چین، امریکہ تجارت اور سیاست

چین، امریکہ تجارت اور سیاست

گیلپ پاکستان کی ایک سروے رپورٹ کے نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت امریکہ کی بجائے چین سے تعلقات کی حامی ہے ۔سروے میں چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے منتخب لوگوں کی رائے شامل ہے ۔جس کے مطابق انہتر فیصد لوگوں نے چین جبکہ گیارہ فیصد نے امریکہ سے تجارتی تعلقات قائم کرنے کی حمایت کی جبکہ بیس فیصد آبادی دونوں ملکوں سے بہتر تعلقات کی حامی ہے ۔گیلپ پاکستان کی سروے رپورٹ میں ظاہر کئے جانے والے یہ اعداد وشمار کلی طور پر نہ سہی جزوی طور پر ہی پاکستانی عوام کی سوچ کے ترجمان اور عکاس ہیں ۔ پاکستان اور چین کے درمیان جوں جوں دوستی کے نئے جہان آباد ہو رہے ہیں تجارت کا حجم بھی اسی انداز سے بڑھتا جا رہا ہے ۔2013ئمیں جو حجم تیرہ بلین ڈالر تھا وہ 2015ئمیںبیس بلین ڈالر تک پہنچ گیا اور اس کے بعد سے یہ حجم مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ تجارت سے زیادہ سیاست کا معاملہ ہے ۔آج پاکستانی منڈیاں چینی مصنوعات سے بھری پڑی ہیں ۔ دہشت گردی ،توانائی کے بحران،مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام کے باعث پاکستانی کمپنیاں یا تو دیوالیہ ہو کر بیٹھ گئی ہیں یا پھر بیرونی دنیا میں منتقل ہو گئی ہیں۔جس سے چینی مصنوعات کو پاکستانی مارکیٹوں میں قدم جمانے کا موقع مل گیا ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں امریکہ اور چین دونوں ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔چین اور پاکستان کے تعلقات ہمہ موسمی اور زمانے کے مدوجزر سے آزاد تھے ۔ پاکستانی عوام چین کے ساتھ سیاست اور تجارت کو بہت زیادہ نفع بخش نہ بھی سمجھیں تب بھی اسے بے ضرر ہی سمجھتے ہیں اور کبھی ''ساقی نے کچھ ملادیا نہ ہو شراب میں '' والی مشکوک کیفیت کا شکار نہیں ہوتے ۔اس کی وجہ پاکستانیوں کا روایتی اور یک طرفہ رومینٹسزم نہیں بلکہ یہ ہے کہ چین نے کبھی پاکستان پر حاوی ہونے کا تاثر نہیں دیا ۔دونوں ملکوں کے تعلقات پر برابری کا رنگ غالب رہا ۔اس کے بر عکس پاک امریکہ تعلقات میں دوستانہ رنگ غالب نہیں رہا بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان آجر اور اجیر کا سا تعلق قائم رہا ۔امریکہ نے امداد دے کر پاکستان سے کچھ کام لئے اور جب ضرورت ختم ہو ئی امریکہ نے آنکھیں پھیر لیں ۔دونوں ملکوں کے تعلقات کا نقطہ عروج افغان جنگ تھی جہاں سوویت یونین کے سینگ بری طرح پھنس گئے تھے اور پاکستان نے امریکہ کو آخری ضرب لگانے کے لئے تمام سہولتیں فراہم کیں ۔اسی کے بعد دنیا یونی پولر ہوگئی اور امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن کر اُبھرا ۔سوویت یونین کے انہدام کے ساتھ ہی امریکہ نے پاکستان سے نظریں پھیرلیں حد تو یہ کہ پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسیاں اور سوچ کچھ اس اندازسے بدلتے چلے گئے جو دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے رنگ کو مدہم اور دشمنی کے رنگ کو اُبھارتے چلے گئے ۔جنوبی ایشیا میں بھارت نے اپنے سارے کارڈ ز بھارت کے وقف کرلئے اور اپنی ساری محبتیں بھارت پر نچھاور کرنا شروع کیں ۔امریکہ نے عالمی سیاست کی ہی نہیں علاقائی سیاست میں وہ تمام اصطلاحات اپنا لیں جو بھارت میں مستعمل تھیں ۔امریکہ نے جنوبی ایشیا میںامریکہ کی راہوں کے کانٹے اپنی پلکوں سے چننے کی حکمت عملی اختیار کی ۔اس بدلی ہوئی فضا میں پاکستان دیوار کے ساتھ لگتا چلا گیا۔پاکستان کے لئے امریکہ کا یہ بدلتا ہو ا رویہ حیران کن تھا ۔جوں جوں امریکہ بھارت کی جانب جھکتا چلا گیا اسی رفتار سے پاکستان چین کے مزید قریب ہوتا چلا گیا ۔

پاکستان کو بھارت کے آبادی اور جغرافیائی لحاظ سے بڑا ہونے میں کوئی کلام نہیں تھا مگر بھارت کو بڑا بنانے کے لئے اپنا وجود چھوٹا کیا جانا گوارا نہ تھا ۔یہ سب کچھ ہوتا رہا اور دونوں ملکوں میں دوریاں بڑھتی چلی گئیں ۔جس کا اثر رائے عامہ پر بھی پڑتا چلا گیا ۔ایک وقت وہ آیا جب پاکستان ان ملکوں میں شمار ہونے لگا جہاں کی رائے عامہ امریکہ کی شدید مخالف تھی۔امریکیوں نے اس اینٹی امریکن ازم کو اپنی ریاستی پالیسیوں میں تلاش کرنے کی بجائے پاکستانی عوام اور اسٹیبلشمنٹ کی حکمت عملی میں تلاش کرنا شروع کیا ۔جس کا اظہار سابق امریکی وزیر خارجہ مسز ہیلری کلنٹن نے اسلام آباد میں بیٹھ کر یوں کیا تھا کہ پاکستان اینٹی امریکن ازم پیدا کرنے کی بجائے اپنے مسائل پر توجہ دے حالانکہ یہ وہ وقت تھا جب تمام مسلمان ملکوں اور معاشروں میں اینٹی امریکن ازم زوروں پر تھا مگر امریکہ اس مجموعی امریکہ مخالف لہر کا تجریہ کرنے کی بجائے پاکستان کو دوش دے رہا تھا گویا کہ اینٹی امریکن ازم کی کوئی ٹھوس وجہ اور حقیقی بنیاد ہی نہیں تھی بلکہ یہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا مصنوعی پیدا کردہ تاثر تھا ۔یہ اس وقت کے حالات کو جانچنے کا بہت سطحی انداز تھا ۔ مسلمان رائے عامہ میں پیدا ہونے والی مخالفت امریکہ کی ریاست سے نہیں بلکہ ریاست کی ان پالیسیوں سے تھی جن کے باعث اسرائیل مشرق وسطیٰ میں فلسطینیوں کا ، بھارت جنوبی ایشیا میں کشمیریوں کا اور خود امریکہ افغانوں اور عراقی مسلمانوں کا خون بہا رہا تھا ۔اب یہی سوچ آگے چل کر امریکہ کی پالیسیوں سے مکمل لاتعلقی اور ناراضگی میں ڈھل چکی ہے ۔نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کسی خیر کی توقع تو نہیں مگر وہ خطے کی زمینی صورت حال کا ادراک کرکے پالیسیاں بنائیں تو حالات تبدیل بھی ہوسکتے ہیں ۔سردست امریکہ اپنی وضع بدلنے پرتیار دکھائی نہیں دے رہا ۔

اداریہ