Daily Mashriq


اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ثالثی کی پیشکش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ثالثی کی پیشکش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈیویجک کی وضاحت جسے یقین دہانی کہنا مناسب ہوگا ، خوش آئند ہے۔ گو کہ تنازع کشمیر کے حوالے سے ثالثی کی پیش کش عالمی ادارے کے نئے سربراہ انٹونیو گوٹریس کے ایجنڈے پر ہے اور ماضی کی طرح سرد خانے کی نذر نہیں ہو گئی۔ ترجمان ڈیوریجک نے کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل نے یکم جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے بعد ابھی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور عنقریب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے رابطہ کریں گے۔ سیکرٹری جنرل گوٹریس قبرص کے تنازعہ کے حل میں گہری دلچسپی لیتے ہوئے محسوس کیے جا رہے ہیں اور اسی بنیاد پر ان کے ترجمان کی توجہ تنازعہ کشمیر کی طرف مبذول کرائی گئی تھی کہ آیا تنازعہ کشمیر بھی ایجنڈے پر اسی طرح اہمیت کا حامل ہے جس طرح وہ قبرص کے ایشو پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس سوال پر سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تنازع کشمیر کو نظر انداز نہیں کیا جارہا بلکہ سیکرٹری جنرل کی طرف سے اس تنازع پر ثالثی کی پیش کش ان کے پروگرام میں شامل ہے۔ یہ یقین دہانی پاکستان کے لیے خوش گوار ہے۔ تاہم یہ عام معلومات کا حصہ ہے کہ متعدد عالمی لیڈروں نے جب بھی تنازعہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی تو بھارت نے اسے قبول نہیں کیا۔ بھارت کی طرف سے یہ استدلال پیش کیا گیا کہ یہ معاملہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ ہے اور اسے دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جائے گا۔ اس مؤقف کو سچ ثابت کرنے کے لیے بھارت نے مرحلہ وار مذاکرات پر رضامندی کا اظہار بھی کیا ۔ اور اصرار کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کے اقدامات اور کشمیر کے تنازع کی نسبت کم اہم تنازعات پر پہلے گفتگو کی جائے اور کشمیر کے تنازع پر آخر میں بات کی جائے۔ لیکن ایک بار ممبئی کی واردات کا واردات کے دوران ہی پاکستان پر الزام دے کر ''جامع مذاکرات'' ختم کر دیے اور دوسری بار پٹھانکوٹ ایئربیس پر حملہ کو جواز بنا کر مذاکرات سے فرار کی راہ اختیار کی ۔ گزشتہ سات دہائیوں کی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ بھارت کی طرف سے دو طرفہ مذاکرات پر وقتاً فوقتاً آمادگی محض انکار کا پیش خیمہ ہوتی ہے اور حکمت عملی ہی یہ دکھائی دیتی ہے کہ دو طرفیت کی بات کرتے رہو ' مذاکرات سے اجتناب کرتے رہو تاآنکہ کہ کشمیر کی تحریک آزادی خود بخود ختم ہو جائے۔ اس حکمت عملی کے ساتھ ساتھ بھارت غیر کشمیریوں کو کشمیر میں آباد کرنے کی پالیسی پربھی گامزن ہے ۔ یہ پالیسی اس بات کی چغلی کھاتی ہے کہ جب کشمیر کی آبادی میں اصلی کشمیریوں کی تعداد کم ہو جائے گی تو استصوابِ رائے پر آمادگی بھی ظاہر کر دی جائے گی۔ بھارت کی کشمیر کے تنازعے کے بارے میں تاخیر کی پالیسی کی بنیادی غلطی کشمیر کی آزادی کی حالیہ تحریک نے ثابت کر دی ہے۔ اس تحریک نے نہ صرف بھارت پر واضح کر دیا ہے کہ کسی قوم کو ظلم ، جبر اور دھاندلی کے ذریعے اپنے قومی تشخص سے محروم نہیں کیا جا سکتا بلکہ بین الاقوامی کمیونٹی پر بھی واضح کر دیا کہ آزادی ہر قوم کا بنیادی حق ہے۔ آزادی کشمیر کی حالیہ تحریک گزشتہ چھ ماہ سے جاری ہے۔ اگرچہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں غیر ملکی میڈیا کے داخلے پر پابندی جاری رکھی تاہم بھارت کی انسانیت دشمن کارروائیاں ساری دنیا کی معلومات میں کسی نہ کسی حد تک ہیں۔ دنیا میں ایک تبدیلی یہ دکھائی دیتی ہے کہ عالمی لیڈر اس بات کے قائل ہو رہے ہیں کہ تنازعات کو جاری رکھنا دنیا بھر کے امن و استحکام اور ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ان پر صرف ہونے والی انسانی توانائیوں کو معاشی خوشحالی پر صرف ہونا چاہیے۔ تنازعات کے جاری رہنے سے انتہا پسندی کو فروغ حاصل ہوتا ہے جسے محدود رکھنے میں دنیا کی حکومتیں ناکام ہو چکی ہیں۔ باور کیا جا سکتا ہے کہ ایسے نتائج سامنے آنے کی بنا پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل دیرینہ تنازعات کے حل کی طرف توجہ دے رہے ہیں اور اس میں انہیں عالمی رہنماؤں کی اکثریت کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے۔ لیکن یہ واضح رہنا چاہیے کہ اقوام متحدہ کوئی عدالتی ادارہ نہیں ہے۔ یہ عالمی مدیروں اور سفارت کاروں کا فورم ہے ۔ اس کی رائے مدبرین اور عوام کی رائے سے تشکیل پاتی ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی امداد کے وعدے کا پابند ہے اور یہ ذمہ داری نبھا بھی رہا ہے۔ لیکن موجودہ صورت حال میں جب عالمی مدیروں کا رویہ تنازعات کو طے کرنے پر قائل نظرآتا ہے پاکستان پر یہ ذمہ داری نبھانے کا تقاضا دو چند ہوجا تا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جس وضاحت کے ساتھ کشمیر کا مقدمہ پیش کیا وہ قابلِ اطمینان ہے لیکن ایک بار پھر یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کوئی عدالتی ادارہ نہیں ہے۔ یہ ایک سفارتی فورم ہے ۔ سفیر اپنے اپنے ملک کا رویہ اور پالیسی لے کر اس ادارے میں آتے ہیں۔ اور ملکوں کا رویہ اور پالیسی عوامی رائے سے تشکیل پاتی ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ وہ دنیا بھر میں ایک بھرپور سفارتی مہم کشمیر کا مقدمہ پیش کرنے کے لیے چلائے۔ گزشتہ سال کے دوران جو منتخب نمائندے ملکوں ملکوں بھیجے گئے تھے ان سے مفصل رپورٹ حاصل کی جانی چاہیے اور اس رپورٹ سے اخذ کیے جانے والے نتائج کی روشنی میں دفتر خارجہ نئے نمائندوں کو بریف کرے۔ تاکہ وہ دنیا کے دانشوروں ، تھنک ٹینکس اور صائب الرائے حلقوں کے سامنے موثر طور پر کشمیر کا مقدمہ پیش کر سکیں۔ دنیا بھر کے عوام کشمیریوں کے بارے میں دردمندانہ رویے کے حامل ہوں گے تو بھارت اب کی بار شاید یہ کہہ کر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ثالثی کی پیش کش کو نہیں ٹھکرا سکے گا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تنازعہ ہے۔ یہ تنازعہ انسانیت اور بھارتی حکومت کے درمیان ہے اور اسے اسی حوالے سے دیکھا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں