دل برداشتہ قلم برداشتہ

دل برداشتہ قلم برداشتہ

امریکی صدر اوباما اپنے دور اقتدار کے آٹھ ہنگامہ خیز سال گزار کر رخصت ہونے والے ہیں بش جونیئر نے اوباما کو جنگوں کی جو وراثت دی تھی ، اومابا نے اُس میں کمی کرنے کے بجائے طریقہ کار بدل کر کچھ اضافہ ہی کیا ۔ بُش نے عراق جیسے مستحکم ملک پر حملہ کر کے وہاں مذہب و مسلک کی بنیاد پر جو آگ لگوائی وہ آج تک جل رہی ہے او رشاید کہیںبجھنے کا نام لے اگر چہ امن کی امید کرنی چاہیئے ۔ لیبیا اگرچہ خود سر ، نادان اور مطلق العنان آمرکے ہاتھو ں کافی نقصان اُٹھا چکا تھا لیکن اس کے باوجود ایسا تو نہ تھا جیسا آج ہے کہ اربوں ڈالر کا پیٹرول پید ا کرنے والا ملک لوگوں کو زندگی کی بنیاد ی ضروریات فراہم کرنے میں ناکامی کا شکار ہے ۔ لوگ بالخصوص خواتین ، ضعیف اور بچے در بدر پھر رہے ہیں ۔ شام جو پیٹرول کی پیداوار کا حامل نہ ہونے کے با و جود ایک خوشحال ملک تھا ۔ مصر کے بعد سارے عرب میں شام تعلیم و ثقافت کے لحاظ سے سب سے آگے تھا ۔ گلف کے ممالک میں شامی لوگ تعلیم و تجارت اور نوکریاں کر کے اپنے ملک کو کافی زر مبادلہ بھیجتے تھے جس سے شام میں خوشحالی کا دور دورہ تھا ۔ لیکن پھر عالمی سیاست ، مفاد پرستی ، اقتدار پرستی اور اسرائیل کی ذرہ نواز یوں ، کے سبب اور بشارالاسد جیسے انا پرست آمروں کے ہاتھوں اور امریکہ اور اُس کے ردِ عمل میں روس کے عمل نے شام کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔ سعودی عرب کے پڑوس میں یمن کی سیاسی و حکومتی تبدیلی سے وہ اپنے مفادات و معاملات کے لئے خطرات محسوس کرنے لگے اور نتیجتاًیمن پر حملہ کیا جو آج تک جاری ہے ۔ اُدھر سے ایران نے اپنے حلیف حوثیوں کی بے لاگ مدد میں ناغہ نہیں کیا ۔ ادھر سے سعودی عرب نے اپنے ارد گرد شام ، یمن اور عراق (ان تینوں ممالک سے سعودی عرب کی سرحدیں ملتی ہیں ) کے حالات دیکھتے ہوئے 39ممالک پر مشتمل اسلامی نیٹو بنوائی جس میں متذکرہ بالا تین ملک اور ایران شامل نہیں ہیں ۔اس صورت حال کے اثرات پوری اسلامی دنیا پر کئی حوالوں سے مرتب ہور ہے ہیں ۔ اور سب سے گہرا اثر پاکستان پر پڑ رہا ہے اور حقیقت یہ ہے پاکستان اپنے ان دو دوستوں کی وجہ سے ہمیشہ سے پریشان رہا ہے ۔ پاکستان کی مجبوری یہ ہے کہ دونوں ملکوں سے بعض نا گزیر حالات میں مدد کا طلب گار رہا ہے اور یہ دونوں دوست ملک پاکستان کی ان مجبوریوں کو اپنے اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ وطن عزیز اور عالم اسلام کے حالات کو امریکہ اور مغرب کے حالات کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے جب دیکھتے ہیں تو دل سے آہ ایک اُٹھتی ہے کہ پروردگار ! ان (کافروں )نے یہ کہاں سے سیکھ لیا کہ اقتدار ملک وقوم کی امانت ہے ۔ لہٰذا کرپشن کا تصور نہیں کرنا ہے ورنہ قانون تو بیدار ہے ہی ۔ اوباما نے اپنے دور اقتدار کی آخری تقریر میں جس طرح اپنی فصاحت و بلاغت سے خود بھی آبدیدہ ہو کر عوام کو رلا یا ۔ اور جس طرح اپنے نائب صدر کے لئے بھائی ، کہہ کر اُس کے توقعات و تصورات سے بھی بعید امریکہ کے سب سے بڑے سول ایوارڈ کا اعلان کر کے اپنے ہاتھوںسے پہنایا ،عالم اسلام میں دو ر دور تک کوئی ایسا لیڈر نظرنہیں آتا ہے ۔ کیا عالم اسلام میں اقتدار اعلیٰ کے سنگھاسن پر ایسا کوئی شخص بھی موجود ہے جس کے بیٹے کو کینسر جیسے موذی مرض کا سامنا ہو اور اُس کے باپ کے پاس علاج کے لئے پیسے نہ ہوں اور اُس کا صدر اُ س کی مدد (سرکاری خزانے سے نہیں )اپنی جیب سے کرے ۔ واہ امریکہ واہ ! ہمارے ہاں امریکہ جانے کے خواہش مند لاکھوں کروڑوں ، امریکہ کو پسند اور نا پسند کرنے والے بے شمار ہمارے ہاں کے وزراء امراء کا اپنے ملک میں تو علاج ہوتا ہی نہیں اور بیرون ملک علاج کے لئے سرکاری خزانہ قرضوں پر چلنے کے باوجود حاضر ۔ومستعدد ۔ لیکن ان باتوں میں امریکہ اور مغرب کی تقلید کرنے والا کوئی نہیں ۔ عالم اسلام میں موجودہ حالات میں ایک ہی ملک اپنے درویش ۔حکمران کے سبب آگے نکلاتھا ۔ اور بہت اچھا جارہا تھا ۔ لیکن شاید اغیار کو ان کی خودی اور اسلا میت سے خطرہ تھا ۔ ترکی کی معیشت طیب اردوان کی قیاد ت میں شاید عالم اسلام کی ترقی یافتہ اور مستحکم معیشت بن چکی تھی ۔ وہ لیرا جو ایک ڈالر کے عوض لاکھوں بلکہ کروڑوں میں تھا ، آج 2لیرا ایک ڈالر کے برابر تھا ۔ لیکن سپر پاور کو خطرہ محسوس ہوا کہ مضبوط معاشیات کا حامل طیب اردوان جیسا عالم اسلام کا درد رکھنے ولا شخص کہیں عالم اسلام کو ہماری گرفت سے آزاد ہی نہ کردے ۔اب ترکی کوملک کے اندر ایک نادیدہ دشمن کا سامنا ہے اور سرحدوں پر شام کے مہاجرین کا دبائو اوپر سے بارود کے دھماکوں کے ذریعے سرمایہ کاری رکوا کر اور سیاحت ختم کروا کر تر ک معیشت کو اس حد تک دبائو میں لایا گیا کہ چند مہینوں کے اندر اندر ایک ڈالر چار لیرا کا ہوگیا ۔ یوں عالم اسلام کی حالت ابتر سے ابتر ہو رہی ہے اور بڑے بڑے دعوے کرنے والے ممالک ، حکمران، علما ء ، زعما ، دانشور ،مفکرین ، سیاست دان اور نہ جانے کون کون ٹک ٹک دیدم ۔ کی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ غیب سے کوئی رہنما نازل فرمائے کہ خلق خدا بہت تنگ ہے ۔ آمین ۔

اداریہ