Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

بھارتی اداکار شتروگن سنہا کا کہنا ہے کہ ہر کامیاب مرد کی ناکامی اور زوال کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ نیز انہوں نے یہ حق گوئی بھی کردی ہے کہ وہ ہمیشہ اہلیہ کی سنتے ہیں۔ زوجہ کو اہلیہ شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہر بیوی کی نظر میں اس کا شوہر نااہل ہوتا ہے۔ شوہر کی اہلیت کا معیار بیوی کے ذہن میں کیا ہوتا ہے اور وہ کس موقع پر شوہر سے آسمان کو چھو لینے کی توقع رکھتی ہے یہ راز بیوی کبھی کسی کو نہیں بتاتی اور نہ ہی شوہر پوچھتا ہے۔ من آنم کہ من دانم‘ یہ بیگمات شوہروں کے پیچھے کیوں پڑی ہوتی ہیں ان کے آگے آگے کیوں نہیں ہوتیں۔ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ شاید اس لئے ہوتا ہے کہ عورت بے چارے مرد کو ٹک کر بیٹھنے نہیں دیتی، بے چارہ مرد گھر کی چیخ وپکار سے باہر کی محنت ومشقت کو ترجیح دیتا ہے اس لئے کامیاب مرد بن جاتا ہے۔ مردوں کی کامیابی میں پھر بھی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اس لئے کہ اگر گھر میں بیوی مرد کو کامیاب نہیں ہونے دیتی تو کوئی دوسری عورت گھر سے باہر اس کی کامیابی میں شریک ہوتی ہے۔ جن مردوں نے دو دو تین تین اور چار چار شادیاں کی ہوتی ہیں اگر وہ کامیاب مرد ہیں تو کامیابی کی شرح چار چار گنا ہونی چاہئے اور اگر ناکام ہیں تو چار چار گنا ناکامی ہونی چاہئے۔ چار بیویوں میں اگر دو دو کامیابی اور ناکامی کے اسباب پر تل جائیں تو بے چارہ مرد کہیں کا نہ رہ جائے لہٰذا ثابت ہوا کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہونے کا محاورہ ہی غلط ہے اگر ایسا ہی ہے تو پھر مردوں کو اپنی کامیابی کیلئے بہت ساری عورتوں کا ہاتھ ہونے کا فارمولہ اختیار کرکے بہت ساری کامیابیاں سمیٹنے کا بندوبست کرنا ہوگا۔ بھارتی اداکار نے بالکل صحیح کہا ہے کہ وہ ہمیشہ اہلیہ کی سنتے ہیں مرد ہر کسی کی سنتا کہاں ہے اس کی تو کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی سنائے لیکن گھر میں اس کا اُلٹ ہوتا ہے وہاں اسے سنانے کیلئے پوری تیاری اور مکمل انتظامات پہلے سے ہوچکے ہوتے ہیں اس لئے وہ جیسے ہی گھنٹی پر ہاتھ رکھتا ہے ادھر بٹن کی جنبش تو وہاں گل پاشی شروع ہوجاتی ہے۔ شتروگن سنہا اچھا کرتا ہے جو بیوی کی سنتا ہے وہ سنیں نہ سنیں سننا مجبوری جو ٹھہری۔ مرد وزن کے تعلقات درتعلقات کا حسن ہی یہ ہے کہ ایک دوسرے کی سنیں اور سنائیں مگر ان کی محفل میں اور سناؤ کیا حال ہے قسم کاجملہ کبھی کسی نے نہ کہا ہوگا نہ سنا ہوگا اس لئے کہ بندہ اس انتظار میں ہوتا ہے کہ کب وہ چپ ہوجائے اور بندہ سکھ کا گہرا سانس لے۔

یہ سطور تحریر کرتے ہوئے بھارتی ٹینس سٹار اور سیالکوٹیوں کی بہو ثانیہ مرزا کے ٹویٹ پر نظر پڑی جو کہتی ہیں کہ جب آپ کسی عورت سے بات کریں تو اس کی آنکھوں میں دیکھیں کہ وہ نگاہوں نگاہوں میں کیا کہنا چاہتی ہیں۔ اس مشورے کی کئی تشریحات ہوسکتی ہیں سوال یہ ہے کہ وہ آنکھیں اگر بیوی کی ہوں تو غشمگینی یقینی ہے۔ محبوبہ کی ہوں تو نشیلی ہوں گی رنگینی بھی ہوسکتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔

متعلقہ خبریں