Daily Mashriq

عدل پر اعتماد

عدل پر اعتماد

لاہور ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف ‘ وفاقی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کی آشیانہ ہاؤسنگ سکیم اور رمضان شوگر ملز کیس میں ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے مختصر فیصلے کے اجراء کے بعد وہ ایک ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے پر رہا ہو نے والے ہیں۔ قومی احتساب بیورو جس نے محولہ بالا دونوں ریفرنسز دائر کیے تھے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرے گا۔ میاں شہباز شریف کو گزشتہ سال 6اکتوبر کو نیب نے گرفتار کیا تھااور تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ان کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کیے تھے۔ اس دوران 6دسمبر کو انہیں عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ جس کے چند دن بعد وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئے تھے اور اس کے بعد قومی اسمبلی کی کارروائی میں شرکت کی بناء پر وہیں مقیم رہے۔ اس طرح پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ 64دن جسمانی ریمانڈ پر نیب کے زیرِ حراست رہے۔ یہ تو عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ہی واضح ہو گا کہ ان کی ضمانت پر رہائی انکی خرابیٔ صحت کی بنا پر ہوئی ہے یا اس کی کوئی دوسری وجوہ بھی ہیں تاہم یہ ضمانت پر رہائی بھی اکتوبر سے لے کر فروری تک چار ماہ کے عرصہ کے بعد ہوئی ہے۔ ریفرنسز کا فیصلہ ابھی آنا ہے۔ نیب کے قانون کے مطابق اسے کسی ملزم کو نوے دن تک زیرِ حراست رکھنے کا اختیار ہے ۔ اس قانون کے مطابق اس دوران نیب تحقیقات کرتا ہے اور مقدمہ تیار کرتا ہے۔ لیکن اس کے لیے نوے دن تک حراست میں رکھنے سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اس دوران ملزم کو پلی بارگیننگ کی طرف راغب کیا جاسکتا ہے۔ اس قانون کا جواز یہ بتایا جاتا ہے کہ نیب کی تحقیقات کے دوران ملزم تفتیش پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ لیکن گرفتاری ہونی ہی اس وقت چاہیے جب ملزم کے خلاف کوئی قابلِ یقین ثبوت ہوں۔ اگر اس ثبوت کے بعد بھی کسی مزید تحقیقات کی ضرورت ہوتو اس کے لیے نوے دن بہت طویل مدت ہے۔ اس دوران ملزم کی شہرت کو نقصان پہنچتے رہنے کا امکان موجود رہتا ہے۔ بہرحال یہ قانون موجود ہے اور جب تک اس میں تبدیلی نہیں ہو گی موجود رہے گا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اتنی سہولت کی موجودگی کے باوجود کیا نیب ایسے تمام کیسز میں ثبوت اکٹھے کر لیتا ہے؟ اگر نیب کے پاس ٹھوس ثبوت ہوں تو مقدمہ کا فیصلہ ہو جانے میں تاخیر نہیںہونی چاہیے اور انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔ کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے محرومی ہوتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ سفید پوش جرائم کی تفتیش نہایت کٹھن ہوتی ہے ۔ لیکن گرفتاری ہونی ہی تب چاہیے جب قابلِ یقین شواہد تک رسائی ہو سکے۔ اس کے بعد شواہد تلاش کرنے اور گواہوں کی نشان دہی کرتے ہی تاخیر ناقابلِ فہم ہے۔ نیب کے ریفرنسز کے فیصلوں میں تاخیر سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ نیب کے پاس تفتیش کی یا تو اہلیت کم ہے یا پیروی کرنے والے وکلاء استغاثہ کی۔ نیب کی ذمہ داری نہایت اہم ہے۔ چیئرمین نیب ریٹائرڈ جاوید اقبال بالعموم کہتے رہتے ہیں کہ نیب کا مشن ملک کو کرپشن سے پاک کرنا ہے ۔ ملک میں کرپشن کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ اعلیٰ سطح سے لے کر چھوٹے اہل کاروں تک اس میں بہت سے لوگ ملوث ہیں۔ بھاری سکینڈلز کی خبریں عام شائع ہوتی رہتی ہیں۔ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ پاکستانیوں کی دوسرے ملکوں میں نہ ظاہر کی گئی جائیدادوں کی مالیت اربوں روپے بتائی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں نیب کی ذمہ داری بہت بھاری ہے۔ نیب کے پاس ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد مزید تفتیش کے لیے نوے دن تک زیرِ حراست رکھنے کی قانونی اجازت بھی ایک بڑی سہولت ہے۔ اس کے باوجود اگر نیب کے مقدمات عدالتوں میں معلق رہتے ہیں تو اس سے یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یا تو نیب کا تفتیشی شعبہ کمزور ہے یا پیروی کا یا پھر دونوں۔ زیرِ نظر معاملے میں نیب کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا۔ نیب کے پاس ہوں گے کوئی دلائل جو اس اپیل کی بنیاد بنیں گے لیکن لاہور ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران جو نکات سامنے آئے وہ بھی تو نیب کے قائم کردہ مقدمے کی بنیاد پر ہی سامنے آئے ۔ نیب کی طرف سے قائم کیے ہوئے مقدمات شہرت پاتے ہیں میڈیا میں ان کا ذکر بار بار آتا ہے جس کے باعث نیب کے ملزموں کی شہرت اور نیک نامی کو نقصان پہنچتا ہے۔ اگر نیب کا مقدمہ کمزور ثابت ہو جائے تو اس سے نیب کی اپنی شہرت اور نیک نامی کوبھی نقصان پہنچتا ہے۔ ملک میں انصاف کی فراہمی پر اعتماد کے حوالے سے یہ دونوں صورتیں باعثِ تشویش ہیں۔ اس سے معاشرے میں عدل پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ اور یہ بہت بڑا قومی نقصان ہے۔ اس لیے نیب کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک مضبوط اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا اعلیٰ ترین ادارہ ثابت کرے۔ کسی پرانگشت نمائی مقصود نہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں نیب کی کارکردگی پر عوام بہت متوجہ ہیں۔ نیب کے مقدمات کے ساتھ عوام کی سیاسی دلچسپی بھی گہری ہے ۔ عوام کا اعتماد قائم رکھنے کے لیے نیب اور اس کے اہل کاروں کی ذمہ داری دوچند ہے۔ نیب کے اندر بھی کارکردگی کے معیار کے حوالے سے مواخذہ کا کوئی نظام ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں