Daily Mashriq


جناب وزیر اعظم! انتخابی وعدے پورے کیجئے

جناب وزیر اعظم! انتخابی وعدے پورے کیجئے

وزیر اعظم عمران خان نے سابق حکومت کے ذمہ داران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شریف برادران نے 40ارب 35کروڑ اپنی بادشاہت پر اڑا دئیے۔ ہم عوام کے پیسے پر عیاشی کے شوقین نہیں۔ بادشاہت کی جگہ فلاحی ریاست کے قیام کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وزراء کو خبردار کیا جو کام نہیں کرے گا وہ گھر جائے گا۔ کام نہ کرنے والے بیورو کریٹس کو بھی چلتا کریں گے۔ سرمایہ کاری کے راستے میں بیورو کریسی رکاوٹ ہے۔ وزیر اعظم کی خدمت میں بصد احترام یہ عرض کیا جانا ضروری ہے کہ سابق حکمرانوں پر تنقید ان کا سیاسی حق ہے مگر زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ اب وہ اپنے منشور اور انتخابی وعدوں کی تکمیل پر توجہ دیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کو ختم کرنے کے لئے اقدامات کریں اور ایسی پالیسیاں بنوائیں جن سے لوگوں کی حالت زار بہتر ہو۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ بھی دیکھیں کہ ٹیکسوں میں اضافہ کی بدولت کیا مسائل پیدا ہوئے۔ بجا ہے کہ محض تین ماہ کے دورانیہ پر کامیابی و ناکامی کے اسناد اور فتوے جاری کرنا ممکن نہیں لیکن اس امر پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ابتدائی تین ساڑھے تین ماہ میں نئی حکومت کو اگلے ماہ و سال کے لئے جو پالیسیاں وضع کرلینی چاہئے تھیں وہ وضع کرلی گئیں۔ پارلیمان نے قانون سازی کے فرائض ادا کرنا شروع کردئیے۔ مہنگائی اور غربت کے خاتمے کے لئے حکومت نے اب تک کیا اقدامات اٹھائے؟

صوبائی اور وفاقی وزراء کو بلا شبہ اپنے فرائض کی ادائیگی پر توجہ دینی چاہئے تاکہ روز مرہ کے امور انجام پاتے رہیں اس کے ساتھ ساتھ وزراء کو اس امر پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہئے کہ رائے دہندگان کی حالت زار میں کوئی بہتری آئی ہے کہ نہیں۔ سرمایہ کاری کے لئے موثر اقدامات کے ساتھ ون ونڈو آپریشن ضروری ہے اور اس سے زیادہ اہم بات یہ ہوگی کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد کیسے حاصل کیا جائے۔ بیورو کریسی اگر سرمایہ کاری کو اچھی چیز نہیں سمجھتی تو اس سے متبادل دریافت کیا جانا چاہئے۔ ویسے عجیب بات ہے بیورو کریسی اپنی تنخواہوں مراعات اور حاکمیت کے دبدبہ سے بنے مصنوعی ماحول کو کیسے بہتر سمجھتی ہے؟ نظام میں اصلاح کرنا' قانون سازی اور سرمایہ کاری لانے کے لئے مناسب ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بیورو کریسی حکومتی نظام کا ستون ہے مالک کل ہر گز نہیں۔ اس ملک میں نظام ہائے حکومت' اداروں کی ناقص کارکردگی' عدم استحکام اور دوسرے مسائل میں دیگر طبقات کے ساتھ بیورو کریسی بھی ذمہ دار ہے۔ منتخب نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ بیورو کریسی کو ذہن نشین کروائیں کہ وہ سول سرونٹ ہیں تاجداران ریاست ہر گز نہیں۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب منتخب قیادت بھی خود کو حاکم سمجھنے کی بجائے عوام کا خادم سمجھے اور اخلاص کے ساتھ طبقاتی خلیج کو کم کرنے کے لئے کوششیں کریں۔ مروجہ سیاسی نظام میں ہر نئی حکومت پچھلی حکومت پر تنقید کے ہنر استعمال کرتی ہے۔ ماضی کے حکمرانوں سے غلطیاں سر زد ہوئی ہوں گی دیکھنا یہ ہے کہ کیا موجودہ حکمران ان غلطیوں سے بچ کر آگے بڑھنے کی شعوری کوششیں کرتے ہیں یا زبانی جمع خرچ سے وقت گزارنے کی کوشش۔

پشاور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے فلاحی ریاست کے قیام کی بات کی یہ خوش آئند ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا فلاحی ریاست کا خواب محض تقاریر سے شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے؟ اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے قدم پر حکمران طبقات کچھ قربانیاں دیں۔ ارکان پارلیمنٹ ' وزراء اور مشیروں کی لگ بھگ 90 فیصد تعداد کا تعلق معاشرے کے بڑے دولت مند طبقات سے ہے کیا وہ اپنی تنخواہوں اور مراعات سے غریب ہم وطنوں کے لئے دستبردار ہونے کو تیار ہیں یا کم از کم ان میں پچاس فیصد کمی پر۔ الزامات اور پروپیگنڈے کے سہارے دور اقتدار مکمل نہیں ہوتا لازم ہے کہ ان وعدوں کے ایفا پر توجہ دی جائے جو عوام سے کئے گئے تھے۔

مکرر عرض ہے تین ساڑھے تین ماہ کے دوران قومی و صوبائی اسمبلیوں سے کسی ایک معاملے میں بھی قانون سازی نہیں ہوسکی۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے ملک کے سات بڑے شہروں راولپنڈی' لاہور' پشاور' کراچی' فیض آباد' ملتان اور حیدر آباد میں پینے کے صاف پانی کی مقدار میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ آمدنی و اخراجات میں عدم توازن بڑھ رہا ہے یہ اور ان جیسے دوسرے مسائل کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو قرار دینا یقینا غلط ہوگا لیکن ان مسائل کے حل کے لئے اب تک کیا ہوا یہ سوال دریافت کرنا غلط نہیں۔ حکومت کا چوتھا مہینہ ختم ہونے کے قریب ہے اب تک خارجہ پالیسی کے حوالے سے پارلیمان میں کوئی بحث ہوئی نہ حکومت نے اپنی ترجیحات سے پارلیمان اور عوام کو آگاہ کیا۔ گیس کے حالیہ بحران کے پیش نظر اگر پاک ایران گیس منصوبے پر ملکی مفاد میں غور کرلیا جاتا تو زیادہ مناسب تھا۔ میڈیا انڈسٹری مالیاتی بحران سے دو چار ہے۔ پنجاب میں صحت' بلدیات' زراعت اور لائیو سٹاک کے محکموں کے پنشنروں کو کئی کئی ماہ پنشن نہیں ملتی بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ہر ادارہ اپنے حصے کا کام کرنے کی بجائے دوسرے ادارے کا کام سنبھالے ہوئے ہے۔ خدا لگتی بات یہ ہے کہ اس تاثر سے عدم اعتماد میں اضافہ ہوا۔ وزیر اعظم کو اس بد اعتمادی کے خاتمے پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ حرف آخر یہ ہے کہ بلا امتیاز احتساب پر دو آراء ہر گز نہیں مگر دکھائی یہ دے رہا ہے کہ احتساب کا عمل جانبداری کا شکار ہے۔ اس تاثر کو عملی طور پر زائل کرنے کی ضرورت ہے۔ نظام انصاف میں جن اصلاحات کی ضرورت ہے ان پر بھی توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔ ہمیں امید ہے کہ جناب وزیر اعظم ملک کو ایک فلاحی ریاست بنانے کا اپنا وعدہ پورا کرنے کے لئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے اور اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ کم سے کم وقت میں عوام کو خوشگوار تبدیلی کا احساس ہو۔

متعلقہ خبریں