’’نیم سوز‘‘کاشعر

’’نیم سوز‘‘کاشعر

استاد جب دوست بن جائے تو دوہرا لطف میسر آجاتا ہے ۔ استاد کی احسان مندی کااحساس بھی ساتھ رہتا ہے اور بے تکلفی کے مزے بھی ہم سفر رہتے ہیں ۔ پروفیسرڈاکٹر فقیرا خان فقری میرے استاد اور دوست ہیں۔ڈاکٹر صاحب پشاور یونیورسٹی کے دبنگ پروفیسروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ آج کل ریٹائرمنٹ کی زندگی گزاررہے ہیں لیکن ریٹائرہوکر کچھ اور زیادہ مصروف ہوگئے ہیں ۔ جس عمر میں لوگ آرام کرتے ہیں وہ کام کررہے ہیں ۔ کام بھی وہ جس کی سماج کوضرورت ہر وقت رہتی ہے ۔ شعور انسانی سماج کیلئے آکسیجن کی مانند ہے ۔ شعور سے عاری سماج اپنے تمام تر حوالوں میں بے ہنگم ہوجاتاہے۔ کج روئیے اس سماج کی مشترک قدر بن جایا کرتی ہے ۔ ایک دانشور ایک فنکار سماج میں شعور کی سبیل نکالتا ہے ۔ جو طویل ریاضتوں کی دَین ہوتا ہے ۔ شعو رکی ترسیل کے تو بہت سے راستے ہیں۔ کو ئی منطق اور دلیل کے رستے چل کر شعور کی منزل پاتا ہے تو کسی کے پاس فن کا رَتھ ہوتا ہے ۔ عام طور پر فن کا رستہ جلدی منزل کوپالیتا ہے ۔ آرٹ ایسا میڈیم ہے کہ جو فنکار اور ناظر یا قاری کے درمیان احساس کا پل بنادیتا ہے اور فنکار کی فکری جہت بہت جلد قاری یاناظر تک پہنچ جاتی ہے ۔ شعر تمام تر آرٹ میں اسی لیے مقبول ہے کہ اس کا اثر بہت جلد عیاں ہوتا ہے ۔اپنے اختصار میں پنہاں ہزار معانی لیے شعر کسی کیپسول کی طرح اندر اترتے ہیں اور اپنی تاثیر چھوڑنا شروع کردیتاہے ۔ ایک اچھے استاد ہونے کی حیثیت سے اپنا کیرئیر ختم کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب کی ساری توجہ فن کے رستے اپنی شعر کی خوشبو پھیلانے پر صرف ہوتی ہے ۔ یوں تو ڈاکٹر صاحب نے نثر میں’’سید ضیاء جعفری (احوال و آثار) ‘‘، ’’اقبال کا ذوق جمال ‘‘کے عنوانات سے اپنے تحقیقی مقالے چھپوائے ہیں جو اپنی جگہ علمی حیثیت رکھتے ہیں ۔ لیکن بنیادی طور پر ڈاکٹر صاحب شعر کے آدمی ہیں ۔ ان کے پے درپے ’’ ہم دہر کے مردہ خانے میں ٰ‘‘، ’’کرگس زیست ‘‘، ’’کشتیاں ہم بھی جلاسکتے ہیں ‘‘ ، ’’قلزم زیست ‘‘، ’’وقت کے گونجتے بیاباں ‘‘، ’’موت کے پتلے ‘‘کے عنوانات پر چھ مجموعے چھپ چکے ہیں اور ساتواں مجموعہ کلام ’’نیم سوز‘‘ اس وقت میرے زیر مطالعہ ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر فقیرا خان کی شخصیت کی سادگی ان کے شعر سے عیاں ہے ۔ وہ اپنے دل کی بات بڑی سادگی سے کرجاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی زیر مطالعہ کتاب ’’نیم سوز‘‘میں فکری حوالے سے دیکھا جائے تو مصنف نے اپنے دور کی زندگی کی بھرپور عکاسی کی ہے جو کچھ ارد گرد انہیں ہوتا دکھائی دیتا ہے وہ مناظر شعر کی صورت اختصار کی جامعیت میں، شعری جمالیات کی صورت ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت میں بھی ڈر کا خانہ خالی ہے سو یہی کیفیت ان کے شعر میں بھی در آئی ہے وہ اپنے شعر کیلئے وہ مضامین بھی چن لیتے ہیں جو عام شاعروں کیلئے ’’شاہراہ عام‘‘ نہیں ہوتے۔ اس حوالے سے ان کے ہاں ایک مزاحمتی انداز سامنے آتا ہے ۔ قوم کے ساتھ جو مکر وفریب کے گتکے کیے جارہے ہیں انہیںڈاکٹر صاحب اپنی شاعرانہ اپج کے ساتھ سامنے لاتے ہیں ۔ فنا کا موضوع میرتقی میر اور فانی بدایونی کا یہاں ایک مستقل موضوع رہا ہے ۔ ڈاکٹر فقیرا خان نے بھی اسی کیفیت کو اپنے شعر کی زینت بنایا ۔ ڈاکٹر صاحب کے یہاں جمالیات کا ایک نیا نقطہ سامنے آتا ہے ۔ ان کی جمالیات کے دو بنیادی پہلو ہیں ۔ ایک مظاہر فطرت اور دوسرا انسان ۔ ڈاکٹر صاحب کا تعلق حویلیاں کی خوبصورت وادی سے ہے جہاں قدرت نے اپنے مصوری کی شاندار مثالیں قائم کی ہیں ۔ فطرت کے قرب نے ان کو عاشق فطرت بنادیا ہے جب وہ فطرت کے بیان میں شعر کہتے ہیں تو وہ چیزِ دگر بن جاتے ہیں جبکہ انسان توہر کیفیت میں ان کیلئے حسین ہے ۔ وہ انسان دوست شاعر ہیں ۔ جب جب انسان کی تذلیل کی جاتی ہے وہ اپنے شعر میں نشتر بھر کر جبر کے اس رویے پر بھرپور وار کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کی زیر نظر کتاب ’’نیم سوز‘‘ میں زبان کے تجربے بھی ملتے ہیں ان کے قوافی میں خاص طور پر انہوں نے شعوری کاوش سے نئے لسانی تجربے کیے ہیں جو یقینا پڑھنے والوں کو متاثر کریں گے۔ ’’ نیم سوز‘‘ یقیناپشاور کے ادبی حلقوں سے اٹھنے والی ایک تواناآواز ہے کہ جو اپنے دیرپا اثرات دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ نیم سوز سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔ 

طبیعت آج بھی مغموم ہے فقری
میں پڑھ کر آج پھر اخبار بیٹھا ہوں
مجھے بیساکھیاں بھی اب نہیں ملتیں
میں پاؤں پر کلہاڑے مار بیٹھا ہوں
کہیں دیوار ہی مجھ پر نہ گرجائے
میں زیرسایہ دیوار بیٹھا ہوں
جوانی، بچپنا، کاغذ، قلم فقری
نہ جانے اور کیا کیا ہار بیٹھا ہوں
شکست و ریخت سے دوچار بیٹھاہوں
میں اپنے روبرومسمار بیٹھا ہوں
اجل کی گھاٹیوںمیںخاک بوتا ہوں
جدائی میں سراپا یاس بوتا ہوں
کڑا دکھ ہے مجھے خود سے بچھڑنے کا
میں اپنی یاد میں دن رات روتا ہوں
ہونٹ سینے کے سوا کیا ٹھہرا؟
اشک پینے کے سوا کیا ٹھہرا
خالق جبر مقدر میرا!
مرنے جینے کے سوا کیا ٹھہرا؟

اداریہ