Daily Mashriq

ہم گل سڑ چکے ہیں

ہم گل سڑ چکے ہیں

معاشرے کو سردیوں کی دھوپ کی طرح روشن ہونا چاہئے۔ لوگوں کے روئیے واضح ہونے چاہئیں کیونکہ معاشرہ کسی چھوٹی اکائی کا نام نہیں ہوتا‘ معاشرے کا اپنا ایک رنگ‘ اپنا انداز ہوتا ہے۔ اس انداز سے معاشرے کے ماتھے کی ہر سلوٹ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ معاشرے کے رویوں کی جانچ ہوسکتی ہے۔ یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ یہاں لوگوں کے مزاج کیسے ہیں اور مختلف موسموں کو وہ کس طور اپناتے ہیں لیکن یہ معاشرہ جس میں ہم رہتے ہیں اس کو سمجھنے کیلئے انسان کو فیثا غورث ہونا چاہئے۔ حساب کی کسی اُلجھی ہوئی گتھی کی طرح یہ معاشرہ اپنے بگاڑ اور روئیے کے ٹیڑھے نقوش کیساتھ آہستہ آہستہ میری سمجھ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ میں نے جب لکھنے کا آغاز کیا تھا میں نے ایک خیال کیساتھ یہ سفر شروع کیا تھا۔ میں اس معاشرے کو عمومی طور پر بھلے لوگوں کا معاشرہ سمجھتی تھی جو ترقی اور جدت پسندی کی دھوپ میں کچھ یوں پگھل رہا تھا کہ اس کے نقش پھیلنے لگے تھے۔ میں نے سوچا اگر ایک ذہن بھی سمت کی درستگی کی طرف مائل ہوگیا تو میرا کام پورا ہو جائے گا۔ میرے والد صاحب نے مجھے سمجھایا کہ دادا کی میراث کا خیال رکھنا‘ درستگی کے پرچار سے کبھی نہ ہٹنا چاہے اس کی کتنی ہی قیمت ادا کرنی پڑے۔ مجھے اس ملک سے محبت تحفے میں ملی اور میں نے حتیٰ الامکان کوشش کی کہ اس محبت کو نہ صرف اپنی اولاد میں منتقل کروں بلکہ اپنے قارئین میں بھی اس جذبے کو مہمیز کرتی رہوں لیکن مجھے بڑا شدید صدمہ ہوا جب لاہور کے ایک بڑے ہسپتال کے احاطے سے ایک ننھی بچی اغواء ہوئی اور سی سی ٹی وی فوٹیج بار بار میڈیا پر دکھائی جاتی رہی۔ میں اس کے بعد دو سال تک ٹی وی نہ دیکھ سکی۔ اس بچی کے خدوخال اس کی وہ ننھی کلائیاں میرے ذہن سے محو ہی نہ ہوتی تھیں۔ میں سوچتی تھی تو کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ بڑی مشکل میں اس اذیت کے حصار سے آزاد ہوئی لیکن یہ سوچتی ہی رہی کہ اس معاشرے میں جس میں بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ پھر اپنے آپ کو تسلی دی کہ ذہنی بیمار لوگ تو ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں لیکن یہ دکھ میرے ذہن سے محو نہ ہوسکا کیونکہ میں خود ایک ماں ہوں۔ میری اپنی بیٹیاں ہیں‘ اپنے ہی معاملات سے یہ معاشرہ آکر زینب پر ہوئے ظلم کے دلدل میں آکر اٹک گیا اور پھر ایک کے بعد ایک گویا اس معاشرے کے گٹر اُبلنے لگے۔ میں اور میری جیسی کئی مائیں انگشت بدنداں ہیں کیونکہ شاید ہمیں تو اندازہ ہی نہ تھا کہ اس معاشرے میں ایسا گند بھی اس کی کھال کے نیچے ایسے موجود ہے کہ ذرا سی خراش لگے گی اور یہ جگہ جگہ سے اُبلنے لگے گا۔ قصور میں کئی سو بچوں کیساتھ جو کچھ ہوتا رہا ہم خاموش رہے کیونکہ اب اس معاشرے میں بچے سانجھے نہیں ہوتے‘ بس اپنے اپنے ہوتے ہیں۔ عزتیں بھی سانجھی نہیں ہوتیں۔ یہ معاشرہ بیمار نہیں ہے، یہ معاشرہ مردہ ہو چکا ہے۔ مردہ ہو جانے کے بعد اس کی لاش گل سڑ گئی ہے۔ اس میں کیڑے پڑ چکے ہیں۔ اس کی بدبو پھیل چکی ہے‘ اس کی آنکھیں پانی بن کر حلقوم سے بہہ گئی ہیں‘ اس کا دماغ پھٹ کر اس کے منہ سے باہر آگیا ہے‘ اس کے پیٹ میں پانی بھر چکا ہے اور اب جگہ جگہ سے کھال پھٹ رہی ہے۔ ہم اسی معاشرے کے جسم کیساتھ لگے ہوئے ہیں۔ ہر بار جب یہ اور متعفن ہوتا ہے، ہم کہتے ہیں اب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہر بار جب گلنے سڑنے کے عمل میں کچھ تیزی آتی ہے ہم کہتے ہیں اب اسے ہوش آرہا ہے۔ اب ایسا جھٹکا لگا ہے کہ یہ اُٹھ کر کھڑا ہو جائے گا۔ ابھی سب اچھا ہونے کی آواز آئے گی۔ جانے یہ کیسی باتیں ہیں‘ ہماری نظر کے سامنے کیسے پردے پڑے ہیں کہ ہمیں کچھ دکھائی کچھ سنائی نہیں دیتا۔ کسی نے یہ نہیں سوچا کہ قصور میں ہی یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور پھر ملک میں جگہ جگہ سے ننھے بچوں کی ہی چیخیں کیوں سنائی دیتی ہیں کیونکہ معصوم بچوں کی ہی مسلی ہوئی لاشیں ملتی ہیں۔ کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ مائوں کی گود ہی کیوں اجڑ رہی ہے۔ یہ نوحے‘ یہ سینہ کوبی‘ یہ واویلے‘ یہ آنسو‘ یہ غم یہ سب کیوں ہے۔

