مشرقیات

مشرقیات

بغویؒ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے نقل کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دوران حضرت عبداللہ بن حجشؓ نے مجھ سے کہا کہ ’’آئیے مل کر دعا کریں‘‘۔میں ان کے ساتھ ہولیا۔ ہم ایک گوشے میں چلے گئے۔ وہاں میں نے تو یہ دعا کی کہ: ’’پروردگار!جب کل دشمن سے ہماری جنگ شروع ہو تو میرا مقابلہ کسی ایسے شخص سے کرائیے جو بڑا طاقتور اور ہٹا کٹا ہو‘ میں اس سے خالص آپ کی خوشنودی کی خاطر لڑوں اور پھر آپ مجھے اس پر فتح نصیب فرمائیں‘‘۔ حضرت عبداللہ بن حجشؓ نے اس دعا پر آمین کہی‘ پھر خود ان کی دعا کی باری تھی۔ اب انہوں نے ان الفاظ سے دعا فرمائی ’’ یا الٰہی! مجھے کل کوئی ایسا طاقتور شخص نصیب فرما جس سے میں آپ کی خوشنودی کی خاطر لڑوں‘ یہاں تک کہ وہ مجھے پکڑ کر میرے ناک کان کاٹے اور پھر جب میں قیامت کے دن آپ سے ملوں تو عرض کروں کہ میر ساتھ یہ سلوک آپ کی اور آپ کے رسولؐ کی راہ میں ہوا اور آپ جواب میں میری تصدیق فرمائیں۔‘‘ حضرت سعدؓ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن حجشؓ کی دعا میری دعا سے بہتر تھی چنانچہ اس روز جب دن ڈھلا تو میں نے دیکھا کہ ان کی ناک اور کان ایک دھاگے میں لٹکے ہوئے ہیں۔ (الاصابہ‘ ص 278‘ ج2)
شریکؒ‘ خلیفہ مہدی کے زمانے میں قاضی تھے‘ ایک مرتبہ وہ مہدی کے پاس پہنچے تو اس نے انہیں قتل کروانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ قاضی صاحب نے پوچھا:’’امیر ا لمومنین کیوں؟‘‘۔مہدی نے کہا’’ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تم میرا بستر روند رہے ہو اور مجھ سے منہ موڑے ہوئے ہو۔ میں نے یہ خواب ایک معبر کے سامنے پیش کیا تو اس نے یہ تعبیر دی کہ قاضی شریک ظاہر میں تو آپ کی اطاعت کرتے ہیں لیکن اندر اندر آپ کے نافرمان ہیں‘‘۔قاضی شریک نے جواب دیا’’ خدا کی قسم امیر المومنین‘ نہ آپ کا خواب ابراہیم علیہ السلام کا خواب ہے اور نہ آپ کی تعبیر دینے والا یوسف علیہ السلام ہے۔ تو کیا آپ جھوٹے خوابوں کے بل پر مسلمانوں کی گردنیں اتارنا چاہتے ہیں؟‘‘۔مہدی یہ سن کر جھینپ گیا اور قتل کرنے کا ارادہ ملتوی کردیا۔
(الاعتصام ص353ج 1)
حضرت جنید بغدادیؒ نے مسجد میں ایک شخص کو دیکھا کہ خوب قوی اور تندرست موٹا تازہ ہے اور بھیک مانگ رہا ہے‘ انہوں نے اپنے دل میں اس پر طعن اور اعتراض کیا۔ رات کو خواب میں دیکھا کہ کوئی مردے کا گوشت کھانے کوکہتا ہے اور ان کے انکار پر کہتا ہے کہ تم نے آخر اس کی غیبت کرکے مردے کا گوشت کھایا نہیں تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں نے تو اس کو کچھ نہیں کہا‘ جواب ملا کہ کیا غیبت دل میں نہیں ہوتی بلکہ اول تو دل ہی میں پیداہوتی ہے۔ بیشک کلام تو دل ہی میں ہوتا ہے‘ البتہ زبان کو دل کا ترجمان بنایاگیاہے۔ آپؒ بیدار ہو کر چلے معاف کرانے کے لئے‘ اس شخص نے آپ کو آتے دیکھ کر دور ہی سے یہ آیت پڑھی۔ترجمہ’’وہی ہے قبول کرتا ہے توبہ اپنے بندوں کی۔‘‘اور پھر کہا کہ دوبارہ ایسا نہ کرنا۔

اداریہ