Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت مسلم بن یسارؒ فرماتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیاگیا تھا کہ وہ اپنے ساتھ (کشتی میں) ہر مخلوق کا جوڑا لے لیں‘ ایک فرشتہ بھی ان کے ساتھ ہوگا۔ چنانچہ آپ نے ایک ایک جوڑا بٹھا لیا‘ انگور باقی رہ گئے تو ابلیس نے آکر کہا یہ تو سب میرے ہیں تو حضرت نوحؑ نے فرشتہ کی طرف دیکھا( کہ تمہارا کیا مشورہ ہے؟) اس نے کہا یہ آپ کا شریک ہے‘ آپ اس سے بہتر شرکت کا معاملہ کریں تو حضرت نوحؑ نے فرمایا: بہت اچھا اور فرمایا‘ دو تہائیاں میری اور ایک تہائی اس کی۔ فرشتے نے پھر کہا: آپ اس سے بھی اچھی شرکت کا معاملہ کریں تو آپ نے فرمایا: آدھے میرے آدھے اس کے تو ابلیس نے کہا( نہیں) یہ تو سب میرے ہیں تو حضرت نوحؑ نے فرشتے کی طرف دیکھا تو اس نے کہا یہ آپ کا شریک ہے تو آپ نے فرمایا: بہت اچھا‘ میری ایک تہائی‘ اس کی دو تہائیاں۔ فرشتے نے کہا: آپ نے بہت اچھا کیا‘ آپ محسن ہیں‘ آپ اس کو انگور کی شکل میں کھائیں گے اور یہ کشمش بنا کر اور جوس بنا کر تین دن تک پئیے گا۔ حضرت محمد بن سیرینؒ سے بھی ایسے ہی منقول ہے لیکن آخر میں یوں ہے کہ آپ اس کو پکائیں گے جس سے دو ثلث خباثت اتر جائے گی‘ یہ شیطان کا حصہ ہوگا اور باقی ایک ثلث آپ کے (یعنی انسانوں) کے پینے کے لئے ہے۔ (ابن منذر)

حضرت سفیان بن عینیہؒ فرماتے ہیں: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ابلیس سے ملاقات ہوئی تو ابلیس نے آپ سے کہا‘ آ پ کی ذات تو اتنی اونچی ہے جو خدائی کے بڑے مرتبہ پر فائز ہے‘ آپ نے گود میں بچپن میں کلام کیا جبکہ آپ سے پہلے کسی نے اس میں کلام نہیں کیا۔

آپ نے فرمایا: خدائی اور عظمت تو رب تعالیٰ کے لئے ہے جس نے مجھ سے ( ماں کی گود میں ) کلام کرایا‘ پھر موت دے گا پھر زندہ کرے گا‘‘۔

شیطان نے کہا ’’(نہیں نہیں) آپ ہی تو ہیں جو اپنی خدائی کے بڑے درجہ پر پہنچے یہاں تک کہ مردوں کو بھی زندہ کردیا‘‘۔

آپ نے فرمایا: خدائی اور عظمت میرے رب کے لئے ہے جو مجھے بھی موت دے گا اور اسے بھی جس کو میں نے (خدا کے حکم سے ) زندہ کیا‘ پھر وہ مجھے زندہ بھی کرے گا۔

شیطان نے کہا: ’’ آسمان کے بھی تم خدا ہو اور زمین کے بھی تم خدا ہو‘‘۔

تو حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کو اپنے پر سے ایسا تھپڑ رسید کیا کہ وہ سورج کے قریب جاگرا پھر ایک اور تھپڑ رسید کیا تو عین ہامیہ کے پاس جاگرا‘ پھر ایک اور تھپڑ رسید کیا کہ اس کو سات سمندروں کی تہہ میں اتار دیا اور ایسا دھنسا دیا کہ اس کو کیچڑ کا مزہ چکھا دیا۔

جب شیطان وہاں سے نکلا تو یہ کہہ رہا تھا ایسی ذلت کسی نے کسی سے نہ پائی ہوگی۔

(ابن ابی الدنیا‘ مکائد الشیطان)

متعلقہ خبریں