Daily Mashriq

ایک انار سو بیمار

ایک انار سو بیمار

ہمارے نمائندے کے مطابق پشاور کے ہسپتالوں میں شہریوں کیلئے مطلوبہ تعداد میں بستروں کی گنجائش دیکھتے ہوئے کم ازکم دو نئے ہسپتال قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ شہر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مجموعی بستروں کی گنجائش4602ہے جبکہ مردم شماری کے اعداد کی روشنی میں پشاور کے ہسپتالوں میں3998 مزید نئے بستروں کی ضرورت ہے۔ اگر دارالحکومت ہونے کے باوجود بھی پشاور کے سرکاری ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد کم پڑ رہی ہے تو دوردراز اضلاع میں تو صورتحال ضرور اس سے مختلف نہ ہونا فطری امر ہوگا۔ صوبائی دارالحکومت کی آبادی کے تناسب سے ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد کا تعین کرنا اس لئے مناسب نہیں ہوگا کہ پشاور کے تین بڑے ہسپتالوں میں صرف پشاور شہر سے مریض علاج معالجے کے لئے نہیں آتے بلکہ صوبے کے تدریسی ہسپتال ہونے کی بناء پر پورے خیبر پختونخوا اور ساتوں قبائلی ایجنسیوں کے علاوہ افغانستان سے بھی مریضوں کی بہت بڑی تعداد ان ہسپتالوں میں لائی جاتی ہے جبکہ لاکھوں کی تعداد میں مقیم افغان مہاجرین اس کے علاوہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ہسپتالوں میں صبح وشام جس وقت بھی جانا پڑے رش سے واسطہ پڑتا ہے اور ڈاکٹرز وپیرا میڈیکل سٹاف اُکتاہٹ، تھکاوٹ اور چڑچڑا پن کا شکار ملتا ہے گوکہ اس ساری صورتحال کے ادراک کے ساتھ منصوبہ بندی کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی صوبائی حکومت کے وسائل اس کے متحمل ہو سکتے ہیں لیکن بہرحال جب بھی منصوبہ بندی کی جائے ان تمام مسائل کا حقیقت پسندانہ طور پر جائزہ لینے اور اس کے مطابق منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت میں اگر مریضوں کا علاج معالجہ ان تین تدریسی ہسپتالوں میں ممکن ہوتا تو ان ہسپتالوں سے کہیں زیادہ تعداد میں لوگ نجی کلینکس اور نجی ہسپتالوں سے رجوع نہ کرتے اور آئے روز تجارتی بنیادوں پر عمارتیں کھڑی کرکے وہاں پر علاج کی فروخت کا منافع بخش دھندہ نہ چل رہا ہوتا۔

نجی سود کے خلاف قانون کہاں گیا؟

صوابی کے علاقے ٹوپی میں سود خوروں سے تنگ آکر ایک شخص نے خود کو گولی مارکر اپنی زندگی کا خاتمہ کردیا، ٹوپی کے رہائشی نے اُدھار چکانے کیلئے پچاس لاکھ روپے مالیت کا گھر بھی سود خوروں کے ہاتھوں اونے پونے داموں فروخت کیا تھا لیکن پھر بھی اُنہوں نے اُس کا پیچھا نہیں چھوڑا، جس پر اس نے تنگ آکر اپنے آپ کو گولی ماردی، مقتول تین بچوں کا باپ تھا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے نجی سود کے خاتمے کے لئے باقاعدہ طور پر منصوبہ بندی اور قانون سازی کا دعویٰ تو بہت سننے میں آتا ہے اس ضمن میں پولیس کو بھی با اختیار بنا دیا گیا ہے مگر صوبہ بھر سے اس قانون کے تحت سود خوروں کی گرفتاری اور لوگوں کو نجی سود کی لعنت سے چھٹکارا دلانے کی کوئی قابل ذکر کارروائی ریکارڈ پر نہیں۔ صوابی میں مظلوم شخص کا بالآخر تنگ آکر زندگی کا خاتمہ اس امر پر دال ہے کہ نہ صرف ٹوپی صوابی میں نجی سود کا کاروبار عروج پر ہے بلکہ علاقہ پولیس بھی حسب روایت سود خوروں سے تعرض نہ کرنے کی پرانی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اپنی کل متاع لٹانے کے بعد اپنی زندگی بھی ظالم سود خوروں کی بھینٹ چڑھا دی۔ بیوی اور تین بچوں کو سوگوار اور سود خوروں کا مقروض چھوڑ گیا، بعید نہیں کہ سود خور سوئم کے بعد اس مظلوم خاندان کا دروازہ پھر کھٹکھٹا کر اور دھمکیاں دے کر مزید رقم طلب کرکے سوگوار خاندان کو ہراساں کریں۔ بناء بریں اولین طور پر علاقہ پولیس کو ہدایت کی جانی چاہئے کہ وہ فوری طور پر ان سود خوروں کو گرفتار کرے اور ان پر قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا جائے۔

سرکاری اور نجی سکولوں بارے جدا جدا قوانین

صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری سکولوں میں پانچویں اور آٹھویں جماعت کے بورڈ امتحانات سے قبل جائزہ امتحان لازمی قرار تو دے دیا گیا ہے لیکن غالباً سرکاری سکولوں ہی میں اس پر عمل درآمد ہوگا کیونکہ نجی سکول نہ تو اسے تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی وہ ایسا کرنے پر تیار ہیں۔ اس ضمن میں نجی سکولز عدالت سے بھی رجوع کر چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تعلیمی بورڈز سمیت صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کی مکمل ناکامی اور عملداری نہ رکھنے کی وجہ ہے کہ وہ نجی سکولوں کو اس لئے ڈھیل دئیے ہوئے ہیں کیونکہ یہ بااثر افراد کی ملکیت ہے جنہوں نے تعلیم کو منافع بخش ترین تجارت بنا کر رکھ دیا ہے۔ صوبائی حکومت اگر سنجیدہ ہے تو پھر نجی سکولوں کو بھی اس جائزہ امتحان کا پابند بنائے وگرنہ سرکاری سکولوں میں اس تکلف کی بھی کوئی ضرورت نہیں، ان سکولوں کا جائزہ میٹرک کے نتیجے میں سامنے آتا ہی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس ضمن میں متعلقہ حکام کو اپنی منصوبہ بندی کا احساس ہوگا اور وہ سرکاری اور نجی سکولوں کو ایک ہی قانون کا پابند بنائیں گے۔

متعلقہ خبریں