Daily Mashriq


نوابشاہ میں ایک ہی خاندان کے 16 بچے کمیاب جینیاتی مرض کے شکار

نوابشاہ میں ایک ہی خاندان کے 16 بچے کمیاب جینیاتی مرض کے شکار

کراچی: نوابشاہ میں ایک ہی خاندان کے 16 بچوں میں جینیاتی مرض کا انکشاف ہوا ہے جس کے اثر سے ان کے ہاتھ اور پیر مڑے ہوئے ہیں اور تمام بچے ذہنی طور پر معذور ہیں۔ اب یہ بچے بستر سے اٹھنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ 

ابتدائی اندازے کے مطابق تمام بچے نیورومسکیولر ڈیزیز میں مبتلا ہیں ۔ یہ مرض ایک ہی خاندان میں مسلسل شادیوں کی وجہ سے بھی لاحق ہوتا ہے جس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ جامعہ کراچی میں واقع جمیل الرحمان سینٹر فار جینوم ریسرچ نے خاندان کے تمام افراد کے ڈی این اے نمونے لے کر اس پر تحقیق شروع کردی ہے۔

واضح رہے کہ نیورومسکیولر مرض کے شکار تمام افراد بستر سے لگ چکے ہیں اور سب کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک نایاب موروثی مرض ہے اور شاید ہی پاکستان میں اس پر کوئی سنجیدہ تحقیق کی گئ ہے۔ 

نیورومسکیولر کے شکار سب سے بڑے بچے کی عمر 18 اور سب سے چھوٹے بچے کی عمر 4 برس ہے۔ تمام بچے صحتمند پیدا ہوئے تھے اور کسی مرض کے شکار نہیں تھے۔ رفتہ رفتہ وہ ذہنی و جسمانی بیماری ظاہر کرتے ہوئے بیٹھنے کے قابل بھی نہ رہے۔

جامعہ کراچی میں بین الاقوامی مرکز برائے کیمیا و حیاتیاتی علوم ( آئی سی سی بی ایس) کے ذیلی ادارے جمیل الرحمان سینٹر فار جینوم ریسرچ نے وزیرِ صحت عذرا افضل پیچوہو کی سفارش پر متاثرہ بچوں کے علاوہ خاندان کے دیگر صحتمند افراد کے خون اور ڈی این اے کے نمونے لے کر جینیاتی تجزیہ شروع کردیا ہے۔

تحقیقی مرکز سے وابستہ ڈاکٹر اشتیاق احمد خان نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ خاندان میں کزن کے درمیان شادیوں کی وجہ سے یہ مرض سامنے آیا ہے۔ تاہم دیگر وجوہ جاننے کے لیے علاقے سے پانی کے نمونے بھی لیے گئے تھے تاکہ بھاری دھاتوں یا دیگر ممکنہ جراثیم کا جائزہ بھی لیا جاسکے۔ ماہرین نے پانی میں کسی قسم کا کوئی منفی اثردریافت نہیں کیا اور نہ ہی علاقے کے دیگر افراد میں ایسا مرض دیکھا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر اشفاق کی نگرانی میں ڈاکٹر محمد عرفان اور ڈاکٹر ملیحہ زمان نے نے نوابشاہ میں متاثرہ خاندان کے گھر کا دورہ کیا جس میں خاندان کے مرض کی تاریخ، شجرہ نسب، بیماری کی علامات اور غیر طبعی انداز میں وفات پاجانے والے خاندان کے افراد کی معلومات بھی لی گئیں۔

ان معلومات کی روشنی میں معلوم ہوا ہے کہ خاندان کے تین سگے بھائیوں اور ایک بھتیجے کی شادیاں خاندان میں ہی ہوئی ہیں۔ یہ تین خاندان اپنے اپنے سربراہ حاجی محب علی، قربان اور عبدالفتح کے نام سے معروف ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کوئی بھی بچہ ذہنی یا جسمانی طور پر معذور پیدا نہیں ہوتا۔ تین سے چار برس کی عمر میں متلی اور قے شروع ہوتی ہے اور یہ سلسلہ کچھ ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔ اس سے بچے کی قوتِ مدافعت کمزور ہوتی ہے جو کئ انفیکشن کی وجہ بنتی ہے۔ بعد ازاں بچہ بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اسے تیز بخار کے دورے (فیبرائل سیزر) پڑتے ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ کیفیت بھی کم ہوجاتی ہے لیکن پھر بدن ایک خاص انداز سے مفلوج ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

پھرجسم مخصوص اندازمیں مفلوج ہونے لگتاہے جس میں اس کے ہاتھ اور پاؤں مڑنا شروع ہوجاتے ہیں یا اپنی صورت بدل کر اکڑ جاتے ہیں۔ اس طرح 13 سے 16 برس کی عمر میں بچے مکمل صاحبِ فراش ہوجاتے ہیں۔ نشوونما میں تاخیر ہوتی ہے اور وہ متاثر ہوکر ذہنی طور پر مکمل طور پر مفلوج ہوجاتے ہیں اور ان کے منہ سے  رال بھی ٹپکنا شروع ہوجاتی ہے۔

خاندان میں شادیاں اور ’کزن میرج‘

آئی سی سی بی ایس کے سربراہ ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے بتایا کہ ماں اور باپ دونوں کے جین میں کچھ خرابی یا تبدیلی ہو تو انفرادی طور پر وہ مرض ان دونوں میں واضح نہیں ہوتا لیکن ان کی اگلی نسل میں وہ زیادہ شدت سے سامنے آتا ہے۔ اسی لیے خاندان کے درمیان شادیوں کو حوصلہ شکنی کرکے ان امراض کے خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

لیکن نسل در نسل ایک ہی خاندان کے مابین شادیوں کا سلسلہ جاری رہے تو ان دیکھے جینیاتی امراض کے خطرات زیادہ بڑھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر اقبال چوہدری نے مزید کہا کہ اس مرض کا کوئی علاج نہں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کی ہرطرح سے معاونت کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خاندانوں کے مابین شادیوں اور کزن میرج کے خلاف قانون سازی کرے ۔ یہ قانون کئی برس سے ایران میں سختی سے نافذ ہے اور وہاں آپس کی شادیاں ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں