قانون سازی کے بغیر اصلاحی اقدامات کی کامیابی مشکل ہوگی

قانون سازی کے بغیر اصلاحی اقدامات کی کامیابی مشکل ہوگی

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ناقص دودھ کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ یوریا اور ڈھیلوں سے دودھ بنا کر فروخت ہو رہا ہے۔ ڈبے کے دودھ کے ٹیسٹ دو ہفتے میں مکمل کرائے جائیں۔ کمپنیوں میں صفائی کی کیا صورت حال ہے؟ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اچھے برانڈز والے دودھ بھی ناقص ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا ناقص دودھ سے متعلق از خود نوٹس کیس اس امر کے اطمینان کے لئے کافی ہونا چاہئے کہ عدالت عظمیٰ اس ضروری خوراک کو خالص بنانے اور اس کے معیار او ر اقسام سے متعلق عوام کی درست رہنمائی اور کمپنیوں کو قانون کا پابند بنانے کو یقینی بنائے گی۔ کھلے دودھ میں ملاوٹ اور کیمیکلز سے کھلے دودھ کی تیاری اور اسے گھر گھر فروخت کمپنیوں کے ڈبہ بند دودھ کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک طریقے سے جاری ہے جس کے خلاف پنجاب میں بالخصوص اور دیگرصوبوں میں انتظامیہ بالعموم کارروائی کرتی ہے لیکن ا س کی روک تھام کی کوئی سبیل سامنے نہیں آئی۔ کمپنیوں کی تیار کردہ مصنوعات کی چونکہ لیبل اور پیکنگ ہوتی ہے اس لئے اس کا مختلف شہروں سے ایک ایک سیمپل بھی کافی ہوگا اور چونکہ ان کے تیار کردہ کنندگان معلوم ہیں اس لئے عدالت کو ان کے خلاف کارروائی اور انتظامیہ کے لئے ان مصنوعات کے حوالے سے عدالت کے کسی حکم پر عملدرآمد باآسانی ممکن ہوگا۔ لیکن کھلا دودھ گلی گلی محلہ محلہ تیار ہوتا ہے اور اس کے تیار کنندگان کی تعداد لاکھوں میں ہے جن کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہوتا ان کے خلاف کارروائی انتظامیہ اور عدالت دونوں ہی کے لئے مشکل ہے سوائے اس کے کہ دودھ فروشوں کے خلاف ایسی سخت کارروائی کی جائے کہ وہ ڈر کے مارے غیر معیاری اور نقلی د ودھ و دہی کی فروخت ترک کردیں۔ یہ ایک ایسی کار آمد ترکیب ہے جس پر عملدرآمد نہایت مشکل بلکہ نا ممکن ہے۔ معاشرے میں قانون کا خوف نہ ہونے کے برابر ہے جس کی ذمہ داری نفاذ قانون کے ذمہ دار محکموں اور خاص طور پر پولیس پرعائد ہوتی ہے ا س کے بعد قوانین میں سقم کا ہونا بھی غلط کار عناصر کو راستہ فراہم کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اگر اس سارے عمل میں عدالتی نظام کو بھی کسی نہ کسی حد تک قصور وار گردانا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ روزانہ کے مشاہرے کی بات ہے کہ انتظامیہ چھاپے مار کر ملاوٹ اور جعلی اشیاء فروخت کرنے والوں کو چالان کرتی ہے تو عموماً وہ پہلی دوسری پیشی پر ہی چھوٹ جاتے ہیں ۔اس کی ایک بڑی وجہ پولیس اور لیبارٹریوں کی غلط تفتیش اور رپورٹیں ہوتی ہیں۔ چالان اس طرح سے پیش کیا جاتا ہے کہ عدالت قانونی طور پر ملزمان کو زیادہ عرصہ پابند سلاسل نہیں رکھ سکتی اور ملزمان باہر جا کر پہلے سے بھی زیادہ شد و مد سے جعلسازی اور ملاوٹ کا کاروبارکرنے لگتے ہیں اس قسم کی صورتحال میں اس امر کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ اس طرح کے اقدامات سے جعلی اور ملاوٹ والی اشیاء کا کاروبار بند کیا جاسکے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عدالت سے اس طرح کے معاملات میں بہتری کی توقع ہے لیکن اس کا حل سخت سے سخت قوانین بنانے اور پھر ان پر پوری طرح عملدرآمد سے ہی ممکن ہوگا۔ اس پر کسی حد تک توجہ دی جا رہی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس طرح کے عناصر کے خلاف اقدامات میں کسی صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی میں ایسی قانون سازی پر توجہ کا فقدان ہے جس کے نتیجے میں ایسے موثر قانون بنایا جاسکے جو ملزم کی بجائے عدالت کو آسانی فراہم کرے اور اس طرح کے عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ممکن ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ نے وطن عزیز کے شہریوں کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف جس جہاد کا آغاز کیا ہے اس قابل تحسین اقدام کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے بھی عدالتی ناظر کو رپورٹ پیش کرنے اور اس رپورٹ کے عوام کی آگاہی سے متعلق حصے کو سامنے لایا جائے۔ قانون سے متعلق اسقام کی نشاندہی کرکے اس کو دور کرنے کی تجاویز اور طریقہ کار بارے اگر عدالت رہنمائی کرے تو اسے انتظامیہ اور حکومت کے کاموں میں مداخلت نہ گردانا جائے بلکہ اس کو عوام کے وسیع تر مفاد میں خوش دلی سے قبول کرکے اس کو ممکن بنانے کی پارلیمان اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ ایک افسوسناک حقیقت کا گزشتہ روز چیف جسٹس نے عدالتی عملے سے خطاب میں گزشتہ روز تذکرہ کیا۔ اس طرح کی صورتحال میں عدالتوں کے لئے مزید فعالیت کا مظاہرہ کیسے ممکن ہے۔ جہاں عدالت سے قانون میں ایک لفظ کے اضافے سے قانون کے موثر ہونے کی سفارش بھجوائی جائے لیکن تین سال گزرنے کے بعد ایک لفظ اضافے کے عمل کی تکمیل نہ ہو معاشرے میں اولاً موثر قوانین کی عدم موجودگی پرانے اور فرسودہ قوانین کا مروج ہونا اور صورتحال کے مطابق اس میں ترمیم نہ ہونے سے عدلیہ کی مشکلات سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن یہ بھی کم سنگین مسئلہ نہیں کہ جہاں قوانین موجود اور عدالتی احکامات تک جاری ہوئے ہوتے ہیں ان پر عملدرآمد کا فقدان اور بعض صورتوں میں سراسر انحراف ہورہا ہوتا ہے۔ معاشرے کو سدھارنا اور قوانین کا نفاذ عدالت کی نہیں حکومت اورانتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اگرمعاشرے میں قوانین پر عملدرآمد کی صورتحال پیدا ہوگی تب عدالتوں پر بھی مقدمات کا بوجھ کم ہوگا۔ یہ ایک مربوط عمل ہے جس سے حکومت انتظامیہ ‘ عدلیہ اور عوام بھی بندھے ہوئے ہیں۔ بہت سے معاملات میں قانون میں سقم دور کرکے بہتری کی ابتدا کی جاسکتی ہے۔ کیا اب وہ وقت نہیں آیا کہ ہمارے حکمران و سیاستدان اسمبلیوں کو حصول اقتدار اور محروم اقتدار کی کوششوں کامرکز بنانے کی بجائے اسے عوام کی مشکلات دور کرنے کا وسیلہ بنائیں اور عوامی مفاد میں قانون سازی کرکے ان کے موثر نفاذ پر توجہ دیں۔

اداریہ