بلا ناغہ

بلا ناغہ

کوئی آدمی ایک اچھاکام اگر بلاناغہ کرے تو اس سے اچھی بات اور ہو ہی نہیں سکتی ۔لیکن ہمارے ہاںیہ صرف ایک خواب ہوسکتا ہے ۔کیونکہ ہم بہت سے ناپسندیدہ کام تو بلا ناغہ کرتے ہیں لیکن اچھے کام کرتے ہوئے جلدی تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہماری توانائی، ہمارا وقت اور سوچ مثبت سرگرمیوں پرصرف اور مرتکز ہوجائے۔ ہم میں سے اکثر لوگ کچھ کام اتنا تسلسل کے ساتھ کرتے ہیں کہ اس میں چھٹی کرنا بھی گناہ سمجھتے ہیں ۔نارووال میں جلسے سے خطاب میں وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ'' کچھ لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور بلاناغہ بولتے ہیں''۔ مجھے ان کی بات سن کر ''بلاناغہ مزہ'' آیا کیونکہ انہوں نے بالکل صحیح بات کہی ۔وزیر اعظم نواز شریف نے جن کے بارے میں یہ بات کی ہے مجھے ان سے کوئی غرض نہیں ۔لیکن ان کے اس جملے میں ''بلاناعہ ''میرے مطلب کاہے ۔جھوٹ جہاں انسان کی شخصیت کو داغدار کرتی ہے وہاں اس کو لوگوں کی نظروں میں بھی گراتی ہے ۔لیکن ہم اپنے فائدے اور مقاصد حاصل کرنے کیلئے جھوٹ بولتے ہیں ۔کچھ لوگ تو اس یقین کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں کہ ایک دن سچ ہوجائے گا۔کیونکہ جرمنی کے جوزف گوئبلز نے بھی لوگوں کے ذہنوںمیں یہ بات ٹھونس دی ہے کہ جھوٹ اگر تسلسل کے ساتھ بولا جائے تو وہ ایک دن سچ ہوجاتا ہے ۔ہمارے جلسے اور جلوسوں میں بھی بلا ناغہ مخالف کی ذاتیات اور عیب جوئی پر توانائی صرف کر دی جاتی ہے۔ سامعین اور ناظرین بھی ان کی تنقید اور بہتان تراشی سے بلا ناغہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ مقرر اپنا یعنی پارٹی کا منشور بتائے اور وضاحت کرے کہ وہ ایسا کیوں کرنا چاہتا ہے۔مخالف اور اس کے منشور میں کیا واضح فرق ہے۔یہ تو کوئی بتاتا ہی نہیں۔ بس قصے، کہا نیاں اور لطیفے سنا کر بلا ناغہ اپنا اور سامعین کا وقت برباد کیا جاتا ہے۔ آج کل تو ہر پارٹی نے اپنا ترانہ بھی بنایا ہے جسے ہر جلسے میں بلا ناغہ سنایا جاتا ہے۔ ہماری حکومت بھی منصوبہ بندیاں بلاناغہ کرتی ہے لیکن'' ہوگا ''اور'' کیا جائیگا'' کی سرحد کو کبھی کبھار پار کرجاتی ہے۔یہ سب کچھ بلاوجہ نہیں ۔اصل میںہمارے حکمران اور لیڈر بولنے اور عوام سننے کے عادی ہوچکے ہیں ۔وہ بلاناغہ بولتے ہیںاور ہم بلاناغہ سنتے ہیں ۔اور پھر صرف بلا ناغہ سننے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ بلا ناغہ ان پر یقین بھی کرتے ہیں ۔جب تک اس معمول میں ہم ناغہ نہیں لاتے ہم بلاناغہ اسی طرح خوار ہوتے رہیں گے ۔ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں افواہیں بھی تسلسل کے ساتھ بھلائی جاتی ہیں ،مثلاً وزیر اعظم نواز شریف کے دل کا آپریشن ہوا تھا یا نہیں ۔جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے مدت ملازمت میں توسیع کے لئے کہا تھا کہ نہیں ۔ایسی افواہیںجب پیدا ہوتی ہیں تو پھر ہر کوئی اپنی بساط اور سمجھ کے مطابق تبصرے اور باتیں شروع کرتا ہے اور اس قدر بلا ناغہ تبصرے ہوتے ہیں کہ اصل بات کہیں گم ہو جاتی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں لوگ اتنے عمل پسند ہوچکے ہیں کہ ان کی فلمیں بھی پریکٹیکل دنیا میں داخل ہوچکی ہیں لیکن ہم اب بھی افواہ اور مبالغے کی دنیا میں خوش ہیں ۔ آج کل ہمارے ہاں ایک اور رجحان کا بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔آپ کسی بھی وقت کوئی نیوز چینل آن کرکے دیکھ لیں تو آپ کو حکومتی یا مخالف جماعت کا کوئی نمائندہ میڈیا میں ''تقریر ''کرتے ہوئے دکھائی دے گا۔یہ سب کچھ اتنا بلاناغہ ہو رہا ہے کہ لوگوں کو پتہ ہوتا ہے کہ بات کرنے والا آگے کیا کہے گا۔ اور تو اور ہمارے ہاں لوڈشیڈنگ بھی بلاناغہ ہوتی ہے۔ گرمیوں میںاگر بجلی غائب تو سردیوں میں لوگ گیس کو ترستے ہیں ۔سردیوں میں بچے بلاناغہ سکول تو جاتے ہیں لیکن ناشتے کے بغیر کیونکہ صبح اور شام گیس کا ناغہ ہوتا ہے ۔طبقاتی نظام کی وجہ سے اگر عوام غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں تو سرمایہ دار بلاناغہ امیر ہوتے جارہے ہیں کیونکہ نظام احتساب کمزورہے ۔معاشی نظام کی بہتری کے دعوے کئے تو بلا ناغہ جاتے ہیں لیکن دوسری طرف ورلڈ بینک کے قرضے بھی بلا ناغہ بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ہم عوام حکمرانوں اور سیاستدانوں پر بلا ناغہ تنقید تو کرتے ہیں لیکن سرکاری نوکری کرتے وقت مراعات بلا ناغہ لیتے ہیں لیکن اس کے برعکس چھٹی اور کام چوری کیلئے بہانے بھی بلا ناغہ بناتے ہیں۔ ہمیں کچھ چیزوں کی ایسی لت لگ جاتی ہے کہ وہ ہمارے معاشرتی اور گھریلو ڈھانچے کو تہس نہس کرکے رکھ دیتی ہے ۔مثال کے طور پر سوشل میڈیا کا بلا ناغہ استعمال۔دور جدید کے تقاضوں کے مطابق اس کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں ۔لیکن ہم نے اسکو زندگی کا حصہ نہیں بلکہ زندگی ہی بنارکھی ہے۔جس کیوجہ سے دوست دوست اور بھائی بھائی سے دور ہوتا جا رہا ہے ۔اور پھر چونکہ موبائل کا استعمال بلاناغہ ہے اس لئے جو بھی دل میں آئے لکھااور کہا جاتا ہے ۔اس لئے چھوٹے بڑے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے اور دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے کا رواج نہ صرف عام بلکہ زوروں پرہے ۔ہم اگر کسی بھی شعبہ زندگی کے کسی بھی بڑے نام کی پروفائل اٹھائیں تواس میںہمیں باقاعدگی اور وقت کی قدر ملے گی ۔چاہے وہ کوئی چھوٹا کام ہی کیوں نہ ہو ، لیکن وقت پہ کرے گا۔لیکن ہم میں سے زیادہ تر لوگ اچھے کاموں کے بلاناغہ نہ کرنے کے عادی ہیں ۔ورنہ آپ کوئی بھی بڑی سے بڑی سائنسی ایجادیا معر کتہ الآراء کتاب اٹھائیںتو آپ کو اسکے پیچھے بلاناغہ کی محنت دکھائی دے گی ۔ہم اگر اچھے کام بلاناغہ کرنا شروع کردیں تو ہم لا محالہ بلاناغہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں ۔

اداریہ