Daily Mashriq

اینڈریو مائیکل: ماں سے 30 ہزار پاؤنڈ چوری کر کے کروڑوں کمانے والا شخص

اینڈریو مائیکل: ماں سے 30 ہزار پاؤنڈ چوری کر کے کروڑوں کمانے والا شخص

جب اینڈریو مائیکل 17 سال کے تھے تو انھوں نے اپنی والدہ کے کریڈٹ کارڈ کو ان کی اجازت کے بغیر استعمال کرتے ہوئے 30 ہزار برطانوی پاؤنڈز سے اپنی زندگی بدلنے کے لیے ایک جوا کھیلا۔

یہ سنہ 1997 کی بات ہے۔ وہ اپنی والدہ کے ہمراہ انگلینڈ کے مغربی شہر چیلتنم میں رہائش پذیر تھے کہ انھیں کاروبار کرنے کا ایک موقع نظر آیا۔

وہ اپنے سکول کے دوست کے ساتھ مل کر اپنی ویب سائٹ بنانا چاہتے تھے۔ اس دوران خود 'کمپیوٹر سیکھنے والے' مائیکل کو احساس ہوا کہ اُس وقت موجود ویب ہوسٹنگ کمپنیوں میں سے بہت کم ایسی تھیں جن کی توجہ کا مرکز چھوٹے کاروبار یا عوام تھے۔

39 سالہ اینڈریو کہتے ہیں ’اس وقت برطانیہ میں تمام ویب ہوسٹنگ کمپنیوں کا ہدف بڑی کمپنیاں تھیں لیکن ہم نے دیکھا کہ چھوٹے کاروبار اور انفرادی سطح پر لوگ کچھ آسان اور خودکار نظام چاہتے تھے۔‘

چنانچہ انھوں نے اپنے دوست کے ہمراہ یہ خلا پُر کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی ویب ہوسٹنگ کمپنی ’فاسٹ ہوسٹس‘ قائم کی۔ اینڈریو کہتے ہیں ’اس کام کے لیے جن کمپیوٹرز کی ضرورت تھی، والدہ کے گھر پر میرے ہی کمرے میں وہ موجود تھے اور ہم نے سافٹ ویئر خود تیار کیا۔‘

'لیکن ہمیں جس چیز کی اشد ضرورت تھی وہ تیز رفتار سپیڈ والا انٹرنیٹ کنکشن تھا، جس کے لیے ان دنوں سڑک کھودنا پڑتی تھی۔ اس کنکشن کی لاگت 30 ہزار پاؤنڈز تھی اور ہمارے پاس اتنی رقم نہ تھی۔'

یہ سوچتے ہوئے کہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے اینڈریو نے اپنی والدہ کا کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ کو اپ گریڈ کرنے کا آرڈر دیا۔ وہ کہتے ہیں ’ہم نے ایک طرح سے فون پر چالاکی کے ذریعے ایسا کیا۔‘

ہم نے میگزین میں اشتہارات بھی دیے، جوا یہ تھا کہ ہمارا کاروبار پہلے ہی ماہ میں اتنا کما لے گا کہ کریڈٹ کارڈ کا بل آنے پر ہم اسے ادا کر سکیں گے۔

حیران کن طور پر ایسا ہی ہوا۔ اینڈیو کہتے ہیں کہ ’مہینے کے اختتام پر انٹرنیٹ اور اشتہاروں پر آئے اخراجات کو برداشت کرنے کے لیے ہمارے پاس کافی رقم اور صارفین موجود تھے۔‘

اور اہم بات یہ کہ ان کی والدہ نے انھیں ان کی اس حرکت پر معاف بھی کر دیا۔

ان کے دوست یونیورسٹی چلے گئے مگر اینڈیو نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا تاکہ وہ ’فاسٹ ہوسٹس‘ کو مزید کامیاب بنانے کے لیے بھرپور توجہ دے سکیں۔

اور آخر کار نو سال بعد وہ اسے چھ کروڑ 15 لاکھ پاؤنڈ میں فروخت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس وقت ان کی عمر 26 سال تھی اور کاروبار میں 75 فیصد حصے کا مطلب تھا کہ انھوں نے چار کروڑ ساٹھ لاکھ پاؤنڈ کمائے تھے۔

دو سال بعد اینڈیو نے کلاؤڈ سٹوریج فرم ’لائیو ڈرائیو‘ قائم کی۔ یہ فرم انھوں نے نامعلوم قیمت کے عوض فروخت کر دی۔

دونوں کاروبار کامیاب ثابت ہوئے۔ ان کی طرف سے دی جانے والی شاندار دعوتوں اور ان میں کی گئی شاہ خرچیوں کی وجہ سے اینڈریو اخبارات میں شہ سرخیوں کی زینت بھی بنے۔

فاسٹ ہوسٹس میں منعقد ہونے والی کرسمس پارٹیوں میں ’گرلز الاؤڈ‘ اور ’شوگا بیبز‘ جیسے بینڈز، راک بینڈ 'دی ڈارکنیس' اور جوناتھن راس جیسے ٹی وی میزبان شرکت کرتے تھے۔

اور وہ مانتے ہیں کہ ایک دفعہ انھوں نے امریکی گلوکار اوشر کو اپنی دوست کی سالگرہ پر پرفارم کرنے کے لیے پیسے دے کر بلایا۔ ’میں پارٹی پسند کرتا ہوں، میں لوگوں کی تواضع کرنا پسند کرتا ہوں اور میں کوئی بھی کام چھوٹے موٹے پیمانے پر نہیں کرتا۔'

