Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حافظ ابن کثیرؒ نے حضرت علی المرتضیٰؓ کا یہ ارشاد مصنف عبدالرزاقؒ اور ابن ابی حاتمؒ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ دو دوست مومن تھے اور دو کافر‘ مومن دوستوں میں سے ایک کا انتقال ہوا اور اسے جنت کی خوشخبری سنائی گئی تو اسے اپنا دوست یاد آیا۔ اس نے دعا کی کہ خدایا! میرے فلاں دوست مجھے آپ اور آپ کے رسولؐ کی اطاعت کی تاکید کرتا‘ بھلائی کاحکم دیتا اور برائی سے روکتا تھا اور یہ یاد دلاتا تھا کہ مجھے ایک دن آپ کے پاس حاضر ہونا ہے۔ لہٰذا اس کو میرے بعد گمراہ نہ کیجئے گا تاکہ وہ بھی (جنت کے) وہ مناظر دیکھ سکے جو آپ نے مجھے دکھائے ہیں اور آپ جس طرح مجھ سے راضی ہوئے ہیں اسی طرح اس سے بھی راضی ہو جائیں۔ اس دعا کے جواب میں اس سے کہا جائے گا کہ جائو اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ میں نے تمہارے اس دوست کے لئے کیا اجر و ثواب رکھا ہے تو تم روئو کم اور ہنسو زیادہ۔ اس کے بعد جب دوسرے دوست کی وفات ہوچکے گی تو دونوں کی ارواح جمع ہوں گی۔ باری تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ تم میں سے ہر شخص دوسرے کی تعریف کرے تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کے بارے میں یہ کہے گا کہ وہ بہترین بھائی‘ بہترین ساتھی اور بہترین دوست ہے۔

اس کے برخلاف جب دو کافر دوستوں میں سے ایک کا انتقال ہوگا اور اسے بتایا جائے گا کہ اس کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو اسے بھی اپنا دوست یاد آئے گا۔ اس وقت وہ یہ دعا کرے گا کہ خدایا! میرا فلاں دوست مجھے آپ کی اور آپ کے رسولؐ کی نا فرمانی کرنے کا حکم دیتا تھا‘ برائی کی تاکید کرتا اور بھلائی سے روکتا تھا اور مجھ سے کہا کرتا تھا کہ میں کبھی آپ کے حضور حاضر نہ ہوں گا‘ لہٰذا اس کو میرے بعد ہدایت نہ دیجئے گا تاکہ وہ بھی (دوزخ کے) وہ مناظر دیکھے جو آپ نے مجھے دکھائے ہیں اور آپ جس طرح مجھ سے ناراض ہوئے ہیں اسی طرح اس سے بھی ناراض ہوں۔ اس کے بعد دوسرے دوست کا بھی انتقال ہو جائے گا تو د ونوں کی روحیں جمع کی جائیں گی اور ان سے کہا جائے گا کہ تم میں سے ہر شخص اپنے ساتھی کی تعریف کرے۔ تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کے بارے میں کہے گا کہ یہ بدترین بھائی‘ بد ترین ساتھی اور بد ترین دوست ہے۔ (ابن کثیر ص 134 ج4)

اسی لئے دنیا و آخرت دونوں کے لحاظ سے بہترین دوستی وہ ہے جو خدا کے لئے ہو۔ جن دو مسلمانوں میں صرف خدا کے لئے محبت ہو ان کے بڑے فضائل احادیث میں وارد ہوئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ میدان حشر میں یہ لوگ خدا کے عرش کے سایہ میں ہوں گے اور خدا کے لئے محبت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے سے اس بنا پر تعلق ہو کہ وہ خدا کے دین کاسچا پیرو ہے۔ چنانچہ علوم دین کے استاد شیخ و مرشد‘ علماء اور نیک لوگوں سے نیز عالم اسلام کے تمام مسلمانوں سے بے لوث محبت اس میں داخل ہے۔

( معارف القرآن)

متعلقہ خبریں