مشرقیات

مشرقیات

حضرت شیخ افغان ایک صاحب کشف بزرگ تھے ۔ان کے کشف کا یہ عالم تھا کہ ایک بار ملتان کی کسی مسجد میں تشریف لے گئے اور امام کی اقتدا میں نماز ادا کی ۔ پھر جب نماز ختم ہوگئی تو حضرت شیخ حسن افغان اپنی جگہ سے اٹھے اور امام سے فرمایا ''حضرت !مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے '' امام صاحب ، حضرت شیخ حسن افغان سے واقف نہ تھے ۔ ایک عام انسان سمجھ کر کہنے لگے ''فرمایئے ! میں حاضر ہوں ۔''
حضرت شیخ حسن افغان : نے فرمایا '' میں اپنی بات تنہائی میں کہنا چاہتا ہوں ۔ '' امام صاحب نے سمجھا کہ کوئی ضرورت مند شخص ہے ، اس لئے دوسرے لوگوں کی موجودگی میں اپنا حال بیان کرتے ہوئے شرما تا ہے ۔ '' آیئے ! ''یہ کہہ کر امام صاحب مسجد کے ایک گوشے کی طرف بڑھے ۔
'' اب بتائیے کہ آپ کو مجھ سے کیا کام ہے ؟ '' حضرت شیخ حسن افغان نے فرمایا '' میں نے آپ کی اقتدا میں نماز مغرب ادا کی مگر پوری نماز میں حیران و پریشان ہی رہا ۔ '' ''اکثر لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ انہیں نماز میں حضوری کی کیفیت حاصل نہیں ہوتی ۔ '' امام نے حضرت شیخ حسن کی بات سن کر کہا ۔ '' آپ دلجمعی کے ساتھ نماز ادا کرتے رہیں ، ایک نہ ایک دن پریشان خیالی ختم ہو جائے گی ۔ '' '' مگر میری پریشانی تو کچھ اور ہے امام صاحب ! حضرت شیخ حسن افغان نے آزردہ لہجے میں فرمایا '' آپ عین نماز کی حالت میں ملتا ن سے دہلی تشریف لے گئے ۔ پھر ہندوستان کے دوسرے شہروں میں گھومے اور میں آپ کے پیچھے پیچھے دست بستہ ، ننگے پائوں مارا مارا پھرتا رہا ۔ اب آپ ہی بتائیں کہ میں ایسی نماز کو کیا نام دوں ؟ '' حضرت شیخ حسن کی گفتگوسن کر امام پر سکتہ طاری ہوگیا ۔
پھر حضرت شیخ تو چلے گئے ، مگر امام بہت دیر تک اسی حالت سکوت میں کھڑے رہے ۔ دراصل امام صاحب کے خیالات پریشان اور نا آسودہ تھے ۔ جو حضرت شیخ حسن افغان پر ظاہر ہوگئے تھے ۔ حضرت شیخ حسن افغان زہد وعبادت ، ذوق وشوق اور عشق و محبت میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے ۔
امام کسائی علم نحو اور قرات قرآن کے مشہور عالم ہیں ۔ دونوں علوم میں ان کا مرتبہ محتاج تعارف نہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میںنے نماز میں ہارون رشید کی امامت کی ، تلاوت کرتے ہوئے مجھے اپنی قرات خود پسند آنے لگی ، ابھی زیادہ دیرنہ گزری تھی کہ پڑھتے پڑھتے مجھ سے ایسی غلطی ہوئی جو کبھی کسی بچے سے بھی نہ ہوئی ہوگی ۔ لیکن بخدا ! ہارون رشید کو بھی یہ کہنے کی جرات نہیں ہوئی کہ تم نے غلط پڑھا ، بلکہ سلام پھیر نے کے بعد اس نے مجھ سے پوچھا : '' یہ کونسی لغت ہے ؟ '' میں نے کہا '' یا امیر ! کبھی سبک روگھوڑ ا بھی ٹھو کر کھا جاتا ہے ۔ '' ہارون رشید نے کہا : '' یہ بات ہے تو ٹھیک ہے ! ( الذہبی معرفتہ القراء الکبار علی الطبقات والا عصارج : 1ص 103دارالکتب الحدیثیتہ مصر 1969)انسان غلطیوں کا پتلا ہے ۔ بڑوں سے بھی لغزش کا احتمال رہتا ہے ۔

اداریہ