Daily Mashriq


صوبے میں سرمایہ کاری کی سہولت

صوبے میں سرمایہ کاری کی سہولت

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے ڈنمارک کے سفیر کی طرف سے صوبے میں دیر پا توانائی ' زراعت اور دیگر شعبوں کی ترقی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی ترسیل اور سرمایہ کاری میں دلچسپی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے قدرتی اور معدنی ذخائر کی وجہ سے یہاں سرمایہ کاری کے خاطر خواہ مواقع موجود ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت ڈینش کمرشل کمپنیوں کو بھی خوش آمدید کہے گی۔ فریقین نے اتفاق کیا کہ دونوں حکومتوں کے درمیان تجارتی' ثقافتی اور کمرشل تعلقات اور باہمی روابط کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کو اللہ رب العزت نے بے پناہ وسائل سے نواز رکھا ہے جن میں پانی کے وافر ذخائر کے ساتھ ساتھ معدنیات اور زراعت کے وسائل بھی شامل ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے بھی ان قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کے لئے اپنے اپنے دور میں مختلف منصوبے بنائے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو اس جانب راغب کرنے کی کوششیں کیں لیکن ان مراعات سے فائدہ اٹھانے میں بوجوہ کامیابی نہیں ہوئی۔ کبھی وفاقی حکومت سے این او سی کے حصول میں مشکلات آڑے آتی رہیں اور کبھی کوئی اور مسئلہ سامنے آتا رہا۔ اگر ہم پانی کے ذخائر ہی کو لے لیں تو صوبے کے بالائی علاقوں سوات' دیر' چترال' کاغان وغیرہ میں ایسے چھوٹے چھوٹے آبشار موجود ہیں جہاں پر مقامی سطح پر اونچائی سے گرنے والے ان پانی کے ذخائر کو جنریٹ کرکے وافر مقدار میں پن بجلی کے حصول کو ملکی ضروریات کے لئے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ آگے اسی پانی کو مقامی سطح پر آبپاشی اورآبنوشی کے کام لایا جاسکتاہے۔ اسی طرح صوبے میں قیمتی اور نیم قیمتی پتھرں کے وافر ذخائر کو بروئے کار لاکر قیمتی زر مبادلہ کمایا جاسکتاہے جبکہ ان پتھروں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تراش خراش کے عمل سے گزار کر عالمی مارکیٹ میں پہنچایا جاسکتاہے اور ٹیکنالوجی کو مقامی سطح پر لگا کر روز گار کے مواقع بھی پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ اس حوالے سے اس شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری سے بھی بھرپور استفادہ کیاجاسکتاہے اور مقامی صنعتکاروں کے تعاون سے انڈسٹری کے فروغ میں مدد لی جاسکتی ہے۔ امید ہے کہ ڈنمارک کے سرمایہ کاروں کو اس جانب راغب کرکے صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیاجاسکے گا جبکہ روز گار کے مواقع کی فراہمی سے بے روزگاری پر بھی قاپو پانے میں مدد ملے گی۔

گیس پریشر کمی' گورنر کا نوٹس

گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں سوئی گیس کے کم پریشر کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کو حل کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ سوئی گیس ایک بنیادی ضرورت ہے اس کے بغیر کھانا پینا نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھائے جائیں اور گیس کے کم پریشر کا مسئلہ حل کیاجائے جس سے رروز مرہ کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ ادھر سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک اعلامیے میں سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی پشاور میں گیس پریشر میں کمی پر سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گیس پریشر میں کمی سے عوام شدید مشکلات سے دو چار ہیں۔ وفاقی حکومت فوری طور پر گیس پریشر میں کمی اور لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرے۔ پشاور ہائی کورٹ نے فیصلہ دے رکھا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی گیس پر پہلا حق صوبہ خیبر پختونخوا کا ہے لیکن اس کے باوجود پشاور میں گیس لوڈشیڈنگ اور پریشر میں کمی تو ہین عدالت کے زمرے میں شامل ہے اور محکمہ توہین عدالت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ جہاں تک چیمبر کے اراکین کے اٹھائے گئے اس سوال کا تعلق ہے کہ صوبے میں گیس پریشر میں کمی اور لوڈ شیڈنگ سمجھ سے بالا تر ہے تو اس حوالے سے صرف تین روز پہلے اخبارات میں چھپنے والی یہ خبر خاصی چشم کشا اور اصل وجہ دکھائی دیتی ہے کہ گھریلو صارفین کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے دو چار اور ان کے لئے گیس پریشر میں کمی کرکے سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے یہ ناجائز حرکت محکمے کے حکام کی آشیر واد کے بغیر قطعاً نا ممکن ہے۔ اسی لئے ہم گورنر خیبر پختونخوا سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے انکوائری کا حکم دے کر اس بے قاعدگی میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت کی بار بار اس جانب توجہ دلانے کے باوجود اس مسئلے کے حل کی جانب کوئی پیش رفت نمائندہ حکومت کی سطح پر نظر نہیں آتی۔ کیونکہ صوبائی حکمران شہر کے جس علاقے میں رہائش پذیر ہیں وہاں سوئی گیس حکام بھی جاتے ہوئے اور اس علاقے میں گیس پریشر میں کمی کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی پریشان ہو جاتے ہیں۔ لے دے کر بے چارے عوام ہی رہ جاتے ہیں جن پر گرمیوں میں بجلی لوڈشیڈنگ اور سردیوں میں گیس لوڈشیڈنگ کاعذاب مسلط کردیا جاتاہے۔ بہر حال اب جبکہ گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے نوٹس لے لیا ہے تو دیکھتے ہیں کہ مسئلہ حل ہوتا ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں