مگر کس کا ایجنڈا ہے

مگر کس کا ایجنڈا ہے

کا صوبہ کے پی میںانضما م امریکی ایجنڈا ہے یہ بات بار بار جمعیت العلماکے سربراہ مو لا نا فضل الرحمان فرما رہے ہیں، وہ یہ بات کس بنیا د پر کہہ رہے ہیں اس نے وہ ہنو ز منظر عام پر نہیں لا ئے ہیں۔ مو لا نا فضل الر ّحما ن کے بیانیہ کو پو ری طر ح پذیر ائی نہیںمل سکی ہے جس کی غالباًوجہ یہ ہے کہ تقریباًسبھی سیا سی جماعتو ں کے رہنما فاٹا کے صوبہ کے پی کے میں انضمام کے نہ صرف حامی ہیں بلکہ وہ اس کے لیے تحریک بھی چلا رہے ہیں البتہ محمود اچکزئی ان کے ہم آواز ہیں۔ حکمر ان جما عت مسلم لیگ ن نے انضما م کا وعدہ کئی مرتبہ کیا مگر وہ اس کو عملی جا مہ نہیں پہنا پائی ہے اور نہ ہی مولانا فضل الرّحما ن کے امریکی ایجنڈا کا مسکت جو اب دے پائی ہے عوام اس سوچ میں ہیں کہ سیا سی جما عتیں اس قدر فاٹا انضما م کے بارے میں بے چین کیوں ہیں ، یہ اقدام انتہا ئی سنجید گی کا متقاضی ہے اسی قسم کا ایک تجر بہ 1969ء میںسوات ، دیر ، چترال ریا ستوں کو ضم کر کے کیا جا چکا ہے اور اس کے نتائج اب تک پو ری قوم کو بھگتنا پڑ رہے ہیں جس کی ایک ہی وجہ تھی کہ ان کی معا شرتی زندگی پا کستان کے شہر یو ں سے جد ا گانہ تھی اور ان ریا ستو ں کے انضما م کی وجہ سے ان کے شہر یو ں کوگوناگوں مسائل کا سامنا کر نا پڑ گیا ۔ خا ص طور پر انصاف کے حصول میں ان کو نہ صر ف دشواریو ں کا سامنا کر نا پڑا بلکہ سستا انصاف بھی ان سے نا پید ہوگیا۔ ریا ستی دو ر میں انصاف کا حصول نہ صرف سستا تھا بلکہ فوری دستیا ب بھی تھا چنانچہ ان ریاستو ں کے عوام نے حکومتی نظام کو مستر د کر دیا اور ریا ستی قوانین کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ جب ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو عوام کا مطالبہ تحریک کی صورت اختیا ر کر گیا اور اس طر ح لو گ شریعت محمد ی تحریک کے بینر تلے اپنے مطالبات کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہو گئے ،محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں صوفی محمد کی قیا دت میں یہ تحریک بہت زور پکڑ گئی جس پر بینظیر بھٹو کو مطالبات تسلیم کر نا پڑ ے چنانچہ 1994ء میں شرعی قوانین کی منظوری دی گئی اور شرعی عدالتو ں کے قیا م کا اعلا ن کیا گیا مگر عملا ًاس پر عمل درآمد نہ ہوسکا چنا نچہ شرعی نظام کے قیا م کی تحریک دن رات ترقی پا تی رہی تاہم جب پرویز مشر ف نے مارشل لاء لگا یا تو انہو ں نے مالا کنڈ ڈ ویژن میں سارے معاملے کو لپیٹ دیا اور بزور طا قت تحریک کو کچلنے کی بدعت کی گئی ، یہ عالمی اصول ہے کہ جب کسی نظریہ یا جا ئز جدوجہد کو جبر ا ًقلع قمع کر نے کی سعی کی جاتی ہے تو پھر تحریک اعتدال پسند قیا دت کے ہا تھو ں سے نکل کر انتہا پسند و ں کے ہتھے چڑھ جا تی ہے۔ چنانچہ تحریک نفا ذ شریعت محمد ی کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔
