عوامی انصاف سے ڈرنا چاہئے

عوامی انصاف سے ڈرنا چاہئے

اس وقت کو آواز دینے کی بجائے اس وقت سے ڈرنا چاہیے جب ملک میں عوامی عدالتیں کام کرنا شروع کر دیں گی اور عدالتی انصاف کی اتنی بے توقیری کی جا رہی ہے کہ وہ وقت خدا نہ کرے بہت نزدیک آتا نظر آ رہا ہے ۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عدالتی انصاف کے لیے سہولتیں فراہم کریں۔ اس کی توقیر کریں کہ عدالتی انصاف سے انصاف ملتا ہے ‘ جسے عرف عام میں عوامی انصاف کہا جاتا ہے۔ اس سے عبرت حاصل کی جانی چاہئے، اس میں عوام کے ہجوم ہوتے ہیں اور جرائم کی شہرت کے حامل ہوتے ہیں‘ کوئی موہوم سی آواز بھی الزام سے فیصلہ تک کے مراحل ایک لمحہ میں طے کروا دیتی ہے اور بقول میاں نواز شریف کے بار بار دہرائے جانے والے اشعار کے نہ اپیل ہے‘ نہ نظیر ہے‘ نہ دلیل ہے نہ وکیل ہے۔ میاں صاحب یہ اس مقدمے کے بارے میں کہہ رہے ہیں جو گزشتہ دو اڑھائی سال سے ان کے خلاف چل رہا ہے۔ جس میں سپریم کورٹ ان سے یہ تقاضا کرتی رہی ہے کہ وہ اپنے وہ وسائل اور ذرائع عدالت کے سامنے پیش کر دیں جن کے بارے میں قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان ذرائع اور وسائل سے لندن فلیٹس خریدے گئے تھے۔ لیکن میاں صاحب اور ان کے اہل خانہ نے وہ ذرائع اور وسائل عدالت کے سامنے پیش نہ کیے اور احتساب عدالت میں ان کی تلاش میں کارروائی ہو رہی ہے۔ انصاف کی اس کارروائی کے مقابلے میں وہ کہتے ہیں کہ عوامی عدالت کا فیصلہ آئے گا۔ ان کا اشارہ عام انتخابات کی طرف ہے لیکن انتخابات عدالت نہیں ہوتے۔ وہ تو معمول کے مطابق اپنے وقت پر ہونے ہی چاہئیں۔ عوامی عدالت تب کام شروع کرتی ہے جب عدالتی انصاف کے سامنے حکمران بند باندھ دیں۔ عدالتوں تک حقائق نہ پہنچنے دیں۔ جب عدالتوں میں گواہیاں نہ پیش ہونے دیں۔ جب گواہ منحرف یا غائب ہو جائیں ‘ جب دستاویزات ناقابلِ رسائی ہو جائیں ۔ جب ابتدائی رپورٹیں سقم زدہ ہو جائیں۔ جب مظلوم معاف کرنے پر مجبور ہو جائیں ۔ جب لاکھوں ٹی وی ناظرین کے سامنے کئی گھنٹے تک پولیس کی فائرنگ میں 14 لوگ قتل ہو جائیں ‘ سو کو گولیاں لگیں اور وہ زخمی اور معذور ہو جائیں اور اسی محلہ میں اپنے گھر میں بیٹھے حاکم اعلیٰ کو خبر بھی نہ ہو۔ جب مقتول کی آواز فضا میں گونجتی رہے میرا نام زینب ہے ‘ میری عمر سات سال ہے اور اس کے قاتل کو تلاش نہ کیا جا سکے ۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 14مقتولین پر فائرنگ کا منظر ساڑھے تین سال سے ہر چند مہینے کے بعد ٹی وی سکرین پر نظر آتا رہا ہے لیکن اس واقعہ کی جسٹس باقر نجفی رپورٹ ساڑھے تین سال بعد بے شمار رکاوٹوں کے بعد آخر کار منظرِ عام پر آ جاتی ہے۔ زینب کے قاتل کو پکڑنے میں کتنا وقت لگے گا اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

