Daily Mashriq


اے پی ایس واقعے کو3سال بیت گئے لیکن دل پر لگے زخم اب بھی تازہ

اے پی ایس واقعے کو3سال بیت گئے لیکن دل پر لگے زخم اب بھی تازہ

ویب ڈیسک:16دسمبر وہ دن جب پاکستان کے شہر پشاورمیں سکول معصوم طلباءکا خون بہانے والوں نے ہمیں ایسا زخم دیا جو وقت گزرنے کے باوجود بھرنے کا نام ہی نہیں لیتا۔

تین سال پہلے آج ہی کے دن اے پی ایس کے طلبا کے والدین نے ہر روز کی طرح اپنے بچوں کو سکول ہی بھیجا تھا ماوں نے اپنے دلاروں کو رخصت کرتے ہوئے ایسا سوچا بھی نہ تھا ان کی آنکھیں پھر کبھی ان کا دیدار نہیں کر سکیں گی ۔ روز کی طرح بچوں نے اس دن بھی گھر سے نکلتے ہوئے واپسی پر معمول کے مطابق کچھ نہ کچھ پلاننگ بھی کی ہوگی۔ کہ واپس آکر کیا کیا کریں گے ۔ ان معصوم بچوں نے اس روز بھی اپنی نٹ کھٹ شیطانیوں کے بارے میں سوچا ہوگا کہ کس طرح اپنی زندگی سے لطف اندوز ہونگے اور ان کے والدین نے بھی اس دن یہ سوچا بھی نہ ہوگا کہ آج کے بعد  ان کے کان کبھی بھی اپنے بچوں کی آوازیں نہیں سن سکیں گے۔ سکول جانے والے بچوں اور ان کو بھیجنے والے والدین نے کبھی بھی یہ نہ سوچا ہوگا کہ آج وہ سکول نہیں مقتل جا رہے ہیں جہاں سے واپسی نہیں ہوتی بلکہ لوگ صرف ان کی واپسی کی راہ ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ اور 16دسمبر 2014کو تو اے پی ایس کے طلبا کے خون کی وہ نہر بہائی گئی جو کبھی بھلائی نہیں جا سکتی۔ یوں تو وقت گزرنے کے ساتھ ہر زخم بھر جاتا ہے لیکن یہ ایک ایسا زخم ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ اور گہرا ہوتا جاتا ہے، خاص طور پر شہید بچوں کے والدین کے زخموں کو آج کا دن نئے سرے سے کرید جاتا ہے اور وہ یہی سوال کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کا کیا قصور تھا ۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب نہ تو ان کو کوئی دے سکا ہے اور نہ ہی کبھی دے سکے گا، ہم صر ف شہداء کے درجات کی بلندی کی دعا کر سکتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ پھر کبھی معصوم بچوں کی کتابیں اور کاپیاں ان کے خون سے رنگین نہ ہوں۔

متعلقہ خبریں