Daily Mashriq

ادھر ہم ادھر تم

ادھر ہم ادھر تم

وہ محب وطن پاکستانی تھا، اس کو غدار بنادیا گیا ، پھر اس کو اس طرف دھکیل دیاگیا کہ اس کو لندن بھجوا دیا گیااور پھر وہ مشرقی پاکستان جاکر بنگلہ دیش کا صدر بن گیا ۔ یہ بات شیخ مجیب الرّ حما ن کے ساتھ جیل میں دن کاٹنے والے اسپیشل برانچ کے ایک افسر انار خان نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میںکہی ۔ انار خان پولیس میں اس وقت انسپکٹر کے عہدے پر فائز تھے ۔ ان کو شیخ مجیب الرّحمان کے ساتھ جیل میں ان پر نظر رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا اور وہ شیخ مجیب الرّ حما ن کی رہا ئی تک ان کے ساتھ آخری وقت تک رہے۔ جب بھٹو مرحوم نے سہالہ ریسٹ ہاؤس میں شیخ مجیب الرّحمان سے ملا قات کی اس وقت بھی انار خان جو پو لیس سے ایس پی کی حیثیت سے ریٹائرہوئے وہاں بنفس نفیس موجود تھے اور ان کے سینے میں یہ ساری ملا قات اور اس دوران ہو نے والی گفتگو محفوظ ہے ۔ انار خان نے اپنے انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ جب سہالہ ریسٹ ہاؤس میں بھٹو شیخ مجیب الرّحمان کے کمر ے میں داخل ہوئے تو مجیب ان کو دیکھ کر ٹھٹک گئے اور استفسار کیا کہ بھٹو تم یہاں کیسے ،تم کو کس نے اجازت دیدی ، جس پر بھٹو مرحوم نے کہا کہ وہ اس وقت چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر ہے، جس پر شیخ صاحب نے کہا کہ تم کیسے مارشل ایڈمنسٹریٹر ہو۔ جس پر بھٹو نے بتایا کہ مشرقی پاکستان بھارت نے فتح کرلیا ہے اور یحییٰ کواتار کر خود اقتدار سنبھال لیا ہے۔ یہ سن کر شیخ مجیب ایک دم اچھل کر کھڑا ہوگیا اور زور زور سے کہنے لگا یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے ،جب بھٹو نے ان کو یقین دلا دیا کہ ایسا ہوچکا ہے تو شیخ صاحب نے کہا کہ میں اکثریت کا منتخب لیڈر ہوں تم تو شکست خور دہ ہو تم کیسے وزیراعظم بن سکتے ہو یہ میرا حق ہے ، اس کے بعد انہوں نے بھٹو سے مطا لبہ کیا کہ ان کو ٹی وی اور ریڈیو پر لے جاؤ وہ ابھی اپنی قوم سے خطاب کرتے ہیں۔ مشرقی پا کستان اسی طرح پا کستان کا حصہ رہے گا بھارتی فوج کو نکال دیاجائے گا۔اس موقع پر بھٹو نے مبہم ساجو اب دیا۔ اس کے بعد شیخ مجیب دھڑام سے بستر (پلنگ) پر بیٹھ گئے اور بھٹو سے کہا کہ زلفی تم نے وہ کر دکھایا جو کہا تھا کہ ادھر ہم ادھرتم ، اب تم خوش ہو ۔ بھٹو جب شیخ مجیب سے ملا قات کے بعد چلے گئے تو شیخ مجیب نے دھاڑ ے مارمار کر رونا شروع کر دیا اور بار بار میز پر مکّے مارنا شروع کر دیئے۔ انار خان کے بقول شیخ مجیب ساری رات روتے رہے اور ان کی حرکات وسکنا ت کو ریکارڈ کر نے والی آپریٹر نے انار خان کو بتایا کہ شیخ مجیب سجدے میں گرکر روتے ہوئے بنگالی میں ساتھ ساتھ یہ الفاظ بولتے جا رہے تھے کہ یا اللہ یہ تو میں نے کبھی نہ چاہا تھا ،اے اللہ میں نے یہ تو کبھی نہ چاہا تھا ،انار خان نے اپنے انٹر ویو میں بہت سارے انکشاف کیے ہیں جس سے سقوط ڈھاکا کی کہانی کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان یوں تو کئی سانحات سے دو چار ہوچکا ہے مگر اب تک چار بڑے سانحات ہوئے ہیں ان میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کا قتل ، جنرل ضیا ء الحق مرحوم کے جہاز کا حادثہ جس میں فوج کی تقریباً ساری قیادت شہید ہو گئی ، سقوط مشرقی پاکستان اور سانحہ آرمی پبلک سکول شامل ہے۔ یہ چاروں سانحات اہل پاکستان اور اسلامی امہ کے لیے بے حد درد ناک المناک اور غمزدہ ہیں ، ان تما م سفاکیوں کے باوجو د اہل پاکستان نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک جلیل القدر قوم ہے جو پاکستان کے لیے قربانیوںسے ہٹنے والی نہیں۔ جابروں کے سامنے ڈٹ جا نے والی قوم ہے ، جہاں تک سقوط ڈھاکا کا تعلق ہے تو آج بھی پوری قوم اس پر اسرار واقعہ کی کھوج میں ہے کہ اس کے ذمہ داروںکا تعین کیوں نہیں ہو سکا ۔ قوم ہنوز متلاشی ہے کہ سقوط مشرقی پاکستان کی اصل سازش کیا تھی اور اس کے کرداروںکو مقام عبرت تک کیو ں نہیں پہنچایا گیا۔ پاکستان کے ایک عظیم سپوت مرحوم بریگیڈئیر (ر) حیا ت خان کاجن کا ضلع صوابی سے تعلق تھا کہنا تھا کہ وہ مشرقی پاکستان میں جیسور اور کھلنا کے محاذ کی کمان سنبھالے ہوئے تھے کہ ان کو حکم آیا کہ ہتھیار ڈال دو وہ حیر ان رہ گئے کیونکہ وہ تو پیش قدمی کرکے بھارت کے علاقے میںگھس گئے تھے اور مزید پیش قدمی جاری تھی ،ایسی حالت میں انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔حقائق یہ ہی کہتے ہیں کہ مشرقی محا ذ پر پاکستان کو شکست نہیں ہوئی تھی ۔ ممتا ز مسلم لیگی رہنما اقبال احمد خان مرحوم نے پا کستان کے معروف اور کئی کتابوں کے مصنف منیر احمد منیر کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے سقوط ڈھاکا سے متعلق کئی اہم انکشافات کیے ہیں ، جس سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ شیخ مجیب پاکستان سے علیحدگی نہیں چاہتے تھے ، یہ انٹرویو اب کتابی شکل میں موجود ہے ، اقبال احمد خان نے سردار شوکت حیا ت کے حوالے سے بتایا کہ ڈھاکا میں پاکستان مسلم لیگ کونسل کے صدر ممتا ز دولتانہ اور سردار شوکت حیات جب شیخ مجیب الرحما ن سے ملے اور ان سے دوٹوک جواب مانگا کہ شیخ صاحب آپ نے پاکستان ایک رکھنا ہے یا پاکستان دورکھنے ہیں ، اگر آپ نے پاکستان کو توڑنا ہے توپھر ہمارے بس میں نہیں ہے کہ آپ کو بچالیں ، اگر پاکستان کو ایک رکھنا ہے تو پھر بیٹھ کر مسائل پر بات چیت کرلیں جس پر مجیب نے جواب دیا کہ میاں صاحب میں پاکستان کیسے تو ڑ سکتا ہو ں (باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں