ایم بی بی ایس پارک

ایم بی بی ایس پارک

میرا بس چلتا تو میں اسے ’ایم بی بی ایس پارک‘ کہتا ،کوئی وجہ پوچھتا تو میں اسے بتاتا کہ ایم بی بی ایس مخفف ہے ’میاں بیوی بچوں سمیت‘کا۔ اور یہ پارک ایسا تھا جہاں میاں، اپنے بیوی بچوں سمیت ہی داخل ہوسکتا تھا۔ اس پارک کو عرف عام میں پشاور کا فیملی پارک کہا جا تا تھا ۔ چلو اچھا ہوا میرا بس نہیں چلا فیملی پارک پشاور کو ایم بی بی ایس پارک کا نام دینے کا۔’ مقدس مقام کو تحویل میں لینے کا فیصلہ‘۔ یہ ہے اس خبر کی سرخی جسے پڑھ کر میں وہاں پہنچ گیا۔ بہت آسان ہے ایسا کرنا میرے لئے۔ بس آنکھیں بند کرتا ہوں اور جہاں چاہتا ہوں پہنچ جاتا ہوں۔ میں نے اسے فیملی پارک کہا لیکن اخبار کی سرخی میں اسے چاچا یونس پارک کہہ کر یاد کیا گیا۔ جی ہاں اسے فیملی پارک بننے سے پہلے چاچا یونس پارک ہی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔چا چایونس بلدیہ پشاور کی تاریخ ساز شخصیت کا نام تھا انہوں نے بلدیہ پشاور کے با اختیار منصب دار کی حیثیت سے پشاور اور اہالیان پشاور کے لئے ایسی اصلاحات کیں اور ان کو اس افراط سے بنیادی سہولیات مہیا کیں کہ شہر کا بچہ بچہ انہیں چاچا یونس کے اپنائیت بھرے نام سے یادکرنے لگا۔پشاور میں نام بدلنے کی روایت جانے کب سے چل رہی ہے۔ یہاں فردوس سینما ہوا کرتا تھا جس کے خلاف مذہبی رہنماؤں نے تحریک چلائی اور یوں فردوس سینما کا نام شبستان سینما رکھ دیا گیا۔ لیکن مقامی لوگوں نے سینما کے نئے نام کو قبول کرنے کی بجائے اسے فردوس سینما ہی کہنا مناسب سمجھا۔اب وہاں سینما نہیں رہا ، تب بھی لوگ اس مقام کو فردوس ہی کے نام سے جانتے ہیں ۔ یہی حال خیبر ٹیچنگ ہسپتال کا ہے جسے لوگ اس کے پرانے نام شیر پاؤ ہسپتال ہی سے جانتے ہیں ۔ وہ جو ایک گھسا پٹا سچ ہے کہ گلاب کو جس نام سے پکارو گلاب ہی رہتا ہے۔ فیملی پارک کو بلدیہ پشاور کی مہربانی سے آج بھی چاچا یونس پارک ہی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔مگرحق راستی یہ بھی ہے کہ اس مقام کو کسی زمانے میں پنج تیرتھ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔اس کا یہ نام صدیوں پرانا تھا ۔ نام بدلنے والوں نے یہاں بکھرے نادر و نایاب آثار قدیمہ کو ملیا میٹ کرکے جو جی میں آیا تعمیر کرنا شروع کردیا اور یوں چاچا یونس پارک کو ٹھیکے پر نیلام کرنے کے بعد میاں بیوی بچوں سمیت آکر تفریح کرنے کی غرض سے پارک بنا کر اس کا نام فیملی پارک رکھدیا گیا۔ ہر کہ آمد عمارت نو ساخت کے مصداق ۔ تو بھٹی لائی جا تے تو بھٹی ٹہائی جا کے اس عمل سے پشاور اور اس کے گردو نواح میں موجود آثار قدیمہ کتنے متاثر ہوئے اس کی نہ کوئی حد ہے نہ حساب۔ عرض کرچکا ہوں کہ جہاں فیملی پارک یا اس کے مضافات میں تعمیرات کی گئیں اس جگہ کو پنج تیرتھ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ تیرتھ سنسکرت کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں مقدس مقام یا وہ جگہ جہاں یاترا کے لئے جایا جاتا ہے۔ پنج تیرتھ پشاور میں پانچ عدد قدرتی چشمے تھے جن کا پانی سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈا ہوتا۔ ان قدرتی چشموں کے گرد تعمیرات کرکے ان کو پانچ قابل دید تالابوں کا روپ دے دیا گیا تھا۔ تقسیم ہند سے پہلے ہندو مت سے وابستہ اقلیت اس مقدس مقام پر اشنان کرنے یوں جمع ہوتی جیسے وہ گنگا جمنا میں جمع ہوا کرتے ہیں۔ آثار قدیمہ کے حامل ان چشموں کو راقم السطور نے اپنے بچپن کے دوران اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ پانی کے ان صاف ستھرے چشموں میں ایک چشمہ کنواں نما بھی تھا۔ وزیری اینٹوں سے بنی چوکور چشمے کی دیواروں کے عین بیچ میں وزیری اینٹوں ہی کے بنے ہوئے کنویں کا گول دہانہ تھا جس میںسے پانی ابل کر باہر آتا لیکن چوکور دیوار کو پار نہ کرسکتا اور یوں وہ کنواں چشمے کے پانی سے لبا لب بھرا دکھائی دیتا۔ پاکستان بننے کے بعد یہاں پر گرد و نواح کے بچے بالے آکر چشمے کے پانی میں چھلانگیں لگا کر تیراکی کا لطف اٹھاتے رہتے۔ 

