Daily Mashriq


اے مری عمر رواں اور ذرا آہستہ

اے مری عمر رواں اور ذرا آہستہ

کون کہتا ہے کہ کچھ نہیں ملتا دنیا کے اس بازار میں۔ کون کہتا ہے کہ مہنگائی یا گرانی ہے۔ رب سوہنے کی مہربانی ہے ہر جنس کی فراوانی ہے یہاں تو بس ارزانی ہی ارزانی ہے۔

مہنگی ملے ہے ہر شے کہنے لگا وہ ہم سے

ہم نے کہا کہ دل میں پلتے ہیں روگ سستے

کہنے لگا کہ ساتھی اپنا رہا نہ کوئی

ہم نے کہا غلط ہے بکتے ہیں لوگ سستے

یقین جانئے یہاں سب کچھ اونے پونے داموں مل جاتا ہے مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ خریدنے والے کے کھیسے میں کھنکتے سکے ہوں، کڑکڑاتے کرنسی نوٹ ہوں۔ یہ مصر کا بازار ہے یہاں کوڑیوں کے مول بک جاتا ہے حسن یوسف اور دم عیسیٰ۔ اگر آپ کے کھیسے میں پھوٹی کوڑی نہیں تو روتے رہ جائیں گے آپ مہنگائی کا رونا۔ پس پس کر بکنے لگیں گے آپ بھی مہنگائی کی چکی میں، وہ جو ہوتے ہیں نا ثواب کمانے والے وہ غریبوں اور مسکینوں کو روٹی کپڑا تقسیم کرکے خرید لیتے ہیں ان کی غربت ماری دعائیں۔ یہاں مجبوریوں کو بکنے میں دیر نہیں لگتی اور بہت مل جاتے ہیں اس جنس ارزاں کے خریدار۔ ہر کوئی اپنی قوت خرید بڑھانے کی فکر میں محوسفر نظر آتا ہے جس کیلئے وہ اپنی ہر جنس گراں مایہ کی دکان سجا کر بیٹھ جاتا ہے یا اس کیلئے گاہک تلاش کرنے میں سرگردان ہونے لگتا ہے تاکہ وہ بھی دھن دولت کما سکے اور اپنے جینے کا بہانہ بناسکے۔ کوئی دعائیں بیچتا ہے تو کوئی کرامتیں۔ کوئی تعویز گنڈوں کی دکان کھولے بیٹھا ہے اور کوئی اپنے جبہ ودستار کو کیش کر رہا ہے۔ کوئی خدمت بیچ رہا ہے تو کوئی خدمت کی عظمت یہ جو ہماری قانون ساز اسمبلیوں کے رکن بنتے ہیں کوئی انہیں مفت میں یا کسی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتا اسمبلیوں کی رکنیت۔ بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ان بے چاروں کو جان جوکھوں میں ڈال کر، دشمنیاں مول لیکر، سو سو طرح کی خوشامدیں کرکے، سچے جھوٹے خواب بیچ کر حاصل کرتے ہیں یہ قومی یا صوبائی اسمبلی کی سیٹ۔ان میں سے بہت سے بہت کچھ ہار کر گمنامیوں کے گوشوں میں جا بیٹھتے ہیں اور جو قسمت کے دھنی یا مقدر کے سکندر ثابت ہوتے ہیں پا لیتے ہیں اس منزل مراد کو جس کیلئے انہوں نے تجوریوں کے منہ کھول کر سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا یہ جوا جیتنے کیلئے۔ واہ رے بدلتے زمانے، کبھی چھکا کبھی تیر دانے۔ ضروری نہیں کہ ہر بال پر چھکا لگ سکے۔ گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔ ہار اور جیت لازم وملزوم ہیں۔ رات اور دن اندھیرا اور روشنی سیاہ اور سفید خوش قسمتی اور بدنصیبی سکے کے دو رخ بن کر ہمیں نیکی اور بدی اچھائی اور برائی کا ادراک بخشتے ہیں۔ کبھی کبھی کھوٹے سکے بھی چل جاتے ہیں اس دنیا کے بازار میں مگر اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ کوئی گاڑی بھی پئے کے بغیر نہیں چل سکتی۔ دفتروں میں فائلوں کے نیچے پہئے لگائے جاتے ہیں تب بات بن جاتی ہے ورنہ معاملہ کھڈے لائن لگ جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ایسی حرکتوں کو کرپشن کا نام دیکر منی کو بدنام کرتے رہتے ہیں لیکن جس وقت ہمیں اس بات کا علم ہوتا ہے کہ دھوکہ فریب ظلم زیادتی کے بغیر اس کارگاہ حیات میں جینا محال ہے تو ہم کرپشن کیخلاف یوں بولنے لگتے ہیں جیسے کوئی بیروزگاری کیخلاف دھواں دھار تقریر کررہا تھا، جب اس سے پوچھا گیا کیا تم بیروزگار ہو، جس کے جواب میں وہ خاموش ہوگیا، لیکن اس کی دھواں دھار تقریر کا پول کھولتے ہوئے ایک بندہ بول اُٹھا کہ صاحبو تقریر کرنے والا بیروزگار نہیں بلکہ بیروزگاری کیخلاف تقریر کرنا ہی اس کا روزگار ہے۔ کچھ لوگ اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگارہے تھے کہ ہماری تنخواہوں میں اضافہ کرو، ہمیں زیادہ سے زیادہ مراعات دو، ان کے مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ ہم سے ہرگز کام نہ لو، یہ کیسا مطالبہ ہے، ان کی شنوائی کرنے والوں نے کہا جس کے جواب میں وہ کہنے لگے کہ بس یہ بھی ایک مطالبہ ہے جو آپ کو ماننا پڑے گا، ہمارے صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے معزز اراکین نے اسپیکر مشتاق احمد غنی کو تنخواہیں بڑھانے اور مراعات میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے ردعمل میں انہوں نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، ظاہر ہے ریوڑھیوں کی اس تقسیم میں ہر کوئی اول خویش اور بعد درویش کا مثالی کردار پیش کرے گا، کہ یہ اس کا حق ہے، ہم لوگ اپنے فرائض بیچ کر حقوق خریدتے ہیں، قومی اور صوبائی اسمبلی کے معزز اراکین عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر مفت میں تھوڑا پہنچے ہیں قانون ساز اسمبلیوں کی کرسیوں پر رونق افروز ہونے کیلئے، انہوں نے اپنی بے بدل صلاحیتوں کو کیش کیا اور عوام کے دلوں میں اپنا مقام پیدا کرکے قبول عام اور بقائے دوام کی سند حاصل کی۔ وہ اس منزل تک پہنچے جہاں انہوں نے عوام کی خدمت اور ان کے دلوں کی دھڑکنوں کی ترجمانی کا فرض ادا کرنا ہے، لیکن اس فرض کو نبھانے کیلئے ان کا مراعات حاصل کرنے اور تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ بھلا کیسے ناجائز ہوسکتا ہے، عوام بے چاری پیدل یا سواری کی صورت تو جن سڑکوں پر گھومتی پھرتی نظر آتی ہے وہ اس کی بھی قیمت ادا کرتی ہے، ہمارے منتخب نمائندے ان ہی لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہوکر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں اگر وہ اپنی لمبی لمبی کاروں کو مزید لمبا کرلیں تو اس میں کیا قباحت ہے، ان کو اپنی حیثیت اور مرتبے کیش کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے لیکن اس شرط پر کہ وہ عوام سے کئے ہوئے وعدوں کو بھی پورا کر پائیں

باندھ کر عہدوفا کوئی گیا ہے مجھ سے

اے مری عمر رواں اور ذرا آہستہ

متعلقہ خبریں