Daily Mashriq

معذور اور نادار افراد آخر کس سے فریاد کریں؟

معذور اور نادار افراد آخر کس سے فریاد کریں؟

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومتوں نے معذور افراد کے حقوق سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل نہیں کرنا تو بتا دیں لیکن منافقت نہ کریں۔ عدالت نے قرار دیا کہ معذور افراد کے حقوق کے حوالے سے وفاق اور صوبے قوانین پر عمل نہیں کر رہے، ان قوانین پر عمل کریں عدالت کو ایکشن لینے پر مجبور نہ کریں۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وفاق اور صوبے معذور افراد کی بحالی، ان کی شکایات اور سہولیات سے متعلق ڈیٹا فراہم کریں، انہیں دئیے گئے وظیفہ، طبی امداد اور دیگر سہولیات سے متعلق بھی آگاہ کیا جائے۔ دوسری جانب ادھر صورتحال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی زکوٰۃ کمیٹیوں کو ختم کرکے فنڈز منجمد کر دئیے جس کے باعث نادار، غریب اور بے سہارا افراد کو ادائیگیوںکا سلسلہ رک گیا ہے ادائیگیوںکا سلسلہ منقطع ہونے کی وجہ سے سینکڑوں غریب مریضوں کے آپریشن رک گئے ہیں، کینسر، کالا یرقان اور دیگر موذی امراض کے شکار ہزاروں مریضوں کو ادویات کی فراہمی بند ہونے سے وہ پریشانی سے دوچار ہو گئے ہیں۔معاشرے کے کمزور اور قابل توجہ طبقے کی حالت زار کسی ایک دور حکومت پر محیط نہیں بلکہ ہر دور میں کم وبیش کمزور طبقے کیساتھ اسی قسم کا سلوک ہوتا آیا ہے۔ ریاست مدینہ طرز کی ریاست وحکومت کے دور میں بھی صورتحال جوں کی توں ہونے سے تبدیلی کی بجائے گزشتہ حکومتوں کے تسلسل کا گمان ہوتا ہے۔ بہرحال یہ سیاسی معاملہ نہیں بلکہ خالصتاً انسانی معاملہ ہے جس کی طرف توجہ خواہ سابق ادوار میں نہ دی گئی ہو یا پھر موجودہ دور حکومت میں اس قسم کی ناانصافی ہو رہی ہے افسوسناک ہے۔ جس ملک میں حکومت معذور افراد کے حقوق کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے استفسار پر تسلی بخش جواب نہ دے پائے اور جس صوبے میں زکوٰۃ کمیٹیوں کو ختم کرکے فنڈ منجمد کردئیے جائیں اس ملک اور معاشرے کے معذور افراد اور نادار ومستحقین زکوٰۃ لینے کہاں جائیں اور کس سے فریاد کریں۔

واجبات وصولی مہم میں عوام تعاون کریں

واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کی جانب سے بلوں کی ادائیگی نہ کرنے والے کمرشل صارفین کیخلاف آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور پانی کے بلوں کی مؤثر تقسیم سمیت عوامی آگاہی مہم کو بہتر بنانے کیلئے لائحہ عمل طے کرنے کی بھی حکمت عملی طے کرنا ہی کافی نہیں اس پر مکمل طور پر عملدرآمد اصل بات ہوگی۔ بلوں کی وصولی کیلئے سکواڈ تشکیل دینے کی اصولاً تو ضرورت نہیں کیونکہ بلوں کی وصولی کیلئے جو عملہ موجود ہے اسے ہی متحرک بناکر بلوں کی وصولی ہوسکتی ہے۔ کمپنی کے حکام کو اس موقع پراس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ بلوں کی وصولی میں ناکامی کی وجوہات کیا تھیں اور آئندہ اس کا تدارک کیسے ممکن ہے۔ ہمارے تئیں صارفین کی جانب سے پانی وصفائی کے بلوں کی ادائیگی میں لیت ولعل اور انکار کی گنجائش تو ہوتی ہے لیکن بلوں کی وصولی پر مامور عملہ کی غفلت‘ سستی اور کاہلی بھی اس کی بڑی وجہ ہے۔ اگر پانی کے بلوں کی موثر تقسیم کے بعد ان کی عدم ادائیگی پر متعلقہ عملہ بروقت کارروائی کی زحمت گوارا کرتا تو اس کیلئے سکواڈ کی تشکیل کی ضرورت نہ پڑتی۔ بہرحال یہ ایک احسن قدم ہے جس میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ شہریوں کو بلوں کی ادائیگی کی ذمہ داریوں میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے شہری اپنے حصے کے واجبات کی ادائیگی کے بعد ہی پانی کی فراہمی اور صفائی کے انتظامات میں کسر رہ جانے کی شکایت کرسکتے ہیں۔

پشتو کا پرچہ منسوخ کیا جائے

ضلع پشاور کے سرکاری سکولوں میں نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کو پشتو کا لازمی مضمون نہ پڑھائے جانے کے باعث ان سکولوں میں زیرتعلیم طلبہ سے پشتو کا پرچہ لینا سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں سرکاری سطح پر پشتو کا مضمون لازمی تو قرار دیا گیا لیکن سکولوں میں اس مضمون کو پڑھانے کیلئے اساتذہ کا انتظام نہیں کیا گیا۔ یہ امر سمجھ سے بالاتر ہے کہ صوبے میں اکثریتی زبان جسے بڑے دعوے کیساتھ سرکاری سکولوں میں شامل نصاب کیا گیا تھا مگر عالم یہ ہے کہ اسے پڑھانے کیلئے اساتذہ ہی دستیاب نہیں۔ اگر متعلقہ سکولوں کے سربراہان کو احساس ہوتا تو پشتو کا مضمون پڑھانے کے انتظامات اتنے بھی ناممکن نہ تھے۔ بہرحال بورڈ کے امتحانات میں طلبہ بغیر پڑھے اس مضمون کا امتحان کیسے دیں گے اس سوال کا جواب محکمہ تعلیم سے طلب کیا جانا چاہئے۔ اگر صورتحال زیادہ سنگین ہو تو اس سال بورڈ کو اس مضمون کا امتحان نہ لینے کی تحریری ہدایت کی جائے اور اس مضمون کو اس وقت تک نصاب سے خارج کیاجائے جب تک اساتذہ کا بندوبست نہیں ہوتا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس ضمن میں بروقت اقدامات کرنے کی ضرورت کا احساس کیا جائے گا اور طلباء کو پریشانی کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں