔‘‘یہ پاکستانیوں کا ہی حوصلہ اور ظرف ہے کہ جو دہشت گردی کا کینسر پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اس کا نہ صرف بہادری سے مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ اس کے خلاف جنگ میں بھی اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھتے ہیں زور کتنا بازو ئے قاتل میں ہے

مجھے گمان ہے کہ ماضی کی طرح سانحہ پشاور بھی ایک تلخ یاد بن کر تاریخ کے اوراق میں گم ہوجائے گا ۔آج تین سال گزر نے پر اس سانحے کی خبریں اخبار،کالم ،ٹاک شوز،سوشل میڈیا، ہیڈلائنز پر چلیں ۔آج ہر اخبار ،ہر نیوز چینل اس سانحے کو اہمیت دے رہا ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ سانحہ اپنی اہمیت کھو دے گا ۔صحافی حضرات سے لیکر دیگر افراد کے ذہنوںمیں یہ سانحہ کتاب کے پڑھے ہوئے ورق کی مانند پلٹا جائے گامگر وہ والدین جن پر اللہ کی آزمائش آئی تھی وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی خیالی دنیا میں اپنے بچوں کو نوجوان اور پھر جوان ہوتا دیکھیں گے ۔ہر سال جب ان کی سالگرہ کا دن آئے گا وہ اس کی یاد کا چراغ روشن کریں گے۔ ان کے لئے16 دسمبر قیامت کا دن بن کر آئے گا ۔ذرا سوچیں جب والدین اتنی تکلیف میں مبتلا ہو ںگے تو پھر کس طرح ممکن ہے ان کے قاتل مکین جنت بنیں۔میرا ایمان ہے وہ انسانی چہروں والے حیوان تا قیامت دوزخ کا ایندھن بنتے رہیں گے کیونکہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔شاید ان نونہالوں میں سے کوئی ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کرتا ،کوئی انجینئر بن کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ،کوئی صحافی بن کر عوام کے سامنے سچائی بیان کرتا ،کوئی کھلاڑی بن کر دوسرے ممالک کے میدانوں میں وطنِ عزیز کا سبز ہلالی پرچم سر بلند کرتا ۔مگر افسوس صد افسوس نفرتوں کے کاشتکاروں نے امن کے پھولوں کو کھِلنے سے پہلے ہی ڈالی سے توڑ کر مسل ڈالا ۔

متعلقہ خبریں