Daily Mashriq

صوابی یونیورسٹی کا نام۔۔۔۔

صوابی یونیورسٹی کا نام۔۔۔۔

20جنوری2016 کو باچا خان یونیورسٹی پر دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا جس میں22 افراد شہید اور20 زخمی ہوئے تھےí اب جبکہ اس واقعے کے دو سال گزر گئے۔ حال ہی میں شہید حامد حسین کے بھائی سے ملاقات ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک، صوبائی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر اور وزیر صحت شہرام ترکئی جب فوتگی اور تعزیت کیلئے ہمارے گھر تشریف لائے تھے، سب نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھاکہ اس حادثے میں تمام شہداء کے لواحقین بالخصوص شہید حامد حسین کی بیوہ اور دو بچوں حاشر حسین اور بچی حسینہ حسین کی ہر طرح سے بھرپور اخلاقی اور مالی مدد کی جائے گی۔ ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ شہید حامد حسین کی بیوہ جو گورنمنٹ کالج مانکی صوابی میں زوالوجی کی لیکچرر ہیں اس کو ریگولر کیا جائے گا۔ شہید کا مقبرہ تعمیر کیا جائے گا۔ اس کو اعلیٰ سول ایوارڈ دیا جائے گا اور صوابی یونیورسٹی شہید حامد حسین کے نام سے منسوب کی جائے گی اور شہید کا وہ پستول جس سے انہوں نے دہشتگردوں کیساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا شہیدکے لواحقین کو واپس کیا جائے گا مگر اب صوابی یونیورسٹی مشال خان کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس سلسلے میں صوابی اصلاحی جرگے کی طرف سے ایک ہنگامی اجلاس ہوا۔ جس میں تمام سیاسی پارٹیوں پاکستان مسلم لیگ(ن)، جمعیت العلمائے اسلام، اے این پی، جماعت اسلامی، پی پی پی، قومی وطن پارٹی کے عہدیداروں، تحصیل ناظمین، ناظمین، کونسلروں اور دوسرے منتخب نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور معززین علاقہ نے عمران خان، صوبائی اسمبلی کے سپیکر، سینئر وزیر صحت شہرام ترکئی سے مطالبہ کیا کہ صوابی یونیورسٹی انبار کو شہید پروفیسر ڈاکٹر حامد حسین کے نام سے ہی منسوب کیا جائے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مشال خان کو بھی بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔حامد حسین شہید کی بہادری اور شجاعت کے علاوہ ان کی تعلیمی خدمات بھی ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے ایک جنرل نے پریس کانفرنس میں صوابی کے دو عظیم سپوتوں کرنل شیرخان نشان حیدر اور ڈاکٹر شہید حامد حسین کی بہادری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ہمارے حریف ملک کے تھے مگر یہ دونوں جس بہادری اور شجاعت سے لڑے ہم ان کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔ مشہور زمانہ عالمی اور مستند معلومات سے متعلق ویب سائٹ وکی پیڈیا میں درج ہے کہ کیمسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر حامد حسین نے پستول سے طالب علموں کو بچاتے بچاتے خود جام شہادت نوش کیا۔ وکی پیڈیا کے مطابق چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ حامد حسین نے دہشتگردوں کو 15 منٹ تک روکے رکھا اور اس طرح سینکڑوں طالب علموں کی جانیں بچائیں۔33سالہ شہید ڈاکٹر پروفیسرحامد حسین، جس نے پشاور یونیورسٹی سے ایم ایس سی اور برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی سے آرگینک کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حا صل کی تھی، ایک انتہائی ذہین اور بہادر انسان تھے۔ حامد حسین نے دہشتگردوں اور انتہا پسندوں سے پستول ہاتھ میں تھامے ہوئے مردانہ وار مقابلہ کیا اور طالب علموں کو بچاتے بچاتے خود جام شہادت نوش کیا۔ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے شہید کی بیوہ سے فون پر تعزیت بھی کی تھی اور یقین بھی دلایا تھا کہ ملالہ یوسف زئی اپنی استعداد کے مطابق شہید کی بیوہ اور تمام شہداء کی بھرپور مدد کرے گی۔ شہید حامد حسین کا چار سالہ بیٹا حاشر حسین اور تین سالہ بیٹی حسینہ حسین اب بھی دروازے کی آہٹ پر ابو کا انتظار کرتے ہیں۔ حامد حسین کے والد نے حامد حسین کی بیرون ملک تعلیم مکمل کرنے کیلئے جائیداد بیچ کر اسے پڑھایا تھا۔ شہید حامد حسین کے والد محترم بیک وقت کئی غم سہہ رہے ہیں: ایک بیٹے کی شہادت، دوسرا جوان بہو کا غم اور تیسرا دو پوتوں کا غم۔ حامد حسین شہید کی بیوہ اور بچوں اور اے پی ایس کے شہداء کے لواحقین کو دنیا کی ساری مراعات مل جائیں مگر اس سانحے کے لواحقین کو اپنے بچے اور حامد حسین کے بچوں حاشر حسین اور حسینہ حسین کو والد تو نہیں مل سکتے، اس وقت ان لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت خیبر پختون خوا کو دہشتگردی کی جنگ کیلئے35 ارب روپے کا فنڈ دے رہی ہے۔ یہ پیسے اگر اس قسم کے کاموں میں نہیں خرچ ہونگے تو کب خرچ ہوںگے۔ اس کالم کے توسط سے وزیراعلی، سپیکر اور سینئر وزیر صحت سے استدعا ہے کہ وہ فی الفور شہید حامد حسین کی بیوہ کی لیکچرر کے پوسٹ پر مستقلی کے احکامات جاری کریں۔ صوابی یونیورسٹی انبار کو شہید کے نام سے منسوب کیا جائے اور مرحوم کو بڑا قومی ایوارڈ دیا جائے۔ ساتھ ساتھ اس سانحہ میں شریک شہداء کے لواحقین کی مالی امداد کی جائے۔ سانحہ باچا خان یونیورسٹی، جو اے پی ایس کے بعد سب سے بڑا واقعہ تھا، اگر اس دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے لواحقین، ورثاء اور پسماندہ گان کیساتھ ہمدردی نہیں کریں گے تو دہشتگردوں کے حوصلے مزید بلند اور اس ملک میں حق اور سچ کے بول بولنے والوں کے جذبات اور احساسات مزید پست ہونگے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختون خوا سے میری استدعا ہے کہ اس قسم کے واقعات میں شہداء کو فوجیوں کی طرح پنشن، سول ایوارڈ اور دوسری مراعات دی جائیں۔

متعلقہ خبریں