اینڈریو قبرص میں پیدا ہوئے مگر ان کی پرورش چیلتنم میں ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے کاروبار کا گُر اور اس پر توجہ مبذول کرنا اپنے والد سے سیکھا۔

اینڈریو کے مطابق ’میرے والد قبرص سے یہاں آئے اور وہ چھوٹے درجے کے کاروباری شخص تھے۔‘

’قبرص سے آنے والے دیگر لوگوں کی طرح انھوں نے مچھلی اور چپس کی دوکانیں اور کیفے کھولے۔ میرے بچپن کا ایک حصہ ایسی ہی جگہوں پر کاروباری آئیڈیاز اور وصولیاں کرتے گزرا ۔‘

’چھوٹی عمر سے ہی میری ذہنیت کاروباری اور پیسے بنانے والی تھی۔‘

فاسٹ ہوسٹس کیسے پھلی پھولی، اس پر اینڈریو کا کہنا ہے ان کی ’بے پناہ توجہ‘ اس کا سبب ہے ’اور کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔‘

سنہ 2006 میں اس کاروبار کی فروخت سے وہ بہت امیر ہو گئے تاہم ان کے مطابق وہ نامکمل سا محسوس کر رہے تھے۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے یاد ہے کہ جب میرے بینک اکاؤنٹ میں رقم آئی تو میں آفس میں تھا اور میں نے سوچا کہ یہ مجھے بہت خوش کر دے گی۔‘

’درحقیقت یہ ایک ڈوبنے جیسی کیفیت تھی، میں آفس میں ٹہلا اور مجھے احساس ہوا کہ میں یہ سب بیچ چکا ہوں اور اب یہ ہندسوں کی شکل میں میرے سامنے ہے۔‘

اینڈریو کے مطابق اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ کچھ وقت کے لیے ’بہت بور محسوس کرتے اور زیادہ کھانے پینے لگے۔‘ دو سال بعد انھوں نے ’لائیو ڈرائیو‘ کا آغاز کیا۔

بدقسمتی سے ابتدا میں کمپنی کو کافی محنت کرنا پڑی۔

وہ کہتے ہیں ’ہمیں پتہ چلا کہ ایک ہی وقت میں کافی لوگوں کے پاس ایک ہی جیسا آئیڈیا تھا اور صرف اشتہارات سے کام نہیں بن رہا تھا۔ یہ ممکنہ ناکامی کا میرا پہلا تجربہ تھا اور میں پریشان تھا کہ میں ان لوگوں میں سے نہ بن جاؤں جو صرف اکلوتی کامیابی حاصل کر پاتے ہیں۔‘

’پھر ایسا ہوا کہ ڈکسنز کمپنی میں ایک شخص سے میری دوستی ہوئی جو مجھے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے ملا تھا۔ اس کے بعد ہم نے ان کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔‘

ڈکسنز نے لائیو ڈرائیو کو پروڈکٹ بنانے میں مدد دینے کا فیصلہ کیا اور پھر لیپ ٹاپس اور ٹیبلٹس بنانے میں بھی، جو بعد میں اس نے فروخت کیے۔

اینڈریو کہتے ہیں ’یہ بہت مقبول ہوا۔ ہم نے مزید کمپنیوں کے ساتھ بھی اشتراک کیا اور ہمارا کاروبار فاسٹ ہوسٹس سے بھی وسیع ہو گیا۔‘

سنہ 2014 میں لائیو ڈرائیو کی فروخت کے بعد اینڈیو کا موجودہ کاروبار ’بارک ڈاٹ کام‘ ہے۔ یہ ایک ویب سائٹ ہے جو لوگوں کو گھر بیٹھے پلمبر سے لے کر گٹار سیکھانے والے اور کتے کی دیکھ بھال کرنے والا ہو یا پرسنل ٹریئنر، ہر قسم کے پیشہ ور افراد کی خدمات فراہم کرتی ہے۔

تجزیہ کار کرس گرین کہتے ہیں ’فاسٹ ہوسٹس کمرے میں کمپیوٹر پر ایجاد کی بہترین مثال ہے اور برطانیہ اسی اور نوے کی دہائی میں اس معاملے میں کافی بہتر تھا۔‘

’یہ نہ صرف 17 سالہ اینڈریو کی اچانک کامیابی تھی بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے اس سے ڈومین نیم رجسٹریشن اور ویب ہوسٹنگ تک رسائی بہت آسان ہو گئی۔‘

ان کے مطابق ’اسی دوران لائیو ڈرائیو ذاتی اور چھوٹے کاروبار کے کلاؤڈ سٹوریج اور اس کی بیک اپ مارکیٹ میں ایک رہنما کمپنی کے طور پر سامنے آئی۔‘

اینڈیو کہتے ہیں ابھی ان کی اور بھی کافی خواہشات ہیں۔

’میں اس طرح کا انسان ہوں جس کو جتنا زیادہ ملتا ہے وہ اس سے مزید کی خواہش رکھتا ہے۔ اگرچہ میرے ابتدائی دو کاروبار اچھے چلے ہیں مگر میں اپنے آپ کو بہت کامیاب نہیں سمجھتا۔‘

متعلقہ خبریں