یہاں ایک بہت بڑی جھیل تھی جہاں پانچ چشموں کا فالتو پانی جمع ہوتا رہتا۔ اس جھیل میں کشتی رانی بھی کی جاتی اور مچھلیاں پکڑنے کے شوقین دن بھر مچھلی پکڑنے کے راڈ ہاتھ میں پکڑے کینچو ا لگے کنڈے مچھلی کے پھنسنے کے انتظار میں دنیا و مافیہا سے بے خبر مستغرق رہتے۔ اونچے اونچے کھجور کے درخت تھے جن کا پھل ہماری دسترس سے باہر تھا۔ہم شاہی باغ جاتے وقت پنج تیرتھ سے گزرتے۔ یہاں پرانے وقتوں کا مینار نما ایستادہ سٹوپا تھا ،جس پر کوئی جوگی یوگی یا سادھو بیٹھ کر گیان دھیان حاصل کرتا ہوگا۔ ہم جب اس سٹوپے کے قریب سے گزرتے تو اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے اور از راہ تفنن یہاں تک کہہ دیتے کہ پرانے وقتوں میں یہ ایک کنواں تھا۔ زلزلہ آیا اور الٹ کر مینار بن گیا۔ ہوتا ہوگا یہاں شمشان گھاٹ بھی لیکن ہم اس کی چشم دید گواہی نہیں دے سکتے ہم پاکستان بننے کے بہت سال بعد لڑکپن کے زمانے میں اسکول سے بھاگ کر پنج تیرتھ نامی اس جادو نگری میں کھو جایا کرتے۔کبھی کھجو ر کے پتوں سے جھانکتی کھجوروں کے خوشے کوگرانے کے شوق میں غلیل کا استعمال کرتے اور کبھی مچھلیاں پکڑنے والوں کا تماشہ کرنے لگتے اور کبھی ننگ دھڑنگ ہوکر پنج تیرتھ کے چشموں میں کود جاتے۔
کتنے گندے بچے تھے ہم اور کتنے اچھے تھے وہ لوگ جنہوں نے مٹا ڈالایہ سب کچھ حرف غلط جان کر۔ کاش کوئی ان کو روک پاتا
روک لو گر غلط چلے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی

اداریہ