Daily Mashriq


افغان امن مذاکرات کا ایک مرتبہ پھر آغاز

افغان امن مذاکرات کا ایک مرتبہ پھر آغاز

ترکی میں افغان حکومت اور طالبان گروپوں کے درمیان امن مذاکرات کے نئے دور کا آغاز خوش آئند پیشرفت ضرور ہے لیکن جب تک مذاکرات میں افغان طالبان کے کمزور دھڑوں کی بجائے تحریک طالبان افغانستان کی مرکزی قیادت کی تائید و حمایت اور نمائندگی کے ساتھ امن مذاکرات کا مرحلہ نہیں آتا اس وقت تک اس طرح کے مذاکرات کی کامیابی اور مستقبل کے بارے میں کسی خوش امیدی کااظہار نہیں کیاجاسکتا۔حزب اسلامی افغانستان کے ترجمان محمد نادر افغان نے اپنی تنظیم کی جانب سے اجلاس میں شرکت کی خبروں کی تصدیق کی جبکہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی تنظیم کی استنبول اجلاس میں شرکت کی خبروں کی تردید کی۔واضح رہے کہ اس اجلاس کے حوالے سے افغان حکومت کی جانب سے بھی کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آسکا۔اس طرح کے ماحول اور اس طرح کی صورتحال جس کے بارے میں افغان طالبان کے ترجمان صراحت سے تردید کر رہے ہیں جبکہ افغان حکومت کی جانب سے سرکاری بیان جاری کرنے سے احتراز کیاگیا ہے۔ اس طرح کی سرگرمی قطر کے بعد ترکی میں ایک نئی کوشش ہی سمجھی جاسکتی ہے۔ گو کہ اس وقت کوئی موہوم امید بھی وابستہ کرنے کی صورت نظر نہیں آتی لیکن اس سے ترکی کے افغانستان کے عمل میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے ترکی کا طالبان کو سیاسی دفتر کھولنے کی اجازت اور ان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش سنجیدہ اور قابل توجہ ہے۔ ہمارے تئیں امن عمل کے لئے ہونے والے ان مذاکرات میں اگر افغان طالبان کے لئے قابل قبول کچھ ایسی پیشرفت سامنے آئے تو ان کو مائل کرنے میں آسانی میسر آئے گی۔ بہر حال اس کا انحصار اس ماحول اور حالات پر ہی ہوگا جو مذاکرات کے لئے ساز گار ماحول پیدا کرنے کا باعث بنیں گے۔ افغانستان میں امن مذاکرات کی کامیابی اورافغان طالبان کو اعتماد دلانے کے لئے خطے کے ممالک اور امریکہ کا کردار اہمیت کاحامل ہے۔ جب تک اس مسئلے سے جڑے جملہ فریق ایسا ساز گار ماحول اور یقینی فضا تیار نہیں کرتے جس سے اتفاق رائے پیدا ہو افغانستان کے حوالے سے امن مذاکرات سے توقعات کی وابستگی زیادہ حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا۔

خیبر پختونخوا کی پولیس کو مثالی قرار دینا خلاف حقیقت ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی خیبر پختونخوا پولیس کے حوالے سے اس قدر اعتماد کا اظہار مناسب نہیں کسی معاملے کی حکمرانوں کی از خود ستائشی اصلاحاتی عمل کے ساتھ ساتھ پولیس کی کارکردگی کو بھی متاثر کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قصور میں پیش آنے والا واقعہ صرف پنجاب میں پیش آنے والا واقعہ نہیں پنجاب میں اس طرح کے واقعات کی شرح ممکن ہے زیادہ ہو لیکن خیبر پختونخوا میں بھی اس طرح کے واقعات کا ہونا نا ممکن نہیں۔ خیبر پختونخوا میں اس طرح کے واقعات کو عموماً اچھالا نہیں جاتا اور خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ جہاں تک پولیس کے کردار کی بات ہے یہاں کی پولیس بھی اس طرح کے معاملات میں مظلوم کی ساتھی ہونے کا کوئی بہتر ریکارڈ نہیں رکھتی۔بچوں اور بچیوں کی گمشدگی کے واقعات کی وجوہات اور پس پردہ حقائق کم و بیش مماثل ہوتے ہیں بنا بریں بہتر یہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور پنجاب پولیس کا موازنہ کرنے کی بجائے خیبر پختونخوا میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے مزید بہتر سنجیدہ اور سخت اقدامات کروائیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پولیس کو سراہنے سے قبل اگر ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی پر ہونے والے ظلم کے مرکزی کردار کو جلد سے جلد گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ خیبر پختونخوا پولیس صوبائی دارالحکومت پشاور کے شہریوں کے لئے شکایات اور جرائم کی نشاندہی کے لئے جو بلند و بانگ دعوئوں کے ساتھ شکایات درج کرانے کی دعویدار ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ تین تین چار چار بار ایس ایم ایس کئے جانے کے بعد کسی کی جانب سے بھی شکایتی سے رابطے کی زحمت گوارانہ کی گئی جو دعوے کسوٹی پر پورا نہ اتر پائیں اس بارے خاموشی ہی بہتر ہے کجا کہ اس کا موازنہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں