Daily Mashriq

سانحہ اے پی ایس کا سوگ

سانحہ اے پی ایس کا سوگ

آج سے ٹھیک چار سال قبل دسمبر کی سولہ تاریخ کوآرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے بہیمانہ حملے میں اساتذہ سٹاف اور بچوں کی شہادت اور زخمی ہونے کا جو المناک واقعہ رونما ہوا تھا اسے چند سالوں بعد توکیا صدی بعد بھی بھلا یا نہیں جاسکے گا۔ دسمبر کا مہینہ آتا ہے تو خیبرپختونخوا اور بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور پر ویسے بھی سوگ کی کیفیت طاری ہوتی ہے ۔حملے میں جو معصوم بچے نشانہ بنے اور دہشت گردوں کامقابلہ کرتے ہوئے جتنے جوان شہید وزخمی ہوئے ان کا دکھ تو قومی دکھ تھا اور ان کا سوگ قومی سوگ تھا ہی قدرت نے قربانیوں اور شہادت کے اعزاز سے کسی صوبے کو محروم نہ رکھااور ملک کے کونے کونے سے آرمی پبلک سکول میں زیر تعلیم بچے شہید ہوئے اور ہر ضلع میں پھولوں کے جنازے گئے۔ شاید مشیت ہی یہ ہو کہ پوری قوم سوگواریت کے اس احساس میں قومی یکجہتی کا ایک ایسا پرتاثیر سبق سیکھ لے کہ یہ بدترین دہشت گردی دہشت گردوں کی آخری بڑی مذموم کا رروائی ثابت ہواوراس کے بعد قوم دہشت گردی کے اس عفریت پر غلبہ پالے۔چار سال قبل یہ آج ہی کا دن تھا جب پشاور میں دہشت گردی کی وہ بدترین اور سفاکانہ واردات ہوئی جس کی تاریخ انسانی میں مثال نہیں ملتی۔ اس سانحے کا دکھ ہر اہل وطن کے دل میں آج بھی زندہ ہے لیکن جن والدین کے معصوم بچوں نے اس دن شہادت پائی ان ماں باپ اور ان کے عزیز واقارب کا دکھ ناقابل بیان ہے ۔ حکومت نے شہداء کے لواحقین کی دستگیری اور ہم وطنوں نے ان کا دکھ بانٹنے کی تو بہت سعی کی مگر ان کے درد کی دوا کسی کے پاس نہیں۔ زخمی بچوں کے علاج معالجے میںبھی سستی نہیں برتی گئی لیکن بہرحال سہوکی گنجائش سے انکار نہیں۔ حکومت نے اپنے تئیں سعی بسیار ضرور کی ہوگی لیکن ایک ایسی تشنگی کا دلی احساس ضرور ہوتا ہے کہ ایسا کچھ ہوناچاہئے کہ ہم اپنے شہداء اورزخمی بچوں اساتذہ وسکول عملہ کی قر بانیوں کو سدا یاد رکھ سکیں۔ آج یوم سوگ بھی منایا جارہا ہے عقیدت کے طور پر شہداء کے ناموں سے تعلیمی ادارے منسوب کئے جاچکے ہیں۔مگر ایک تشنگی کا احساس اور کسک باقی ہے کہ کوئی ایسا بڑا حوالہ ہو جوان شہداء کی قربانیوں کے شایان شان ہو اور جسے دیکھ کرکر ب کے لمحات سے گزرے معصوم بچے' ان کے والد ین اور جملہ اہل وطن کو ایک گونہ اطمینان ہو ۔ آئیے اس موقع پررب ذوالجلال کے حضور شہدائے آرمی پبلک سکول کے درجات کی مزید بلند ی' غازیان آرمی پبلک سکول سمیت تمام اہل وطن کی سلامتی' اس پاک وطن کی ترقی وخوشحالی واستحکام کے لئے سجدہ ریز ہو کر دعا مانگتے ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے پر آمین کہتے ہیں۔

بچوں پر تشدد کسی صورت نہ ہونے دیا جائے

حیدرآباد پولیس نے سرہندی مسجد کے قاری کو مدرسے کے طلبا پر ربر کے پائپ سے تشدد کرنے پر گرفتار کرکے اچھا اقدام کیا ہے۔ اس طرح کے اقدامات ہی سے بچوں پر تشدد کی روک تھام ممکن بنانے کی طرف پیشرفت ہوسکے گی۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں قاری کو تشدد کرتے دیکھا جاسکتا ہے، اس دوران ویڈیو بنانے والا شخص قاری کو جسمانی تشدد سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔جس کے بعد دونوں کے درمیان چند جملوں کا تبادلہ ہوتا ہے اور قاری ویڈیو بنانے والے شخص سے کہتا ہے کہ وہ مدرسے کے امور میں مداخلت نہ کرے اور اپنی نماز ادا کرے۔ویڈیو میں مزید دیکھا گیا کہ دونوں کے درمیان جملوں کے تبادلے کے بعد قاری نے ایک مرتبہ پھر بچوں پر تشدد شروع کردیا۔ ویڈیو بنانے والے شخص نے تشدد کی تکلیف سے رونے والے ایک بچے سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ کل اور پرسوں غیر حاضر تھا۔ہم سمجھتے ہیں کہ بچوں پر تشدد صرف دینی مدارس ہی میں نہیں سکولوں میں بھی ہوتا ہے جس کی روک تھام کی سعی ہونی چاہیئے لیکن دینی مدارس میں بچوں پر بدترین تشدد کے واقعات کا تناسب زیادہ ہے جہاں استاد تشدد ہی کے ذریعے بچوں کو پڑھانے کا قائل نظر آتا ہے۔ اگرچہ قانون کے مطابق بچوں پر تشدد کی کوئی گنجائش نہیں لیکن تنبیہہ اور تعزیر کی حد تک اس کی گنجائش کی دلیل سے اتفاق بھی کیا جا ئے تب بھی بہیمانہ تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس قسم کی صورتحال سے اعتراض کے متلاشی عناصر کو بھی دینی مدارس کے ماحول کو اچھالنے کا موقع ملتا ہے۔ تشدد معاشرے کے کسی بھی حصے اور کسی کے بھی خلاف ہو قابل مذمت فعل ہے کجا کہ معصوم بچوں پر ظلم ڈھایا جائے ۔ دینی مدارس کے اساتذہ کرام اور مساجد کے آئمہ حضرات کو اپنے اپنے دائرہ اثر میں اس قسم کی ناپسندیدہ اور ناقابل برداشت حرکات کی کسی طور اجازت نہیں دینی چاہیئے اور بچوں کی تعلیم و تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق شفقت اور پیار محبت کا ماحول یقینی بنایا جانا چاہیئے۔توقع کی جانی چاہیئے کہ ہمارے علمائے کرام نہ صرف مساجد اور مدارس بلکہ پورے معاشرے میں تشدد کے عنصرکے خاتمے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے ۔

متعلقہ خبریں