مولا نا فضل الر ّ حما ن کی فاٹا کو ضم کر نے کی مخالفت ہو یا کثیر تعداد میں سیا سی جما عتو ںکی حما یت ہو یہ مسئلہ سنجید گی کا متقاضی ہے۔ اس میں کسی بھی جا نب سے زبردستی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ سب سے پہلے یہ طے کر نا چاہیے کہ وہ کو ن سے مسائل ہیں جن کو دور کر نے کی حاجت ہے اور ا س کے لیے ملکی مفا د میں بہترین حل اور اقدامات کیا ہیں۔ اس بات کو تسلیم کر نے کی ضرورت ہے کہ فاٹا کے قبائل کسی حکومت کے قانو ن کے مطا بق زندگی گزارنے کی معاشرتی پابندی یا قانونی پا بندی کے عادی نہیں ہیں وہ لو گ اپنی روایات جس میں قبائلی رواج ، رسم ، اور اس کے ساتھ ہی اسلامی شریعت کے عادی ہیں اگر وہاں بھی ریا ست سوات کی طرح یکا یک پا کستان کے وفاقی اور صوبائی قوانین کا اجراء کر دیا جا ئے تو وہ معاشرتی زندگی کی ایک نئی دلدل میں پھنس جائیں گے۔ اس طرح پاکستان کی مغربی سرحدوں کے قریب ایک نیا پنڈورا بکس کھل جا ئے گا جو پا کستا ن کے مفاد میں ہر گز نہیں ہو گا ، کیوں کہ فاٹا کی ثقافت الگ ہے جس کو ترک کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے ۔
فاٹا کے انضما م سے زیا دہ ضروری اس امر کا جائزہ لینا ہے کہ فا ٹا کے عوام کے حقوق کس کس مقام پر غصب ہو رہے ہیں ان سے نجات دلا نا ضرو ری ہے۔ انگریز نے اپنی حاکمیت قائم کرنے کی غر ض سے فرنٹیئر کر ائمز ریگو لیشن نافذ کیا تھا اس میں شک نہیں ہے کہ یہ کالے قوانین پر مشتمل ہے اور اس قانو ن کی مو جو د گی میں ان کی زندگی غلا مو ں سے بد تر ہے۔ چنا نچہ ایسے قوانین کا قلع قمع کرنا تو وقت کا تقا ضا ہے اور اسی طر ح کی اصلاحات بھی لا زمی ہونی چاہئیں لیکن فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کا اقدام کسی طور سو د مند ثا بت نہیں ہوپائے گا جس طر ح ایف سی آر کے خاتمے اور اس کے متبادل قانو ن کی ضرورت ہے اسی طرح قبائل کے معاشرتی رسم ورواج ، جیسے کہ جر گے کا نظام ہے اس میں بہتر ی کی ضرورت اپنی جگہ محسو س کی جا تی ہے توجہ ان امو ر کی جانب دینی چاہیے کے پی کے میں فاٹا کے انضما م کا مطالبہ قبائل کی جانب سے نہیں ہے صرف چند لوگ ہیں جن کے بارے میںگمان ہے کہ وہ بھی کسی کی شہ پر مطالبہ کر رہے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ جو عنا صر قبائل کی نما ئند گی کا حق نہیں رکھتے وہ فاٹا کے انضما م کی حمایت کر رہے ہیںیا مخالفت میں جتّے ہو ئے ہیں ۔اگر فیصلہ کرنا ہے تو آئین کے مطا بق کیا جا ئے اورآئین ایسے اہم مسئلے کے لیے ریفرنڈم کا تقاضا کرتا ہے۔ بہتر ہے کہ قبائلی عوام کی رائے لے لی جا ئے اگر ایسا اقدام کر لیا جا ئے تو کشمیر اور گلگت کی طرح کے مسائل پید انہ کیے جا سکیں گے ۔

اداریہ