Daily Mashriq


کارکردگی کا جائزہ یا سب اچھا کی رپورٹ

کارکردگی کا جائزہ یا سب اچھا کی رپورٹ

وزیر اعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا کی سہ ماہی جائزہ کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی وزرا کو تنبیہہ کی ہے کہ تمام وزرا کو ہر روز دفتر جاکر اپنا کام کرنا چاہیے اور جو وزیر کام نہیں کرے گا وہ بعد میں اپنی وزارت چھن جانے کی شکایت نہ کرے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ انہیں خوشی ہوئی کہ صوبائی حکومت نے کم عرصے میں 5 مہمان خانے بنائے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)نے صوبے میں عام انتخابات میں اس لیے کامیابی حاصل کی کیوں کہ اس نے عوام کی زندگی بہتر بنائی اور عوام نے اسے ووٹ دیا۔وزیر اعظم نے خطاب کے دوران ملک میں انتہائی کم سرمایہ کاری اور بے روزگاری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی سے ہماری بیورو کریسی سرمایہ کاری کو روکتی ہے، جس کی وجہ سے بے روزگاری جنم لیتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ریاست، جس کا نظام امیر کو امیر اور غریب کو غریب بنائے، وہ ریاست کس طرح فلاحی ریاست بن سکتی ہے؟وزیر اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں مدینہ کی ریاست کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ مدینہ کی ریاست کا مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے، تاہم پھر بھی ان کا نظام حکومت بہتر تھا، غریب ہونے کے باوجود مدینہ کی ریاست نے عوام کو رائلٹی دی اور تمام خلفائے راشدین نے سادگی سے زندگی بسر کی۔وزیراعظم عمران خان نے وفاقی حکومت اور وفاقی وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی طرح خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو بھی پاس ہونے کی جو سند جاری کی اسے سب اچھا کی رپورٹ ہی قرار دیا جائے گا۔یہ ممکن نظر نہیں آتا کہوفاقی اور صوبائی وزراء میں سے ہر وزیر کی کارکردگی اطمینان بخش ہو اگر واقعتاً ایسا ہی ہے تو پھر عوام کی جانب سے عدم اطمینان کا اظہار کیوں سامنے آرہا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اصولی طور پر تین ماہ کے دوران حکومت کی تشکیل اور عہدوں پر تقرریاں ہی مکمل نہیں ہو سکتیں لیکن چونکہ خود وزیراعظم نے اقتدار میں آنے سے قبل ہی سو دنوں کا پلان دیا تھا جس کیلئے وہ اخلاقی طور پر جوابدہ تھے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی حکومت کیلئے سب اچھا کی رپورٹ اپنے منہ میاں مٹھو بننے کے مصداق ہوتا ہے۔ سب اچھا کی رپورٹ یا تو جیل میں ممکن ہے یا پھر اس قسم کا تاثر بیورو کریسی ہی دے سکتی ہے۔ ایک عوامی قسم کی حکومت کے سربراہ کو کبھی بھی اپنی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہو نا چاہیئے چہ جا ئیکہ جس تین ماہ کے دوران مہنگائی میں تیس فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہو اس کا اعتراف نہ کیا جائے اور اس کی وجوہات کا جائزہ لیکرآئندہ کا لائحہ عمل نہ دیا جائے ۔صوبائی حکومت کی کارکردگی رپورٹ میں اگر بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر در تاخیر اور اربوں روپے کے مزید اخراجات کا ایک جائزہ پیش کیا جاتا اور اس کی وجوہات کے حوالے سے آگاہی دی جاتی ،صوبے کے تدریسی ہسپتالوں میں سابق تحریک انصاف حکومت کے دور سے ہونے والی اصلاحات کے ثمرات اور اس حوالے سے غیر جانبدار عوامی آرا پیش کی جاتیں اسی طرح تعلیم کے شعبے میں گزشتہ دور سے اب تک کی اصلاحات اور تعلیمی ایمرجنسی کی حقیقت بیان کی جاتی اسی طرح دیگر محکموں کی کارکردگی اعدادو شمار اور دستاویزات کی روشنی میں جائزہ لیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ البتہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورے کے دوران بے گھر افراد کیلئے پناہ گاہ کا افتتاح کر کے صوبے میں فٹ پاتھوں پر سونے والے مجبور افراد اور دور دراز سے آئے ہوئے محنت کشوں کیلئے سہولت کا ساماں ضرور کیا ہے جسے نہ سراہنا زیادتی ہوگی۔ بہر حال قابل غور امر یہ ضرور ہے کہ صوبائی حکومت نے اتنی عجلت میں اس کے لئے عمارت کا انتظام کیسے کیا قبل ازیں یہ عمارت کس مقصد کیلئے استعمال ہورہی تھی جسے اب پناہ گاہ کا ردجہ دیا گیا ۔جہاں تک وزراء کو تبدیل کرنے کی تنبیہہ کا سوال ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تنبیہہ وزیراعلیٰ کی طرف سے ہوتی تو زیادہ مناسب تھا جبکہ بیوروکریسی کے حوالے سے وزیراعظم کے سخت الفاظ کی ادائیگی اس لئے مناسب نہ تھی کہ بیوروکریسی اصول وضوابط کے مطابق سرکاری امور چلانے کی پابند ہے۔ سیاسی حکومتوں کا بیوروکریسی کے ساتھ لچکدار رویہ خود حکمرانوں کے مفاد میں ہوتا ہے بصورت دیگر خود حکومت ہی کو شکایت ہوگی کہ بیوروکریسی ان سے تعاون نہیں کرتی۔ وزیراعظم نے صحت کے محکمے کے جن دو سیکریٹریز کے عدم تعاون کاتذکرہ کیا اس موقع پر اگر ان کے خلاف کارروائی کی بھی نوید سنائی جاتی تو بیورو کریسی کیلئے مئو ثر پیغام ہوتا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ بیورو کریسی ہر حکومت کا مزاج دیکھ کر ہی چلتی ہے اگر محکمے کا انچارج وزیر سرکاری معاملات کو قانون کے مطابق نمٹا نے میں دلچسپی لے تو بیوروکریسی روڑے نہ اٹکا سکتی لیکن اگر وزیر کیلئے ضوابط نرم اور سرکاری ملازمین کیلئے سخت کی پالیسی اختیار کی جائے گی تو معاملات میں رکاوٹ ہونافطری امر ہوگا۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کی کارکردگی کو وزیراعظم کس نظر سے دیکھتے ہیں یہ اہم نہیں اہم بات یہ ہے کہ یہاں کے عوام اس کی کارکردگی سے کس حد تک مطمئن ہیں ؟۔

متعلقہ خبریں