فاٹا اصلاحات کے نئے پہلو

فاٹا اصلاحات کے نئے پہلو

سال 2017ء میں فاٹا اصلاحات کے حوالے سے پیش رفت دیکھنے میں آئی اور معاشرے کے تمام حلقوں کی جانب سے فاٹا کے عوام کو وحشیانہ قوانین ، غربت ، پسماندگی اور استحصال کی زندگی سے باہر نکالنے کے لئے آوازیں اُٹھائی گئیں۔ فاٹا میں اصلاحات کی بحث کا آغاز سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم فاٹا ریفارم کمیشن کی رپورٹ کے بعد ہواکیونکہ سرتاج عزیز اور کمیشن کے دیگر ممبران فاٹا کے بارے میں اتنا ہی جانتے تھے جتنا علم وہ روانڈہ کے ٹٹسی، ہوتو اور توا قبائل کے بارے رکھتے ہیں۔ اپنی رپورٹ کی تیاری سے پہلے کمیشن کے اراکین نے مختلف قسم کے درجنوں جرگوں میں شرکت کی اور اس کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ فاٹا کے تمام مسائل کا حل فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے میں مضمر ہے۔ فاٹا ریفارم کمیشن کے اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد فاٹا کے حوالے سے ہونے والی بحث نے ایک ہی سمت اختیار کر لی ہے اور اس وقت صرف فاٹا اور خیبرپختونخواکے انضمام کے حق یا مخالفت میں دلیلیں دی جارہی ہیں۔اس حوالے سے دو گروپ بن چکے ہیں جو ان ایم این ایز پر مشتمل ہے جو فاٹا کے خیبر پختونخوامیں انضمام کی حمایت کررہے ہیں لیکن یہ گروپ اقلیت میں ہے ۔ اس گروپ کے سب سے فعال رکن ،شاہ جی گل سے جب فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کی وجوہات پوچھی گئیں تو انہوں نے جواب دیا کہ فاٹا میں رائج موجود ہ نظام کی وجہ سے وہاں بسنے والے عوام کو بے تحاشا جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ اس کے علاوہ اس نظام نے فاٹا کی پختون عوام کو مہاجر بن کر پنجاب اور سندھ میں پناہ لینے پر مجبور کیا جو پختونوں کے لئے انتہائی باعثِ شرم بات ہے۔کیا فاٹا کا نظام ناکام ہوچکا ہے ؟ نہیں ، ہم نے اس نظام کو ناکام کیا ہے کیونکہ فاٹا کی مغربی سرحد کھولنے جیسے اہم فیصلے میران شاہ اور وانا میں کے پولیٹکل افسران کی بجائے اسلام آباد کے ایوانِ اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے کئے۔کیا سعودی عرب اور سنٹرل ایشیاء سمیت پوری دنیا کے’’ عظیم مجاہدین‘‘ کو فاٹا آنے کی دعوت فاٹا کے عوام نے نہیں بلکہ اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے صاحبِ اقتدار نے دی تھی لیکن جب امریکہ اور پاکستان کے مفادات پورے ہوگئے تو فاٹا کے عوام کو ان لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جن کو پوری دنیا سے سوویت یونین کے خلاف جنگ کے لئے بلایا گیا تھا۔ اس وقت وہ سیاسی جماعتیں جو فاٹا کے خیبرپختونخوامیں انضمام کے لئے جذباتی تقریریں کررہی ہیں وہ دراصل اپنی سیاست چمکانے اور اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کررہیں۔ اپنی سیاست کے لئے یہ جماعتیں فاٹا کی پسماندگی کو جواز بنا رہی ہیں اور فاٹا کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام سے اس پسماندگی کو ختم کرکے ملک کے دیگر علاقوں اور صوبوں کے برابر لانا چاہتی ہیں۔ یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سیاسی جماعتوں نے آج تک ملک کے دیگر صوبوں اور علاقوں کی ترقی کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں ؟ اور وہ کون سی رکاوٹیں تھیں جو مختلف حکومتوں کے لئے فاٹا کو ترقی دینے کی راہ میں حائل تھیں؟ سیٹلڈ ایریاز میں رہنے والے لوگ بھی حکومت کی اسی بے حسی کا شکار ہیں جس کا نشانہ فاٹا کے عوام کئی دہائیوں سے بن رہے ہیں ۔ ترقی کے پیمانوں پر بین الاقوامی درجہ بندی کو دیکھا جائے تو تقریباً ہر درجہ بندی میں پاکستان آپ کو سب سے نیچے والے ممالک میں نظر آئے گا۔بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن مقامی رواج سے مطابقت رکھتی ہے جس میں برطانوی راج نے صرف جیل اور قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے جیسی سزائیں متعارف کروائی تھیں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ انسانی معاشرہ وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کی منازل طے کرتا رہتا ہے لیکن ترقی کی یہ رفتار انتہائی سست ہوتی ہے۔ انڈسٹریل انقلاب سے پہلے زمانے کی ترقی کی رفتار سست تھی لیکن انڈسٹریل انقلاب کے بعد اس رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔ اس پیمانے پر دیکھاجائے تو فاٹا اس وقت انڈسٹریل انقلاب سے پہلے کے زمانے میں جی رہا ہے اس لئے فاٹا کو ترقی دینے کے معاملے میں انتہائی احتیاط کرنی ہوگی اور اس کے لئے ’ ابھی یا کبھی نہیں‘ کا فارمولہ نہیں اپنانا ہوگا۔ سب سے اہم بات یہ کہ فاٹا کے عوام کے رہن سہن اور ان کی ضروریات کو سمجھنا ہوگا اور ہر مرحلے پر ان سے مشورہ کرنا ہوگا۔ ابھی تک کسی بھی سیاسی جماعت نے فاٹا کے عوام کی رائے لینے ، ان کے مسائل کو سمجھنے اور ان کی تجاویز سننے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔ کسی بھی ان پڑھ معاشرے میں ریفرنڈم لوگوں کی رائے جاننے کا مناسب پیمانہ نہیں ہوتا اس لئے فاٹا میں ریفرنڈم کی بجائے سروے کروانا چاہیے جس کے لئے ایک مقامی اور ایک بین الاقوامی سروے فرم کی خدمات حاصل کی جانی چاہئیں۔اگر برطانیہ میں حکومت نے کوئی نوٹیفکیشن بھی جاری کرنا ہو تو ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جو ایک دفعہ اس نوٹیفکیشن کی تحریر لکھ کر کچھ دنوں تک اسے رکھ دیتی ہے اور پھر کچھ دنوں کے بعد اس کا دوبارہ جائزہ لیتی ہے اور اس میں ترمیم کرکے دوبارہ چند دنوں کے لئے اس کو رکھ دیتی ہے اور نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے پہلے یہ عمل کئی بار دہرایا جاتا ہے۔ فاٹا میں اصلاحات کے حوالے سے بھی اس مثال کو سامنے رکھنا چاہیے کیونکہ جلد بازی میں کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ مستقبل میں پچھتاوے کا باعث بن سکتا ہے۔ 

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