Daily Mashriq


ناقابل شکست کی شکست

ناقابل شکست کی شکست

بھارت کی پانچ ریاستوں کے انتخابات میںبظاہر ناقابل شکست اورناگزیر سمجھے جانے والے نریندر مودی کے اقتدار کی اُلٹی گنتی شروع ہوگئی۔پانچ میں سے تین ریاستوں مدھیہ پردیش ،راجھستان اور چھتیس گڑھ میں بھارتیہ جنتاپارٹی کو کانگریس کے ہاتھوں شکست ہوئی تو میزورام اور تلنگانہ کی ریاستوں میں علاقائی جماعتوں نے اسے چاروں شانے چِت کر دیا ۔پانچ ریاستوں کے انتخابات میں آنے والے عام انتخابات کی دھندلی سے تصویر بنتی دیکھی جا سکتی ہے ۔اگلے برس مئی میں بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات ہونا ہیں اور ان انتخابات میں بی جے پی کا مقابلہ کانگریس سے ہوگا ۔کانگریس ایک بار پھر نہرو خاندان کی براہ راست قیادت ونگرانی میں آچکی ہے اور ''پپو'' کہلانے والے راہول گاندھی نریندر مودی کے طاقتور حریف کے طور پر اُبھرچکے ہیں۔کانگریس علاقائی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے بھارتیہ جنتا پارٹی کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔بھارت کے ایک سیاسی مبصر نے اسے عام انتخابات کا سیمی فائنل میچ قرار دیا گویا کہ اس کے نتائج سے عام انتخابات کے نتائج کا کچھ نہ کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔نریندر مودی کی سیاست کے سیاسی عروج میں نفرت کو مرکزی مقام حاصل رہا ہے۔بالخصوص مسلمانوں کے بارے میں مودی کا دامن اس قدر داغدار ہے کہ گنگا اور جمنا کے پانی بھی اسے پاک پوتر نہیں بنا سکتے۔گجرات کے مسلم کش فسادات میں بطور وزیر اعلیٰ کردارمودی کی سیاست اور امیج کو بھوت کی طرح چمٹ چکا ہے۔ وزیر اعظم بننے کے لئے انہوں نے ایودھیا میں بابری مسجد کی راکھ اور ملبے پر رام مندر کی تعمیر کے اشارے کنایے استعمال کئے مگر معاملہ چونکہ عدالت میں تھا اس لئے وہ اس معاملے میں عملی پیش رفت نہ کر سکے۔اس کے باوجود انہوں نے ہندو توا سیاست کو مضبوط کرنے کے لئے مسلمانو ں کے خلاف نفرت انگیز مہمات پر یا تو خاموشی اختیار کی یا ان کی خاموش سرپرستی کی ۔گائو کشی کے خلاف انتہا پسند ہندوئوں کو ساری شہ اسی خاموشی سے ملتی رہی۔اس مہم میں بے شمار مسلمانوں کو ہجوم کے ہاتھوں نہایت ظالمانہ انداز میں سفاکی کے ساتھ جانوں سے محروم ہونا پڑا۔سفاک اور وحشی ہجوم کی طرف سے بزرگ اور نوجوان مسلمانوں سے جے شری رام اور پاکستان اور اسلام مخالف نعرے زبردستی بلند کروائے جاتے رہے اور ان کی وڈیوز بنا کر اپ لوڈ کی جاتی رہیں۔ مودی نے یوپی جیسی اہم ریاست کی وزارت اعلیٰ کے لئے یوگی ادتیہ ناتھ جیسے جوگی اور مسلمان دشمن کردار کومنتخب کیا۔جس میں مسلمانوں کے لئے معنی خیز پیغام تھا اوریوگی نے اپنے ایجنڈے کی تکرار اور اصرار ریاستی انتخابات میں بھی جاری رکھی ۔یوگی ادتیہ ناتھ کا یہ جملہ بہت حیرت کے ساتھ سنا گیا اگر تلنگانہ میں بی جے پی جیت گئی تو مسلمان راہنما اسدالدین اویسی کو نظام حیدر آباد کی طرح پاکستان بھاگنا پڑے گا ۔بظاہر تو یہ محض انتخابی نعرہ تھا مگر یہ انتہاپسند ہندو مائنڈسیٹ کا عکاس تھا۔ مودی نے نہرو خاندان کو طبقہ اشرافیہ اور کانگریس کو طبقہ اشرافیہ اور خاندانی حکمرانی کی محافظ جماعت جبکہ خود کو ایک عام چائے والا ثابت کرکے بھارت کے عام طبقات کی توجہ وحمایت حاصل کی تھی مگر کچھ عرصہ قبل ایک مالیاتی سکینڈل نے دنیا کو بتادیا کہ ان کا حکمران اب چائے والا نہیں بلکہ ارب پتی بن چکا ہے۔اس طرح مودی کا عام آدمی اور کلاس کا حصہ ہونے کا تصور کمزور پڑتا چلا گیا ۔مودی نے جس نفرت کی بنیاد پر اقتدار حاصل کیا اور نفرت کی ہی بنیاد پر اسے تسلسل دینے کی کوشش کی مگر عام آدمی کی ہر مشکل کا حل نفرت میں نہیں ہوتا ۔بھارت کی معروف خاتون صحافی برکھا دت نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک طویل مضمون میں مودی کی اس پالیسی پر یہ طنزیہ تبصرہ کیا ہے کہ ''بھوکا پیٹ بھجن نہیں ہوتھ گوپالا''یعنی خالی پیٹ بھجن نہیں گا سکتا۔برکھا دت کے مطابق مودی اپنے نفرت بھرے ہندو توا ایجنڈے کو معاشی ایجنڈے میں تبدیل نہ کرسکے۔مودی کی شکست میں نفرت انگیز ایجنڈے کے علاوہ ناکام معاشی پالیسیوں کا گہرا دخل ہے ۔مودی حکومت کو پہلا دھچکا 2016میں اس وقت لگا تھا جب حکومت نے بڑے کرنسی نوٹوں پر پابندی عائد کی تھی ۔پانچ سو اور ہزار نوٹوں کی تبدیلی اور پابندی تھی اس کے ساتھ ہی حکومت نے دوہزار کا نوٹ بھی متعارف کرایا ۔اس کی زد عام دوردراز دیہاتی عوام ،چھوٹے کاروباری طبقے پر پڑی ۔اس لئے انتخابات میں انہوںنے جم کر یہ قرض چکا دیا ۔اس طرح ووٹر کی توقعات اور خواہشات کو حقیر جاننے والوں کے لئے ایک سبق ہے کہ ووٹر کس قدر مجبور اور بے بس ہو کبھی نہ کبھی پلٹ کر حملہ کرکے اپنی ذلتوں اور رسوائیوں کا بدلہ لیتا ہے ۔یوں لگ رہا ہے کہ مودی کا سیاسی زوال اب نوشتہ دیوار ہے مگر اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات اور مسئلہ کشمیر پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایجنڈا اسلام پاکستان اور کشمیردشمنی پر مبنی ہے جبکہ پاکستان کے حوالے سے کانگریس میٹھی چھری ہے ۔حقیقت میں دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔اس لئے ہمیں بھارت میں ہار جیت کے اس کھیل سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں۔ تاریخ میں کئی بار کانگریس ڈوبتی اُبھرتی رہی ہے مگر پاکستان اور بھارت کے مسائل کا پرنالہ اپنی جگہ ہے جو اس بات کا ثبوت ہے بھارت کی داخلی صورت گری پاک بھارت تعلقات پر کسی حدتک اثر انداز تو ہو تی ہے مگر اس سے کوئی جوہری تبدیلی رونما نہیں ہوتی ۔

متعلقہ خبریں