Daily Mashriq

انوکھا لاڈلا

انوکھا لاڈلا

ہر سال آتا ہے دسمبر کا مہینہ اور جس سال وہ بین الاقوامی شہرت یافتہ سپوت پشاور، پروفیسر ڈاکٹر سیدامجد حسین کے بغیر چلا آئے تو یوں لگتا ہے جیسے پشاور میںدسمبر آیا ہی نہ ہو۔ پروفیسر ڈاکٹر سید امجد حسین جیسی نابغہ روزگار شخصیت سے اس مستعار زندگی میں میری ملاقات بہت کم ہوئی ہے ، شاید اس لئے کہ وہ جب بھی پشاور آتے ہیں ان کے گرد چاہنے والوں کا ایک جم غفیر جمع ہوجاتا ہے جن کی صفوں کو پاٹ کر ان تک رسائی حاصل کرنا ہم جیسے مرد ہیچ مدان کے بس کی بات نہیں رہتی۔ پروفیسر ڈاکٹر سید امجد حسین امریکہ میں رہتے ہیں امریکنوں کو میڈیکل سائنس پڑھاتے ہیں۔ ماہر امراض قلب ہیں، سائنسدان ہیں ، موجد ہیں، ایوارڈ یافتہ مصنف ہیں ، آرٹسٹ ہیں، فوٹو گرافر ہیں ،مہم جو ہیں، سیاح ہیں اور ان سب باتوں سے بڑھ کر ان کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ انہیں اپنے پشاوری ہونے اور پشاوری پن پر بے پناہ ناز ہے ، مجھے ان کا سالہا سال پرانا وہ جملہ آج بھی یاد ہے جب انہوں نے کہا تھا کہ میں پشاور سے کوسوں دور رہنے کے باوجود صبح دم آنکھیں بند کرکے پشاور پہنچ کر یہاں کی گلیوں اور بازاروں کی سیر کرنے نکل جاتاہوں۔ کہتے ہیں کہ میں آنکھیں بند کرکے دل ہی دل میں سوچتا ہوں کہ اس وقت پشاور شہر کی سبزی منڈی میں ٹریفک جام ہوچکی ہوگی۔ اس وقت پشاور کی کس گلی اور بازار کے مکین کس قسم کی سرگرمیوں میں مشغول ہونگے۔ شہر پشاور سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے بین الاقوامی شہرت کے حامل ڈاکٹر سید امجد حسین پشاور شہر کے موضوع پر تحقیق کرنے والے بے بدل محقق اور تاریخ دان بھی ہیں۔وہ پشاور کو اک شہر آرزو کہنے کے علاوہ اسے ’عالم میں انتخاب‘ کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں ۔اور اس شہر آرزو کے سارے رنگ اپنے گنبد ذہن میں محفوظ کرنے کے علاہ اسے کاغذی پیرہن بھی پہناتے رہتے ہیں ۔ پروفیسر ڈاکٹر امجد حسین نے پشاور شہر سے کوسوں دور رہ کر فصیل شہر کا ایک ایسا نقشہ بنا رکھا ہے جو نہ صرف ایک نقشہ ہے بلکہ دیکھنے والوں کو زبان حال سے فصیل شہر پشاور کے ماڈل ہونے کا اقراربھی کرتا نظر آتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سیدامجد حسین راقم السطور کے نام اور کام سے اس وقت مقدور بھر آشنائی رکھتے تھے جب انہوں نے1993ء کے دوران انگریزی زبان میں پشاور کی مختصر تاریخ 

The Frontier Town of Peshawar, A Brief History
لکھ کر اس کا نقش اول بڑے خوبصورت فارمیٹ میںشائع فرمایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف یہ کتاب بلکہ ہر وہ کتاب جو انہوں نے پشاور یا پشاور کی ثقافت کے حوالے سے لکھی راقم السطور کو تحفہ کرنا ضروری نہ سمجھا۔ بھلا کیسے تحفہ کر پاتے۔ کہہ چکا ہوں نا کہ وہ جب بھی پشاور آتے ہیں ان کے چاہنے والوں کاجھرمٹ ان کے گرد ایسا ہالہ بن لیتا ہے کہ انہیں مجھ جیسا ہیچ مدان آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق نظر ہی نہیں آتا۔ حالانکہ انہوں نے پشاور کی مختصر تاریخ پر لکھی جانے والی اپنی انگریزی کتاب کے نقش اول کے آخری صفحات پر اپنے قارئین کو Suggested Reading کے عنوان سے جن سات عدد کتابوں کو پڑھنے کی سفارش کی تھی ان میں راقم السطور کی 1977 ء میں شائع ہونے والی کتاب’’ ہندکو زبان و ادب کا تاریخی جائزہ ‘‘بھی شامل تھی۔ ڈاکٹر امجد حسین کی اس کمال مہربانی کا مجھے اس وقت علم ہوا جب ان کی آرکائیو ویلیو ز پر مبنی تصویروں بھری یہ نایاب کتاب اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی کے ڈاکٹر طارق رحمان نے تحفہ کی۔ چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک ، کہنے کو تو ڈاکٹر سید امجد حسین نے میری اس کاوش نا تمام کا مطالعہ کرنے کی سفارش اپنے پڑھنے والوں کو کردی جسے دیکھ کر یار لوگوں کے دل پر کیا گزری اس کے متعلق کچھ عرض کرنا میرے بس کی بات نہیں ، ، صرف اتنا عرض کرتا ہوں کہ
کب میرانشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
کے مصداق ان کے گرد ہالہ بنانے والوں نے ان کے ایسے کان بھرے کہ جب ڈاکٹر سید امجد حسین نے اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن چھاپا تو اس میں نہ راقم السطور کا نام تھا اور نہ ہندکو زبان و ادب کا تاریخی جائزہ پڑھنے کی سفارش درج تھی۔ اس پر طرہ یہ بھی لگا کے راقم السطورکی کتاب کے نام سے ملتے جلتے نام کی ایک کتاب چھپوا کر میری کتاب کی جگہ اس کتاب سے استفادہ کرنے کی سفارش کردی گئی۔
بھولے ہوئے جو غم ہیں انہیں یاد کیجئے
تب جاکے ان سے شکوہ بے داد کیجئے
ہم نے کبھی بھی ان سے شکوہ بے داد نہ کیا کہ ان کی طرح ہم بھی بھول چکے تھے وہ سب کچھ لیکن8 دسمبر 2017کو جب گندھارا ہندکو اکیڈمی کے سبزہ زارمیں چھٹی عالمی ہندکو کانفرنس کے دوران ان کے ساتھ بیٹھ کر پشاور یوں کی روایتی یا لوک دعوت اڑائی اور ان کے ساتھ ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دینے اور دل نادان کو دل پشوری کردینے والی ٹوٹا گپ لگی، تو ہم بے محابا پکار اٹھے کہ ابھی بچہ ہے سید پروفیسر ڈاکٹر امجد حسین پشاور شہر کی گلیوں میں کھیلنے کودنے والا 80 سالہ شوخ چنچل شرارتی کھلنڈرا بچہ،انوکھا لاڈلا ۔جو دسمبر کے مہینے میں پشاور پہنچتا ہے تو ٹھٹھرتا دسمبر جھوم جھوم کر کہنے لگتا ہے
پیاس بجھے کب اک درشن میں
تن سلگے بس ایک جلن میں
من بولے رکھ لوں نینن میں
کیسی انوکھی بات رے
انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند

اداریہ