تم بھی وہی ہم بھی وہی

تم بھی وہی ہم بھی وہی

ٹریفک کا عالمی اصول اور قانو ن یہ ہے کہ سڑک پر پہلا حق پید ل چلنے والو ں کا ہے ، پا کستان میں سیا ست کی طر ح ہر اصول نر الے اند از میں ہے۔ اگر ٹریفک کسی بنا ء پر چلتے چلتے کھڑی ہو گئی ہے تو پیچھے کھڑی گاڑیا ں بھو نپو ں بجا نا شروع کر دیتی ہیں۔ کسی زمانے میں گاڑیو ں میں پا ور ہا رن نہیں ہو ا کر تے تھے ، ان کی جگہ پا ئپ میوزک کی طر ح آلہ لگا ہو تا تھا جس کے ایک سرپر ربڑ کا لمبا سے گولا ہوتا تھا جس کو دبا کر ہو ا کا پر یشر بنا یا جا تا تھا جس سے پپ پپ کی آواز پید اہو تی تھی۔ اب تو کا ن پھاڑ دینے والے پریشر ہا رن آگئے ہیں مہذ ب ملکو ں میں ہا رن اس وقت بجا یا جا تا ہے جب اگلی گاڑی والا ٹریفک کی خلا ف ورزی کا مر تکب ہورہا ہو تا ہے۔ یہ تو اس کو پا پ مو سیقی کے طور پر بجا تے رہتے ہیں ۔ بات ہو رہی تھی کہ سڑ ک پر سب سے پہلا حق کس کا ہے توبین الا قوامی قانون کے مطا بق پید ل چلنے والوں کا حق ہے مگر۔ پا کستان میں اس کو تسلیم نہیں کیا جا تا اور نہ تسلیم کرایا جا تا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں پید ل چلنے والو ں کے لیے بے تحا شا مسائل پید ا ہو گئے ہیں۔ویسے بھی دیکھا جا ئے تو ٹریفک اور پا کستانی سیا ست میں چولی دامن کا ساتھ نظر آتا ہے۔ معلوم ہی نہیں ہو تا کس طر ف سے آرہی ہے کس طرف جارہی ہے کہا ں کوکب مڑ جا ئے گی جس پر سیاست کے انداز کا پتہ نہیں چلتا۔ جب ہر دل عزیز وزیر اعلیٰ صوبہ کے پی کے پر ویز خٹک نے پنجا ب کے بے دل وزیراعلیٰ شہباز شریف کی طر ح اقتدار سنبھالا تو ان کو یہ بات بڑی چڑی کہ تر قی اور خوشحالی میں سب سے اہم کر دار تعلیم ، صحت عامہ اور زراعت کا ہو تا ہے مگر پنجا ب کے وزیر اعلیٰ کبھی میٹرو بس پر تو کبھی گرین ٹرین پر قو م کا روپیہ بہا رہے ہیں ، تبدیلی تو وہ خود کے پی کے میں لا ئیں گے کہ ہر قریہ اسکو ل ہی اسکو ل ہو ں گے بلکہ یو ں کہنا چاہیے کہ کھمبیا ں اس طر ح نہیں اگ پا تیں جس طر ح ان کے دور میں اسکو ل ہی اسکو ل اور جا معا ت ہی جا معا ت بانسو ں کی طر ح اگ جائیں گے۔ چنا نچہ پر ویز خٹک کی جا نب سے شہبا ز شریف اور نو از شریف کو میٹر و بس اور مو ٹر وے وغیر ہ کی تعمیر پر شدید مخالفت کا سامنا کر نا پڑا۔ اب پر ویز خٹک نے فرما یا ہے کہ ریپڈ بس سروس کا منصوبہ ان کا جذبہ عظیم ہے ، یقینی طو رپر یہ بہت بڑی عظیم وابستگی ہے ، پھر بھی یار لو گ تنقید شا ہ بنے ہو ئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میٹر و بس سروس اور ریپڈ بس سر وس میں کیا تفریق ہے ، ان باولو ں کو کون سمجھا ئے کہ اگر ریپڈ بس سر وس کا نا م بھی میٹرو بس سر وس رکھا جا تا تو پھر یہ کہا جا تا کہ تبدیلی کہا ں آئی ، تبدیلی تو پی ٹی آئی خا ص طورپر عمر ان خان کا مشن ہے تبھی تو انہو ں نے دھر نا دھر نا کر تے ہوئے بھی تھکاوٹ محسو س نہ کی۔ وہ تو تبدیلی کے خواہاں ہیں مگر امپا ئرہے کہ انگلی نہیں اٹھاتاہے اس تبدیلی کی آرزو میں وہ چا ر سال سے اسمبلی نہیں جا رہے ہیں ۔ لا ہو ر میٹرو بس اور اسلا م آباد میڑ وبس سر وس کی وجہ سے عوام کو خاصی سہولت میسر آگئی ہے۔ وقت کی بچت اور رش کی دھکم پیل سے بھی نجا ت حاصل ہو گئی ہے۔ ریپڈبس سر وس سے پشاور کی بے تکی ٹریفک میں بھی کچھ تک پید ا ہو ہی جا ئے گا ، مگر مصیبت یہ ہے کہ پاکستان کا ہر سیا ست دان عوامی مسائل جاننے کی سعی نہیں کر تا ہے حل کی بات تو دور کی بات ہے ۔ پبلک ٹرانسپو رٹ عملہ انتہا ئی غیر اخلا ق ہے۔ اس کو خواتین کے احتر ام کی الف بے بھی نہیں معلو م چنا نچہ غریب جو پہلے غربت کی چکی میں پیسا جا تا ہے وہ بے عزتی کے چرکے بھی سہتا ہے ،علا وہ ازیں ان کو ٹریفک کے اصول بھی نہیں معلو م اگر پبلک ٹرانسپو رٹ کے مو الیو ں کو ٹریفک قوانین کی تربیت دی جا ئے تو بھی پچا س فیصد ٹر یفک کے مسائل ازخود حل ہو سکتے ہیں۔ ویسے ٹریفک اصولو ں پر تب ہی چلے گی جب سیا ست بھی با اصول ہو جا ئے کیو ں کہ ہر سیا ست دان کی اصول سے زیادہ اپنے ووٹ بینک کو کیش کر نے پر نظر جمی رہتی ہے۔ دو سال پہلے عمر ان خان نے ریپڈ بس سر وس کا اعلا ن کیا تھا مگر ابھی تک یہ منصوبہ زمین پر نہیں آیا ہے کیو ں کہ انتخابات میں اب مہینو ں کی بات رہ گئی ، اور ایسی با اصولی الیکشن کے قریب تر ہو نے پر ہی رائج ہوتی ہے ۔ با اصول سیا ست کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب دوسال پہلے فوجی عدالتوں کے قیام کا معاملہ آیا تھا تو تما م سیاست دانو ں جن میں ، پی پی ، مسلم لیگ کا ہر دھڑا ، تحریک انصاف ، جما عت اسلا می ، جمعیت علما ئے اسلا م اور دوسری تما م جما عتوں نے با اصول فوجی عدالتو ں کے قیا م پر اتفاق کیا تھا اور ان کو ایک سویلین حکومت میںقبول کیا تھا پی پی کے با اصول سیا ست دان اور سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی کے بقول انہوں نے با اصول سیا ست دان کے اپنے ضمیر کو ما رکر روتے ہو ئے فوجی عدالتو ں کے حق میں ووٹ پول کیا تھا حالا نکہ اس وقت چاہتے تو جمہو ری روایا ت کی خاطر ووٹ نہ دیتے اور اصولی طورپر سینٹ کی سیٹ سے مستعفی ہو جا تے لیکن ان کو قوم کو دکھانا مقصود تھا کہ یہ آنسو جو ان کی آنکھ سے بہہ رہے ہیں انہی کے ہیں کسی اور کے نہ سمجھیں۔ چنا نچہ چت بھی ہماری اور پٹ بھی ہما ری بااصول سیا ست تو یہ ہے کہ آنسو بہا ؤ اور غازی بھی کہلا ؤ ۔ یہا ں جا وید ہا شمی کی بے اصولی یا د آرہی ہے کہ انہو ں نے جمہو ری اصول کے مطابق کسی امپا ئر کی انگلی پر چلنا قبول نہ کیا اور جس پا رٹی کو چھو ڑ ا اس سے حا صل کر دہ نشست بھی چھو ڑ کر اسی کے حوالے کر دی۔ اس امر کا نا م تبدیلی ہے ورنہ کس سیا ست دان نے اپنی نشست کسی اصول پر قربان کی ہے۔ حیر ت کی بات تو یہ ہے کہ جب دوسال قبل فوجی عدالتیں قابل قبول تھیں توا ب ان میں کو نسے گھن لگے ہیں کہ قابل قبول نہیں رہیں خاص طور پر ان جما عتو ں کو چاہیے کہ عوام کو بتائیں کے نا قبولیت کی وجہ کیا ہے اورقبولیت کی وجہ کیا تھی ، نا قبولیت کی وجہ تو نظر آتی ہے کہ اب ووٹ کے لیے جمہو ریت کے نا م پر جانا ہے ۔

اداریہ