Daily Mashriq

لودھراںکی فتح پر مریم نواز کی ٹویٹ

لودھراںکی فتح پر مریم نواز کی ٹویٹ

لودھراں میں مسلم لیگ نون کی فتح اور تحریک انصاف کی شکست کے تمام تر عوامل مقامی ہیں مگر پاکستانی ذرائع ابلاغ اور ان کے وابستگان اس قدر جانبدار ہو چکے ہیں کہ وہ اس پر آزاد نگاہ ڈالنے کو شاید ہی تیار ہوں۔ جانبدار ذرائع ابلاغ کی پوری کھیپ نے خالص مقامی محرکات کے حامل نتیجے کو قومی شعور اور نوازشریف کے عدلیہ مخالف بیانئے کی فتح کے طور پر پیش کیا۔ بھلا اس نتیجے کا تعین کیسے کیا گیا؟ ووٹرز کے فیصلے کے پیچھے اس ’’قومی شعور‘‘ کی جھلک انہوں نے کیسے دیکھی؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب آپ کو کبھی نہیں ملے گا۔ لودھراں میں مسلم لیگ نون کے اُمیدوار محمد اقبال شاہ کی کامیابی کے فوراً بعد توقع کے عین مطابق مریم نواز کا ٹویٹر ہینڈل حرکت میں آیا کہ ’’عوام کا فیصلہ واضح ہے، ووٹ کو عزت دو، عدل کو بحال کرو، یہ نظریہ نواز ہے جو دلوں میں گھر کر گیا ہے! کہا تھا نہ ’’روک سکو تو روک لو‘‘۔ نوازشریف کی صاحبزادی کے اس پیغام کے بعد میڈیا میں پتلی تماشا شروع ہوگیا اور یہی الفاظ سُر بدل بدل کر دہرائے جانے لگے۔

لودھراں میں تحریک انصاف کے اُمیدوار علی ترین کی شکست کے تمام تر اسباب انتہائی مقامی نوعیت کے ہیں جس کا قومی سطح پر چلنے والے معاملات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات معمولی فہم رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کو حلقوں کی سیاست کا پوری طرح ادراک ہے۔ مسلم لیگ نون سالہا سال سے اقتدار میں ہونے کے باعث محض انتظامی مشنری کا استعمال نہیں جانتی بلکہ حلقوں کے اندر خاندانی رسوخ، دیہی مزاج، عوامی مسائل اور مقامی تعصبات کیساتھ فتح گروں کا بھی خوب خوب ادراک رکھتی ہے۔

درحقیقت حالیہ ضمنی انتخاب میں کچھ مقامی محرکات پر کوئی دھیان نہیں دے رہا۔ اس حلقے کی 88.8 فیصد آبادی دیہی ہے جو تقریباً 214 دیہاتوں تک پھیلی ہوئی ہے جبکہ11.2فیصد آبادی شہری ہے۔ ظاہر ہے کہ دیہی آبادی کے اتنے بڑے حصے تک رسائی کسی ایک آدمی کی بے انتہا دولت کے باوجود ممکن نہیں۔ ظاہر ہے کہ حکومت ہونے کا مطلب ہی کچھ اور ہوتا ہے۔2013 کے عام انتخابات سے قبل ایک آزاد مطالعے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہاں نظریاتی ووٹ دس سے بیس ہزار تک ہی محدود ہے۔ انتخابات میںکامیابی کیلئے یہاں جو عوامل کام کرتے ہیں ان میں اجتماعی مسائل سے زیادہ انفرادی کام ہوتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شخصی ووٹ یہاں پر زیادہ ہیں۔ حلقے کی اہم برادریاں سید، جلہ آرائیں، بلوچ، مرزا، بھٹی اور راجپوت برادریوں سے جو اُمیدوار بھی جوڑ توڑ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ کامیاب رہتا ہے۔ مسلم لیگ نون نے اسی تناظر میں ضمنی انتخاب میں اب تک باہم مقابل تمام بڑے خاندانوں کو یکجا کرکے ایک اُمیدوار کی پشت پر کھڑا کر دیا۔ اس حلقے میں تاریخی طور پر صدیق بلوچ خاندان، کانجو خاندان، رفیع شاہ خاندان اور ولایت شاہ خاندان کارگزار رہے ہیں جو کمال مہارت سے مذکورہ برادریوں سے معاملات طے کرتے رہے ہیں۔ یہ چاروں خاندان جیتنے والے اُمیدوار اقبال شاہ کی پشت پر تھے۔ ان چاروں خاندانوں نے اپنے مشترکہ اُمیدوار پر اسلئے بھی محنت کی کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ مبادا جہانگیر ترین کے بیٹے کی فتح انہیں حلقے کی سیاست سے مستقل طور پر نکال باہر نہ کر دے۔ پھر مسلم لیگ نون نے اُمیدوار کے انتخاب میں زیادہ سمجھداری کا مظاہرہ کیا۔ مسلم لیگ نون نے اقبال شاہ کو ایک اُمیدوار کے طور پر آگے بڑھایا جو بلاشبہ حلقے میں انتہائی اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ یہ خاندان رفاہی اور فلاحی کاموں میں پیش پیش ہے اور اقبال شاہ ایک عام اور سادہ آدمی کی شہرت رکھتے ہیں۔ عوامی نمائندگی کے ہنگام یہ شہرت کام کرتی ہے۔

مسلم لیگ نون کے رہنما حلقوں کے پورے فہم کیساتھ پورے پانچ سال کی سیاست کرتے ہیں۔ جب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نوازشریف کی جگہ لی تو نئی کابینہ میں عبدالرحمن کانجو کو شامل کیا گیا۔ جس کا تعلق لودھراں سے ہے۔اس قدر مخالف عوامل میں تحریک انصاف نے اُمیدوار کے انتخاب میں روایتی نادانی کا مظاہرہ کیا۔ اوّل تو موجودہ اسمبلی کی مدت چند ہفتے رہ گئی ہے۔ کیا یہ ضروری تھا کہ جہانگیر ترین کے بیٹے کو ہی انتخاب میں جھونکا جاتا۔ کیا یہ اچھا نہ ہوتا کہ تحریک انصاف کسی عام کارکن کو آگے بڑھاتی۔ اس طرح موروثی سیاست کیخلاف اس کی دلیل مستحکم ہوتی اور پارٹی کے اندر عام کارکن کی پذیرائی کا دعویٰ بھی آبرومند رہتا۔ پھر شکست کی صورت میں زیادہ ہزیمت کا سامنا بھی نہ کرنا پڑتا۔ تحریک انصاف کی قیادت سیاسی حالات کو سمجھنے اور انتخابات کے مقامی عوامل کے ادراک میں مکمل ناکام رہی۔ الغرض مسلم لیگ نون کے زبردست پروپیگنڈے میں صرف چند ہفتوں کیلئے باپ کی طرف سے بیٹے کو ایک اُمیدوار کے طور پر آگے بڑھانے کا یہ فیصلہ کسی بھی زاوئیے سے درست نہیں تھا۔ تحریک انصاف کے باب میں تو یہ ایک یقینی امر تھا کہ وہ اپنے مزاج کے قیدی رہیں گے۔ وہ فتح ہی نہ کھوئیں گے اس کا سبق بھی کھو دیں گے مگر مسلم لیگ نون کے ڈھنڈورچیوں نے اس فتح کو جو معانی دینے کی کوشش کی ہے اور اس سے قومی شعور کی جس فصل کو لہلہاتا دکھایا جارہا ہے وہ فصل کسی زمین پر نہیں اُگی ہوئی۔ چند ہفتوں کے بعد قومی منظرنامے پر رونما ہونیوالی تبدیلیوں کے بعد نوازشریف کے بیانئے کی مقبولیت کا بھرم ازخود کھل جائے گا۔

متعلقہ خبریں