Daily Mashriq

منفعت اک ہے اس قوم کی

منفعت اک ہے اس قوم کی

علامہ محمد اقبالؒ کے ان اشعار سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان امت کے مختلف قوموں‘ قبیلوں اور ملکوں کے درمیان اختلاف وافتراق سے وہ بھی سخت نالاں وپریشان تھے۔ اپنی اعلیٰ اور دردمندانہ شاعری کے ذریعے بہت کوشش کی کہ قطار سے نکلی ہوئی اونٹنی کو دوبارہ صف میں لایا جاسکے لیکن ان کی یہ آرزو ’’بسا آرزو کہ خاک شد‘‘ کے مصداق بنی۔ اس سے پہلے بھی ان سطور کے ذریعے کئی بار عرض کیا جا چکا ہے کہ علامہؒ نے1930ء میں جب خطبات اِلہ آباد پیش کئے تو1931ء میں انہیں سید سلمان ندویؒ اور راس مسعود کی معیت میں کابل کے دورے کی دعوت ملی۔ اسی دورے میں علامہؒ نے کابل کے کئی ایک اہم ذمہ داران کو افغانستان کے شمال مشرق میں ایک بڑے اسلامی ملک کے اُبھرنے کی پیشن گوئی کرتے ہوئے وصیت کے انداز میں درخواست کی کہ افغانستان اس ملک (پاکستان) کو فوراً تسلیم کرکے برادرانہ تعلقات استوار کرے تو اس سے دونوں ملکوں کے عوام کو بہت فائدے ہوں گے۔

لیکن شومئی قسمت کہ افغانستان کے اس وقت کے حکمرانوں کو یہ بات سمجھ نہ آئی یا بھارت کے حکمرانوں کے اکسانے پر پاکستان کو تسلیم کرکے برادرانہ تعلقات کی استواری تو درکنار اُلٹا مخالفت اور میران شاہ کے سرحدی علاقوں پر قبضہ کرنے کیلئے باقاعدہ حملہ کر بیٹھے۔ وہ دن اور آج کا دن سوائے اس مختصر مدت کے جب کابل پر طالبان کی حکومت تھی کبھی کوئی ٹھنڈا جھونکا آنا نصیب نہ ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ان دونوں برادر وہمسایہ ملکوں کی بہت بڑی بدقسمتی ہے۔ ایک دین‘ ایک تاریخ‘ ایک ہی تہذیب وثقافت اور دنیا میں کسی بھی دو ملکوں کے درمیان نرم ترین سرحدوں کے باوجود ان کے درمیان کبھی بھی محبت‘ اعتماد اور باہمی منفعت پر مشتمل تعلقات استوار نہ ہوسکے۔ کیوں؟ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ دونوں ملکوں کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کی اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت ہے۔ اگر آج بھی میرے بس میں ہوتا تو میں دونوں ملکوں کے ذمہ داران کو سورۃ حجرات کی آیات بمع تفسیر پڑھاتا۔ تجویز ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزارت خارجہ وداخلہ اور افغان صدر اشرف غنی اور ان کے اہم وزارت خارجہ کے اہم عہدیداران کبھی فرصت پاکر پڑھ ہی لیں۔ اسی سورت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘ مسلمان ایک دوسرے کی غیبت نہ کریں۔ یہ مردہ بھائی کے گوشت کھانے کے مترادف ہے۔ ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکاریں اور نہ یہ ایک دوسرے کو (برے) القاب دیں۔ ایمان (مسلمان ہونے) کے بعد اس قسم کے کام فسوق (حق سے نکلنے) کے کام ہیں۔‘‘ قرآن کریم میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد واتفاق کے بارے جو تعلیمات ہیں ان کے پیش نظر تو آج کی صورتحال کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ اس حوالے سے تو پوری اُمت اور اسلامی دنیا کا بہت برا حال ہے لیکن سعودی عرب اور ایران‘ پاکستان اور افغانستان، سعودی عرب اور یمن وشام‘ ترکی وشام وغیرہ کے درمیان جو صورتحال برپا ہے وہ تو خالص دشمنی ہے لیکن اسلامی دنیا کے سارے ملکوں کو ایک طرف رکھ کر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات وحالات اپنی ایک منفرد نوعیت رکھتا ہے۔ دنیا میں کوئی دوسرا ایسا ملک نہیں جس نے اپنے پڑوسی ملک کے چالیس لاکھ لوگوں کو چالیس سال تک صرف پناہ ہی نہیں‘ باقاعدہ اپنے لوگوں اور شہریوں کی طرح آزادی اور سہولیات دی ہوں۔ افغانوں کی پوری ایک نسل پاکستان میں پروان چڑھی اور اب حال یہ ہے کہ ان کو پاکستانی نوجوانوں سے الگ پہچانا نہیں جاسکتا لیکن اس کے باوجود حال یہ ہے کہ افغانستان میں کہیں بھی کوئی دھماکہ ہو جائے‘ الزام بغیر کسی تحقیق وتفتیش کے پاکستان پر لگا لیا جاتا ہے۔ اسی بناء پر پاکستان کو بہت تکلیف ہوتی ہے کہ ایک تو پاکستان خود افغانستان کے حالات کے سبب گزشتہ دو عشروں سے دہشتگردی کا شکار ہے اور اوپر سے اپنے مسلمان پڑوسی ملک کی طرف سے الزامات کی بوچھاڑ، اب جبکہ دونوں ملکوں بالخصوص افغانستان میں بہت خونریزی ہو چکی۔ ایک دوسرے پر بہت سارے الزامات لگائے۔ بہت سارے گلے شکوے ریکارڈ ہوئے لیکن کوئی خوشگوار نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔ دونوں ملکوں کے درمیان‘ دونوں ملکوں کے دشمن پس پشت رہ کر خفیہ ہاتھوں سے ہر قدم پر غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔ افغانستان میں امریکہ اور بھارت کے سٹریٹجک مفادات کے علاوہ معاشی مفادات بھی وابستہ ہوگئے ہیں۔

بھارت دونوں ملکوں کے درمیان چنگاری پھینکنے اور اسے ہوا دے کر شعلہ بنانے کیلئے افغانستان میں جگہ جگہ گھات لگائے بیٹھا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی سطح پر رابطے تیز کرکے ایک دوسرے کی شکایات ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ سن کر ایسے اقدامات کی منصوبہ بندی کی جائے کہ کوئی تیسرا شرارتی شرارت نہ کر سکے۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان روابط کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ دانشوروں‘ اہل قلم‘ ادباء‘ شعراء اور اہل فنون ولطیفہ کے وفود کا تبادلہ شروع کیا جائے۔ پاک افغان دوستی کو مضبوط بنانے کیلئے مختلف فورم تشکیل دئیے جائیں تاکہ گفتگو‘ مذاکرات اور مکالمہ کے ذریعے ماضی کے ناخوشگوار واقعات کو (Past is past) کہہ کر پس پشت ڈال کر آنے والی نسلوں کیلئے دونوں ملکوں کے وسائل سے یکجا طور پر مستفید ہونے کے مواقع فراہم کئے جاسکیں۔ ان بیچ کے شرارتی لوگوں کو افغانستان کی سرزمین سے الوداع کہنا ضروری ہوگیا ہے ورنہ دونوں ملکوں کو پہلے ہی بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے اور صورتحال کو تبدیل نہ کیا گیا تو حالات مزید گمبھیر بھی ہوسکتے ہیں۔ اللہ نہ کرے‘ بقول شاعر

تم مجھ میں اور آپ میں مت دو کسی کو دخل

ہوتے ہیں فتنہ ساز یہی درمیاں کے لوگ

متعلقہ خبریں