Daily Mashriq


دل پشوری کیجئے‘ جلنے کڑھنے میں کیا رکھا ہے

دل پشوری کیجئے‘ جلنے کڑھنے میں کیا رکھا ہے

محمد شفیع خٹک نے شکوہ کیا کہ پچھلے چند کالم بہت ثقیل تھے‘ زبان وبیان اور موضوعات کے حوالے سے ان کا بھی ہمارے محب مکرم لالہ ارشاد اقبال کی طرح یہی موقف ہے کہ کبھی کبھی ہلکے پھلکے انداز میں لکھا کریں تاکہ زمانے کے ستائے ہوئے قارئین کچھ لمحات مسکراتے تو رہیں۔ چلیں خیر ہے پڑھنے والوں کی فرمائش کا احترام واجب ہے‘ ویسے بھی آج کل حکومت سوشل میڈیا سے بہت تنگ ہے۔ پچھلے چھ سات سال یہی سوشل میڈیا ہمارے پیارے پیارے انصافیوں کی دو دھاری تلوار تھا کشتوں کے پشتے لگاتے اور سب کچھ اُڑاتے پھرے۔ فقیر راحموں کے بقول پچھلے چھ سات سال کے دوران سوشل میڈیا کے توسط سے نئی سیاسی‘ سماجی‘ معاشی تواریخ مرتب ہوئیں۔ یہی اب تازہ سیاسی ناخداؤں کے ایمان کا پہلا رکن ہیں۔ وفاقی وزیراطلاعات نے سوشل میڈیا کا نعرہ کسنے کی نوید دی تو ہم نے فقیر راحموں سے درخواست کی وہ اب اپنی بات اور باتاں خود کیا کریں قلم مزدوری میں اتنی ہمت نہیں کہ گمشدہ ہو یا ایف آئی اے کے دفتر میں پڑے بنچ پر بیٹھ کر بیٹری سلگائے۔ خود ہم نے کتب تاریخ کو لکھنے والی میز سے کچھ فاصلے پر منتقل کرکے شاعری کی کتابیں نیڑے نیڑے کرلی ہیں۔ یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ مرحوم نسیم حجازی کے ناول خرید کے لے آؤں‘ ایمان کا حقہ تازہ کرنے کیساتھ ساتھ ان کے تاریخی رومانوی ناولوں کے اقتباسات سے جی بہلایا جائے یار زندہ تو زندگی ہے‘ گمشدہ بندے کی کیا زندگی ہے۔ 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں جبری گمشدگیوں کے مزے چکھ چکے ہیں۔ حال ہی میں ہمارے ایک برادر عزیز سید علی سجاد شاہ گمشدگی کے دنوں کا ذائقہ چکھ کر آئے ہیں۔ ان کے پیاروں کی طرح ہم بھی فقیر راحموں سمیت ان کی زندہ واپسی پر بہت خوش ہیں۔ علی سجاد شاہ ہمہ جہت نوجوان ہیں۔ بڑھاپے کی دہلیز سے ماہ وسال کے فاصلے پر کھڑے شخص کو نوجوان کہنے میں کوئی ہرج نہیں۔ ارے ہاں یاد آیا پچھلی شب ہمارے ممدوح قبلہ دہلوی سرکار جنرل (ر) سید پرویز مشرف کاظمی پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب کے مہمانان خصوصیوں میں شامل تھے۔ افتتاحی تقریب کے سٹیج پر انہیں جلوہ افروز دیکھ کر دل باغ باغ بلکہ گارڈن گارڈن ہوا۔

