Daily Mashriq

کچھ کی گرفتاری کچھ کی رہائی

کچھ کی گرفتاری کچھ کی رہائی

ایک جانب جہاں قومی احتساب بیورو نے موجودہ حکومت کی حلیف جماعت کے دو اہم رہنماؤں سمیت سیاسی اور غیرسیاسی اعلیٰ سرکاری افسران کیخلاف تیرہ اہم انکوائریوں کی منظوری دے دی ہے تو دوسری جانب نیب کے ایک بڑے گرفتار ملزم وسابق وزیراعلیٰ پنجاب وموجودہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی وصدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کو عدالت سے رہائی کا پروانہ مل چکا ہے۔ ساتھ ہی پنجاب میں اہم عہدوں پر تعینات اور شہباز شریف کیساتھ نیب مقدمات میں ملوث اعلیٰ سرکاری افسر ایک سال سے زائد عرصے سے زیرحراست ہیں لیکن ان کے مقدمات میں نیب کسی ٹھوس پیشرفت میں کامیاب نہیں ہوئی۔ قطع نظر ان مقدمات کے نیب کا مطلق العنان اختیارات کا حامل ادارہ ہونے کے باوجود بلاامتیاز احتساب میں ناکام ادارہ ہونا خود اس کی کارکردگی بلکہ ادارے کے جواز پر ہی سوالیہ نشان ہے۔ نیب پر سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کا الزام وہ حقیقت ہے جسے یکے بعددیگرے الزام دینے والے حامی اور حمایت کرنے والے مخالف بن جاتے ہیں جو ازخود اس امر کا ثبوت ہے کہ نیب بلاامتیاز احتساب کرنے والا ادارہ نہیں بن سکا۔ وزیراعظم کے ترجمان ندیم افضل چن اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس ملک میں غریب اور امیر کیلئے قوانین الگ الگ ہیں تو دوسر ی جانب وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائی کو قومی احتساب بیورو (نیب)کیلئے لمحۂ فکریہ قرار دیتے ہیں۔ عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں مرغی چور کو اپنی ضمانت کیلئے کئی سال لگتے ہیں لیکن15سو ارب روپے چوری کرنے والے کی ضمانت90روز سے بھی کم میں ہوجاتی ہے۔ وفاقی وزیر نے نیب پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ جن لوگوں کو کرپشن کیسز میں حراست میں لے رہے ہیں ان کے مقدمات کو منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچا رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کو یہ باتیں عوام کے سامنے رکھنی چاہئیں، شہباز شریف کی ضمانت سے معاشرے میں منفی اثر جائے گا۔ یہ ان عناصر کے الفاظ وخیالات ہیں جو قبل ازیں نیب کے خودمختار ادارہ ہونے اور حکومت کا اس کی پشت پر کھڑے ہونے کی یقین دہانیاں کرواتے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وہ صورتحال اور حالات ہیں جن کے باعث وطن عزیز میں بدعنوان اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے عناصر کا احتساب نہیں ہوتا جس کے باعث اس ملک میں احتساب کا خوف اور عوام کو حقیقی معنوں میں احتساب ہونے کی امید نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر سابق وزیراعلیٰ پنجاب بدعنوانی میں ملوث تھے تو نیب نے ٹھوس شواہد پیش کرکے ان کیخلاف ریفرنس دائر کرنے میں اتنی تاخیر کا مظاہرہ کیوں کیا اور اگر وہ بے گناہ تھے تو ان کو گرفتار کیوں کیا گیا۔ اگرچہ شہباز شریف ابھی بھی ملزم ہیں اور ان کی صرف عدالت عالیہ لاہور سے ضمانت ہی ہوئی ہے لیکن معروضی صورتحال سے اخذ یہ ہوتا ہے گویا وہ بری ہوگئے ہیں۔ ان سارے حالات اور نیب کی ماضی کی کارکردگی اور چلائے گئے اہم مقدمات کے لاحاصل ہونے کے تناظر میں عوام کیلئے سوائے مایوسی کے کچھ نہیں۔ ایسے میں جن اہم سیاسی شخصیات کو اب نیب حراست میں لینے لگی ہے اسے محض ہوا کے رخ کی تبدیلی یا کسی ڈیل اور ڈھیل کی تیاری کے شبہ کا اظہار کہا جائے تو خلاف واقعہ نہ ہوگا۔ جن اہم شخصیات کیخلاف اب تحقیقات ہونے جا رہی ہیں ان کیخلاف جب تک ٹھوس شواہد اور عدالت کیلئے قابل قبول ثبوت نہ مل جائیں ان کی گرفتاری کی غلطی نہ دہرائی جائے۔ نیب سے عوام کی وابستہ توقعات اور بدعنوان عناصر کے بلاامتیاز احتساب کی توقع اس کے باوجود وابستہ رہنی چاہئے کہ ماضی وحال میں اس ادارے کی کارکردگی وفعالیت قابل ذکر نہیں رہی۔ وطن عزیز میں نیب احتساب بیورو اینٹی کرپشن کا محکمہ اور ایف آئی اے جیسے اداروں کا سیاسی وحکومتی استعمال ملک میں احتساب اور قانون کی حکمرانی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان اداروں کو سیاسی وحکومتی اثرات سے پاک کرکے حقیقی معنوں میں نفاذ قانون کے ادارے جب تک نہ بنائے جائیں ملک سے بدعنوانی کی لعنت کا خاتمہ تو درکنار اس کی روک تھام بھی ممکن نہ ہوسکے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی قیادت حکمران وحزب اختلاف سبھی مل کر نیب کو ایک ایسا ادارہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں جو نہ تو حزب اختلاف کیخلاف استعمال ہو اور نہ ہی حکومت کا دم چھلا بنے۔ اس امر کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ نیب مطلق العنان اختیارات رکھنے کے باوجود بھی ناکام ادارہ کیوں ہے۔ نیب میں تحقیق وتفتیش کا نظام اور عمل بدترین اور ناکام کیوں ہے۔ کیا ہم من حیث القوم حقیقی احتساب چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔ اگر ہمیں حقیقی احتساب مطلوب ہے تو پھر نیب کو حقیقی معنوں میں ایک ایسا ادارہ بنانا پڑے گا جو کسی کے ہاتھ کا کھلونا نہ بنے اور نہ ہی اس پر کوئی اثرانداز ہوسکے۔

متعلقہ خبریں