کل لاہور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین اور مقتول زینب کے قتل کی بازگشت پھر سنائی دے گی۔ اپوزیشن پارٹیاں انصاف کے لیے دہائی دینے کے لیے جمع ہو رہی ہیں۔حکمران مسلم لیگ ن کے موجودہ صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے گھر رائیونڈ میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے درمیان اس حوالے سے مشاورت ہوئی ہے۔ ایک اخبار نے اس ملاقات کے بعد میاں نواز شریف سے منسوب یہ بیان شائع کیا ہے: ’’سازشی عناصر کے عزائم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ‘‘کیا یہ لوگ جو کل حصول انصاف کے لیے آواز اٹھائیں گے سات سالہ زینب اور ماڈل ٹاؤن کے 14مقتولوں کے قتل کی سازش کے ذمہ دار ہیں۔ ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں پر گولیاں تو سرعام برسائی گئی تھیں۔ زینب کی نعش چار دن بعد ملی تھی ۔ اس میں سازش کیا تھی۔ کہا گیا ہے کہ حکومت نے 17جنوری کو ہونے والے احتجاج سے آئینی اور جمہوری طریقے سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔اوراس پر ٹیپ کا مصرعہ یہ کہ آئندہ انتخابات میں عوام سازشیوں کو ووٹ کی طاقت سے مسترد کر دیں گے۔ کیا حکومت کو یہ توقع ہے کہ قتال کے خلاف احتجاج کرنے والے اچھے بچوں کی طرح لائن لگا کر نعرے لگا کر گھروں کو واپس چلے جائیں گے اور مزید کتنے ہی سال تک انصاف کے انتظار میں گزاردیں گے۔ کیا وہ حصولِ انصاف کے بہانے حکومت کے خلاف سازش کر رہے ہیں؟ سازش کون کر رہا ہے۔ سازش وہ کررہا ہے جو ساڑھے تین سال سے انصاف نہیں ہونے دے رہا۔ جو زینب کے قاتل کو تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہونے دے رہا۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ عدالت میں مقدمہ درج ہے ‘ کارروائی ہو رہی ہے ۔ لیکن یہ کارروائی انجام تک نہیں پہنچ رہی۔ حکومت کے نقطۂ نظر کے حامی کہہ رہے ہیں کہ نظامِ انصاف کمزور ہے ۔ نظام انصاف کو کون چلا رہا ہے۔ کون نظامِ انصاف کو مضبوط کرنے کا ذمہ دار ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس کے ذمہ دار حکمران ہیں۔ 14مقتولوں اور معصوم زینب کے قتل کا قصاص مانگنے والے انہی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ اگر یہ نظام انصاف کو آڑ بنائیں گے تو اپنے ہی چہرے آشکار کریں گے ۔انصاف اس لیے نہیں مل رہا کہ نظامِ انصاف کو چلانے کے ذمہ دار اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے۔ انہیں یہ ذمہ داری قبول کر لینی چاہیے اور اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام ہونے کی وجہ سے اس ذمہ داری سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ جب عدالتوں سے حاصل ہونے والے انصاف کے سامنے نظام انصاف کے ذمہ دار بند باندھیں گے تو اس کی سزا نظام انصاف کا حق ہو جائے گی اور یہی وہ مقام ہے جہاں عوامی عدالت اپنا کام شروع کر دیتی ہے۔ جس میں نہ نظیر ہوتی ہے ‘ نہ دلیل ہوتی ہے‘ نہ اپیل ہوتی ہے نہ وکیل۔ جس کی طرف کسی کا اشارہ ہو جاتا ہے ‘ کسی کی آواز اٹھ جاتی ہے وہ ملزم ہو جاتا ہے اور سزا کا مستوجب ۔ اس وقت سے ڈرنا چاہیے۔

اداریہ