Daily Mashriq

پاک امریکہ تعلقات کی تبدیل ہوتی کیفیت

پاک امریکہ تعلقات کی تبدیل ہوتی کیفیت

وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دھمکیوں کی بجائے مذاکرات کی میز پر آئے کیونکہ پاک امریکہ تعلقات میں پیشرفت دھمکیوں اور امداد کی بندش سے نہیں جامع اور خوشگوار ماحول میں بات چیت سے ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان بالا میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کیا۔ خرم دستگیر نے کہا کہ گزشتہ 16 برسوں میں امریکہ نے افغانستان میں کھربوں ڈالر خرچ کئے۔ اس دوران امریکہ کے ہزاروں فوجی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے۔ امریکہ کو 16 برسوں کی فوجی کوششوں کے بعد بھی سلطنتوں کے قبرستان میں کامیابی نہیں ملی اور اربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا تو پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قیمتی انسانی جانوں کی قربانی اور بنیادی ڈھانچے کا نقصان ہوا۔ ہم کسی امداد یا مالی فائدے کیلئے اس جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ ہماری سرزمین سے روزانہ 200 پروازیں کی گئیں‘ پاکستان نے 30 لاکھ سے زائد افغانوں کی میزبانی کی اور اب بھی کر رہا ہے‘ کیا کوئی اس کی قیمت لگا سکتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر دفاع کی جانب سے امریکہ کو مذاکرات کی دعوت اسلئے مبہم مطالبہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان خواہ کشیدگی پر مبنی صورتحال ہو یا پھر معمول کے حالات مذاکرات بہرحال ہوتے رہتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ٹرمپ کی توہین آمیز ٹویٹ سامنے آئی تھی اس وقت بھی سفارتی و عسکری دونوں سطحوں پر امریکہ سے مذاکراتی عمل میں رکاوٹ نہیں آئی تھی۔ وزیر دفاع کے بیان کو اگر ان معنوں میں لیا جائے کہ امریکہ اب پاکستان کیساتھ ایک جداگانہ ماحول میں اور پہلے سے برعکس انداز میں مذاکرات کی میز پر آئے تو یہ زیادہ درست مفہوم ہوگا۔ پاکستان اور امریکہ اتحادی اور دوست ہونے کے باوجود درحقیقت ایک دوسرے کو دشمن ملک ہی سمجھتے رہے ہیں اور یہی ان کی پالیسیوں کا محور اور قریب قریب حقیقت بھی ہے۔ پاکستان قبل ازیں اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ وہ متبادل تیاری کیساتھ امریکہ کا سامنا کرے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ پاکستان متبادل بلکہ بہتر متبادل کے حصول کی منزل کو پاچکا ہے جس کی بناء پر امریکہ یہ سمجھنے لگا ہے کہ پاکستان خطے میں ان کے مدمقابل اتحاد سازی کی سعی میں ہے۔ امریکی اس ضمن میں کیا سوچ رہے ہیں وہ اس رپورٹ سے بخوبی واضح ہے۔ امریکہ کی17 انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کانگریس کو خبردار کیا ہے کہ2019 میں پاکستان امریکہ کے اثر ورسوخ سے باہر نکل کر چین کے مدار میں داخل ہو جائے گا اور یہ عمل جنوبی ایشیائی خطے میں واشنگٹن کے مفادات کیلئے خطرے کا باعث بنے گا۔ اس رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں ایجنسیوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کی جانب سے نئے جوہری ہتھیاروں کی تنصیب، عسکریت پسندوں سے تعلقات کو برقرار رکھنا، انسداد دہشتگردی کے تعاون کو روکنا اور چین کیساتھ قریبی تعلقات امریکی مفادات کیلئے خطرے کا باعث بنیں گے۔ رپورٹ میں اسلام آباد کے جوہری پروگرام کا ایک مختصر جائزہ پیش کرتے ہوئے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کانگریس کو بتایا کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کی پیداوار جاری رکھے ہوئے ہے اور کم فاصلے تک کے ٹیکٹیکل ہتھیار، سمندری کروز میزائل، ایئر لانچ کروز میزائل اور بڑے فاصلے تک جانیوالے بیلسٹک میزائل سمیت نئے طریقوں کے ہتھیار تیار کر رہا ہے چونکہ یہ رپورٹ امریکہ کی قابل ذکر ایجنسیوں کی مرتب کردہ ہے اسلئے اسے یکسر مسترد تو نہیں کیا جاسکتا لیکن امریکی ایجنسیاں قبل ازیں عراق سمیت دیگر ممالک کے بارے میں جو رپورٹیں مرتب کرکے امریکہ کو خجالت کے مواقع سے دوچار کر چکی ہیں وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ امریکی ایجنسیوں کی اس رپورٹ کے اجراء کے پس پردہ منصوبہ بندی میں پاکستان کیخلاف سازش اور پاکستان کو امریکی عوام اور حکومت کے سامنے ایک ہوا کے طور پر کھڑا کرنے کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے جس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ بہرحال قوم کیلئے یہ رپورٹ دوسری جانب ایک گونہ اطمینان کا باعث بھی ہونی چاہئے کہ پاکستان اپنے تمام تر داخلی مسائل ومشکلات کے باوجود خطے میں اور عالمی سطح پر اپنے وقار کے تحفظ کیلئے کوشاں ہے۔ امریکہ کو روس‘ چین اور پاکستان کے باہم اقتصادی روابط اور مواصلاتی طور پر قربت واتصال کی مساعی پر تشویش نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی امریکہ کو پاکستان میں جدید اسلحہ کی تیاری اور تزویراتی قوت ودفاع پر تشویش کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور پاکستان کا جس قسم کے دشمنوں سے پالاہے اس کے پیش نظر کم سے کم دفاع اور بھرپور اور جوابی صلاحیت کا خود کو حامل بنائے رکھنا مجبوری ہے۔ امریکہ کو اگر خطے میں امن اور پاکستان کیساتھ قابل قبول تعلقات مطلوب ہیں تو اسے چاہئے کہ وہ خطے میں بھارت کی سرپرستی سے باز آجائے اور خطے کی ترقی کے منصوبوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ اس طرح جہاں خطے میں اس کیخلاف اتحاد کی ضرورت کی شدت میں کمی آئے گی وہاں خود امریکہ کی خواہ مخواہ کی تشویش کی صورتحال میں بھی تبدیلی ممکن ہوگی۔

متعلقہ خبریں