Daily Mashriq


دہشت گردوں کے لئے الگ قوانین

دہشت گردوں کے لئے الگ قوانین

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ملک میں دہشت گرد تنظیموں کی گنجائش کو رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کے لئے الگ قوانین بنانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اور فرقہ وارانہ تنظیموں میں فرق ہونا چاہئے۔ گزشتہ روز اپنے حلقہ انتخاب کلر سیداں میں منتخب بلدیاتی نمائندوں سے ملاقات کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے اپوزیشن اور حکومت کے مابین مشاورت جاری ہے۔ دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تیز ترین عدالتی نظام لائیں گے ۔ اس حوالے سے آئندہ چند روز تک صورتحال واضح ہو جائے گی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد ان عدالتوں میں قائم دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کو دیگر متبادل عدالتوں میں منتقل کردیاگیا ہے جبکہ فوجی عدالتوں کے قیام کے سلسلے میں بطور خاص پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے حلقوں میں تحفظات موجود ہیں۔ تاہم اس میں قطعاً شک نہیں ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کو اگر جڑ سے اکھاڑنا مقصود ہے تو اس کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کی اشد ضرورت رہے گی۔ کیونکہ اب تک ان عدالتوں سے دہشت گردوں کو سزا ملنے اور ان پر فوری عمل درآمد سے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ خصوصاً فاٹا میں جاری دہشت گردی اور کراچی میں جو حالات گزشتہ کئی برس سے دیکھنے کو ملتے رہے ہیں جن میں ٹارگٹ کلنگ' بھتہ خوری' اغواء برائے تاوان' دہشت گردوں کی سہولت کاری پاکستان کی سلامتی کے خلاف منظم طور پر ایک خاص سیاسی جماعت کی سرپرستی میں سر گرمیوں نے محب وطن پاکستانیوں کی زندگی اجیرن بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ اس قسم کی وطن دشمن سرگرمیوں کی اجازت د نیا کسی بھی ملک میں نہیں دی جاسکتی اور جب تک ان عناصر کی سرکوبی کے لئے تیز ترین عدالتی نظام قائم نہ کیا جائے یہ بات سوچنا بھی بے کار اور فضول ہے کہ اس قسم کی دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ خصوصاً جبکہ ان کی پشت پناہی وطن دشمن عناصر غیر ملکی آقائوں کی مدد سے کر رہے ہوں۔ یہ بات اب کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں رہی کہ کراچی اور بلوچستان میں جو لوگ پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں ان کی مالی اور دیگر حوالوں سے امداد پاکستان کا ازلی دشمن بھارت کر رہاہے۔ رہ گیا یہ سوال کہ دہشت گرد اور فرقہ وارانہ تنظیموں میں فرق ہونا چاہئے تو اصولی طور پر اس بات سے عدم اتفاق کی اگرچہ کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکونکہ دہشت گرد بغیر کسی استثنیٰ کے اپنی سر گرمیاں جاری رکھتے ہیں اوران کا ٹارگٹ ہر فرقے اور مسلک کے لوگ ہوسکتے ہیں جبکہ فرقہ وارانہ تنظیمیں صرف مخالف مسالک اور فرقوں کے افراد کو نشانہ بناتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان دونوں یعنی دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کی سرگرمیوں کے درمیان فرق کی سرحدات نہایت نازک لکیر کے ذریعے ہی الگ دکھائی دیتی ہیں اور فرقہ پرستوں کے اندر جو لوگ انتہا پسندی میں مبتلا ہیں ان سے بھی اندازے کی ذرا سی غلطی سے ان کی سر گرمیاں بھی دہشت گردی کی لکیر کو کراس کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لئے ان میں فرق کرنا بھی انتہائی مشکل امر بن جاتا ہے۔ بہر حال اب جبکہ ملک میں افواج پاکستان کی بے بہا قربانیوں نے دہشت گردی کو بڑی حد تک روک لگا دی ہے اور دہشت گرد اپنی سلامتی فرار ہونے میں ہی سمجھتے ہیں اور ان کی سرگرمیوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیاگیا ہے تاہم وہ اب بھی جہاں موقع ملتاہے اپنی بکھری ہوئی قوت مجتمع کرکے کہیں نہ کہیں وار کر بیٹھتے ہیں اور اب جبکہ فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کے مقدمات متبادل عدالتوں میں زیر سماعت ہیں یہ صورتحال ان کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتی ہے اور ان کی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہوسکتی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ یا تو دہشت گردی کے واقعات کی سماعت کے لئے فوجی عدالتوں کے قیام کے سوال پر ایک بار پھر سنجیدگی سے غور کیا جائے یا جیسا کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے عندیہ دیاہے اس قسم کے مقدمات کے لئے الگ قوانین بناکر تیز ترین عدالتی نظام کے قیام پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہوں تاکہ دہشت گردوں کے خلاف قائم مقدمات کو سرعت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچا کر ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے اور فیصلوں کے بعد ان پر عمل درآمد کو بھی جلد از جلد یقینی بنایا جائے۔ کیونکہ فوجی عدالتوں کے ذریعے جن لوگوں کے خلاف جرم ثابت ہونے پر پھانسی کی سزائیں دی گئیں اس وقت آرمی چیف نے ان سزائوں کی توثیق کے فوری احکامات بھی جاری کئے اور تیزی سے انہیں پھانسی دے کر نشان عبرت بھی بنایاگیا۔ انہی وجوہات کی بناء پر ملک سے دہشت گردی کے بڑی حد تک خاتمے میں مدد ملی اور دہشت گرد بھاگنے پر مجبور بھی ہوتے رہے۔ امید ہے کہ جملہ سیاسی قیادت اس حوالے سے اتفاق رائے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے قوانین بنانے میں کامیاب ہو جائے گی جن پر عملدرآمد سے ملک میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ خبریں