کیا شان ہے ہماری دہلوی سرکار کی بس اس سے آگے کچھ عرض نہیں کرنا کیونکہ حالات ایسے ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ٹھنڈی سڑک پر بھی پاؤں جلتے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے میموگیٹ سکینڈل کا معاملہ نمٹا دیا ہے۔ اس کیس میں جب قبلہ میاں نواز شریف دائم برکاۃ کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ گئے تھے تو ان سطور میں عرض کیا تھا کیانی پاشا جوڑی سے مفادات کیلئے صلح اور ان کے کھیل میں کردار میاں صاحب کو مہنگا پڑے گا۔ تب ہمارے لیگی دوست حب الوطنی کے دسویں آسمان پر بغیر پروں کے اُڑتے پھرتے تھے۔ ان دنوں لیگی دوست زمین پر ہر قدم پھونک پھونک کر رکھتے تھے۔ یاد رہے کہ حسین حقانی بارے فقیر راحموں کے ہم خیال ہیں ہم اب بھی کیونکہ ان کی سربراہی میں آئی جے آئی کے 1988ء والے میڈیا سیل کے بازاری پروپیگنڈے اور بیگم نصرت بھٹو ومحترمہ بینظیر بھٹو کی کردار کشی کی مہم کو بھول نہیں پائے۔ خیر چھوڑیں ہم اپنے دوستوں اور قارئین کی فرمائش پوری کرنے کی مقدور بھر کوشش کرتے ہیں‘ ہمارے محبوب وزیراعظم نے فرمایا ہے کہ بارشوں سے گندم کی فصل بہتر ہوگی ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اللہ جانتا ہے کہ ہم عالم اسلام کے دو عظیم قائدین جناب اردگان اور قبلہ عمران خان کو عطیہ سمجھتے ہیں۔ دو شخصیات مسلم امہ کو اسرائیل‘ بھارت اور امریکی سامراج کے تگڑم سے نجات دلا کر اس شاندار ماضی میں واپس لے جاسکتی ہیں جب لگ بھگ نصف دنیا پر ’’ہم‘‘ حکمران ہوا کرتے تھے۔ ہمارے پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض چوہان رونقی آدمی ہیں کل انہوں نے انکشاف کیا کہ کچھ لوگوں نے انہیں خریدنے کی کوشش کی ناکامی پر ان کیخلاف جادو ٹونے کے ہتھکنڈے آزما رہے ہیں۔ یہ بھی بتایا ہے کہ ان کے کمرے سے ہڈیاں ملی ہیں جس پر انہوں نے کالے علم کے ماہرین سے حساب کروانے کے علاوہ طبعی ڈاکٹر فرید پراچہ سے استخارہ بھی کروایا ہے۔ سب کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کوئی ترقی اور انصاف کا دشمن جادو ٹونے کروا رہا ہے۔ یہ کیس ویسے ایف بی آئی کی سطح کا ہے۔ فقیر راحموں کا شک ایک فیصل آبادی شخصیت کی طرف ہے لیکن محض شک پر تو کارروائی نیب والے ہی کرسکتے ہیں۔ جمعرات کی پہر سے سوشل میڈیا پر تماشے لگے ہوئے ہیں۔ میاں شہباز شریف کی ضمانت عدالت نے لی ہے انصافیوں کا غصہ لیگیوں پر نکل رہا ہے۔ اسے بھی چھوڑیں یہاں لاہور میں برائلر مرغی کا گوشت 212 روپے سے 220 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ ہمیں پاکستان کے عظیم معاشی ماہر قبلہ اسحاق ڈار یاد آگئے کیا وقت تھا جب انہوں نے مہنگائی کا علاج برائلر گوشت کھانے میں تلاش کیا تھا۔ کاش وہ آج ہوتے وطن عزیز میں تو اس مہنگائی کا کوئی شافی علاج بتاتے خیر جہاں ہیں خوش رہیں۔ ہمارے محبوب ترین سیاسی رہنما قبلہ لالہ سراج الحق نے پچھلے دنوں سیکولرازم کی جو نئی تشریح فرمائی ہے اس پر ہم ہفتہ بھر سے جھوم رہے ہیں۔ وہ تشریح ان سطور میں لکھنے سے قاصر ہیں البتہ محبوب ترین سیاسی رہنما کی خدمت میں دست بستہ گزارش ہے کہ جماعتی نصاب اور گھٹی ہوئی کتابوں کے علاوہ کبھی کچھ پڑھ لیا کریں۔ معاف کیجئے گا ان دنوں پاکستان ریلوے ترقی کے سترہویں آسمان پر ہے۔ پرانی گاڑیوں سے ڈبے کاٹ کر نئی ٹرینیں چلائی جارہی ہیں۔ سنا ہے پچاس فیصد خسارہ بھی کم ہوگیا ہے اور دوسری طرف پی آئی اے نے چھ ماہ میں 20ارب روپے منافع کما لیا ہے۔ اس سے زیادہ اچھی خبریں اور کیا ہو سکتی ہیں۔ یہ حزب اختلاف والے بس یونہی بیان شیان دیتے رہتے ہیں آپ ان پر توجہ نہ دیں۔ عرب آرہے ہیں اربوں آئیں گے‘ رہے گا نام اللہ کا اس کو ہمیشہ رہنا ہے۔

متعلقہ خبریں