ہم نہیں جانتے کہ یہ جانور ہم ہیں۔ ہمیں اپنا آپ دکھائی نہیں دیتا کہ ہم خود کس بیماری میں مبتلا ہیں۔ ہم ہی تو یہ معاشرہ ہیں اور اس معاشرے میں اخلاقی طاعون پھیل چکا ہے۔ ہمیں زینب دکھائی نہیں دیتی کہ خود ہمارے اپنے گھروں میں زینب ہے اور وہ مر چکی ہے کیونکہ اسے بھنبھوڑ ڈالنے والے ہم خود ہیں۔ جب ایک بار زینب کو انصاف نہیں ملتا تو ہر بار زینب کو انصاف نہیں ملے گا۔

ہماری عدالتیں تو انصاف کریں گی لیکن اس معاشرے کا وہ کیا کریں جو مردہ ہے۔ متعفن ہے‘ ہم کیا کریں گے۔ زینب کا ایک قاتل سزا پائے گا لیکن جہاں اسمبلیوں میں ایسے قاتلوں کو بس عمر قید کی سزا دینے کی باتیں ہوں‘ جہاں ناسور کو کاٹ کر سولی چڑھائے جانے کی بات نہ ہو‘ جہاں چوراہوں پر کسی کو عبرت بنانے کا قانون پاس نہ ہو سکے کیونکہ اس میں بڑے لوگوں کے نام آتے ہوں‘ ایم کیو ایم کا ایک ممبر اسمبلی کسی خاتون کی عصمت دری میں ملوث ہو اور بے شمار اوروں کے بارے میں شک ہو وہاں پھانسی اور موت کی سزا کے قوانین پاس ہی نہیں ہوا کرتے۔ اس گلے سڑے معاشرے میں میری اور آپ کی زینب کبھی محفوظ نہ رہے گی۔ یہی وہ وقت ہے جب ہجرت کا حکم ہے۔ کوچ کا حکم ہے کیونکہ اب اس مردے کا تعفن قابل برداشت نہیں۔

متعلقہ خبریں