Daily Mashriq

شہید جاتے ہیں جنت کو گھر نہیں آتے

شہید جاتے ہیں جنت کو گھر نہیں آتے

آج سولہ دسمبر ہے۔ سولہ دسمبر2018 جس کا ایک ایک لمحہ ایک ایک گھڑی اور ایک ایک ساعت اس قیامت صغرایٰ کو یاد کرنے کے لئے طلوع ہوئی ہے جب ستارے ٹوٹے نہ زمیں پر زلزلہ آیا۔ پہاڑ رائی کے گولے بن کر اڑے نہ زمین پیتل کی بنی اور نہ سورج سوا نیزے پر آیا اور آرمی پبلک اسکول پشاور کے فرشتے ابتلائے قیامت کا شکار ہوگئے ، ایک قیامت آگئی قیامت سے پہلے ۔ آج سے چار برس پہلے کی بات ہے ۔ وہ16دسمبر2014 کی عام سی صبح تھی ، ہر کوئی اپنے اپنے کام کاج میں مصروف تھا، سڑکو ںپر ٹریفک رواں دواں تھی ، جو دکان دار دیر سے دکان کھولنے کے عادی ہیں انہوں نے ابھی اپنی دکانیں نہیں کھولی تھیں ، کچھ ایسے بھی تھے جو ابھی ابھی اپنی دکانیں کھول کر جھاڑ پونچھ کررہے تھے ، بہت سے لوگ اخباروں کے اسٹال پر کھڑے اخبارات کی شہ سرخیاں دیکھ رہے تھے کسی کو کچھ خبر نہیں تھی کہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں قیامت صغریٰ ٹوٹ رہی ہے ۔ اور پھر یہ ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح سارے شہر ہی میں نہیں پورے ملک میں پھیل گئی اور پھر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سبب دیر نہ لگی اس خبر کو پورے کے پورے گلوبل ویلج کو اپنی لپیٹ میں لینے کی۔آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا ، ظالموں نے آگ اورانگارا بنے لوہے کی بوچھاڑ کردی، خون کی ندیاں بہادیں درندہ صفت دہشت گردوں نے ، ہائے وہ معصوم بچے جو اپنے اپنے گھروں سے اپنے ممی ڈیڈی کو اپنی زندگی کا آخری سلام کہہ کر گلے میں اسکول کی کتابوں اور کاپیوں کا بستہ لٹکائے ہاتھوں میں منا سا لنچ باکس لئے بڑی سج دھج سے یونیفارم پہنے اسکول جانے کو نکلے تھے۔گڈوکو یہ زعم تھا کہ اس نے اسکول سے ملنے والا ہوم ورک بڑے نستعلیق انداز سے اپنی نوٹ بک پر مکمل کیا ہے۔ جسے دیکھ کر اس کی مس اس کی نوٹ بک پر نہ صرف ایکسیلنٹ لکھے گی بلکہ اس کے رخسار پر منا سا سٹار بھی بنائے گی۔ وہ کب جانتا تھا کہ ٹیچرز بچوں کے رخسار پر جس سٹار کا نشان بناتی ہیں وہ اسرائیل کے جھنڈے سے کتنا ملتا جلتا ہے۔ اس بات کا ادراک تو اسکی ٹیچر کو بھی نہیں تھا بھلا اسے کیوں اور کیسے معلوم ہو پاتا کہ ان کے رخساروں اور نوٹ بکس کے صفحوں پر بال پین کے چند اسٹروکس سے بنا دیا جانے والا یہ نشان کہ وہ کس ملک یا قوم کے جھنڈے سے مشابہت رکھتا ہے۔ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی لیکن اس وقت اس کی قیمت سونے سے بھی زیادہ ہوجاتی جب اسے کسی کی کارکردگی کا انعام بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ گڈو کے برعکس پپو کو یہ فکر لاحق تھی کہ وہ آج اپنا ہوم ورک مکمل نہ کر پایا سارادن ویڈیو گیمز کھیل کر اس نے ضائع کردیا۔وہ آج اسکول سے چھٹی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اس کی ممی نے اس کے کان میں کہا کہ اگر تم چھٹی کرو گے تو تمہارے ابو تمہیں ڈانٹ دیں گے۔ میں اپنا ہوم ورک گڈو کی نوٹ بک دیکھ کر مکمل کر لوں گا اس نے دل ہی دل میں کہا اور اپنی منی سی کمر پر اسکول کا بستہ اٹھائے امی کے ہاتھ سے ٹفن تھاما اور اپنے منے منے ہاتھوں کو لہرا کر اپنی امی ابو کو ٹا ٹا کرکے اسکول کی بس کی جانب بڑھنے لگا۔ امی! ابو سے کہنا میرے لئے گیند اور بلا ضرور لائے میں اسکول سے واپس آکر لان میں کرکٹ کھیلوں گا۔ لاؤں گا بھئی لاؤں گا احمد کے ابو نے اسکول جاتے احمد کی آواز سن کر جواب دیا اور یوں احمد بھی ابو امی کو سلام کرکے اسکول کابستہ کمر پر لادے یہ جا وہ جا نکل کر اسکول بس کی آمد کے انتظار میں کھڑا ہوگیا۔ ہائے کسی کو کیا معلوم تھا کہ ان کے گھر آنگن کے یہ ننھے پھول جو ٹا ٹا، گڈ بائے، السلام علیکم ، اللہ حافظ کہہ کر ان سے رخصت ہورہے ہیں انہوں نے لوٹ کر واپس نہیں آنا۔ ان کی زبان سے ادا ہونے والے صبح پرنور کی گواہی بنتے یہ الوداعی جملے ان کی زندگی کا سلام آخریں ثابت ہونگے ۔کسی کو کیا معلوم تھا کہ ان بچوں کی معصوم مسکراہٹوں کی اوٹ سے جو نغمے پھوٹ رہے ہیں کہ ہمیں ماتھے پہ بوسہ دوکہ ہم کو تتلیوں کے جگنوؤں کے دیس جانا ہے۔

آرمی پبلک اسکول پر حملہ آور ہونے والے دہشت گرد اسکول کی پچھلی دیوار پھلانگ کر اسکول میں داخل ہوئے، وہ اسکول کے ہال میں داخل ہوئے وہاں پر انہوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کرکے بچوں کو علم کی روشنی پہنچانے والے اساتذہ اور ان پھول اور کلیوں کے خون سے اپنے جبڑے رنگنے شروع کردئیے جن کو ان کے ماں باپ نے زیور تعلیم سے آراستہ کرنے بھیجا تھا۔ دہشت گرد فرنٹیئر کور کے سپاہیوں کی وردی پہنے ہوئے تھے ، وہ اسکول کے ہال سے نکل کر کلاس رومز پر حملہ آور ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے144افراد کو شہید کردیا، ان ایک سو چوالیس شہداء میں 132بچوں کی عمر9سے18برس کے درمیان تھی ۔ کل سات درندے تھے وہ ، ایک نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور6مارے گئے ۔ پشاور کیا شاید پاکستان بھر کی تاریخ کا یہ مہلک ترین سانحہ تھا ، جس کی یاد منانے والے ہر سال خون کے آنسو رو کر منے شہیدوں کو اور ان کے والدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ، جبھی تو ان ننھے پھولوں کو خراج عقیدت پیش کرنے والے اپنی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ان کا انتظار کرتے رہتے ہیں ، اور دوسری طرف داعی اجل پکار پکار کر کہتا ہے

نہ انتظار کرو ان کا عزادارو

شہید جاتے ہیں جنت کو گھر نہیں آتے

متعلقہ خبریں