Daily Mashriq


یہ سب کیوں ہوتا ہے؟

یہ سب کیوں ہوتا ہے؟

روزانہ ایسی خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں کہ فلاں شہر میں بچے کی لاش ملی‘ فلاں گائوں میں دلہن کی لاش ملی‘ شوہر کو قتل کرکے تندور میں جلایاگیا۔

ایسا کیوں ہوتا ہے۔ قانون موجود ہے‘ قانون کے رکھوالے موجود ہیں لیکن کیا کوئی ایسا ادارہ بھی ہے جو قانون کو عمل درآمد سے روکتا ہے۔ روز کئی مائیں روتی ہیں‘بین کرتی ہیںلیکن کیوں کوئی ان کی آواز نہیں سنتا۔

کیا ان ظالموں کو سبق سکھانے کی ہمت کسی میں نہیں ہے۔ ہمت تو ضرور ہوگی لیکن سزائیںنہیں دی جاتیں۔ جس ملک میں سزا ہوتی ہے وہاں ایسے مظالم بہت کم ہوتے ہیں۔یہ بات آج کی نہیں ہے، جس کا جتنا بس چلتا ہے اتنا وہ آگے بڑھتا ہے۔ کوئی اچھائی کی طرف اور کوئی برائی کی طرف۔ ہمارے پاس قرآن پاک کا قانون موجود ہے لیکن ہم اس پر عمل نہیں کر رہے۔ یہ بے حسی پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے لیکن بچوں کو اغوا کرکے قتل کرنا اس قسم کے واقعات اب زیادہ سامنے آرہے ہیں۔ شاید اس کی وجہ میڈیا ہے جو اپنا کردار بخوبی ادا کر رہا ہے۔ ہر گلی کوچے کے نکڑ پر درندے بیٹھے ہوتے ہیں اور اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ کب کوئی آئے اور ہم اسے ہوس کا نشانہ بنالیں۔ پہلے کم از کم ایک دوسرے کا لحاظ ہوتا تھا، بڑوں ، رشتوں، پڑوسی، مہمان کا لحاظ ہوتا تھا۔ اب لحاظ بھی روشن خیالی کی نذر ہوگیا۔ جب ہمارے سیاستدان ‘ ہمارے وزراء ایک دوسرے کی ماں بہن اور بیٹی پر کیچڑ اُچھالیں گے تو عوام پر اس کا کیا اثر ہوگا؟۔ ظاہر ہے عوام بھی آہستہ آہستہ ماں بہن کی عزت کو معمولی بات سمجھیں گے۔ ہمارے ملک میں جب بھی ایسے بڑے واقعات ہوتے ہیں تو میڈیا حرکت میں آجاتا ہے۔ بہت اچھی بات ہے لیکن کیا اچھا ہوگا اگر بر وقت سزا بھی موجود ہو لیکن سزا تو ہے نہیں!!!

یہاں جب مجرم جرم کرتا ہے تو اسے موت کا خوف نہیں ہوتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر پکڑا گیا تو سزا صرف قید تک ہی محدود ہے۔ امن تب آتا ہے جب سزا پر عملدرآمد ہو۔ اگر قانون اور قانون کے رکھوالے خاموش رہیں تو عوام مجبوراً قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کرینگے۔ یاد رہے کہ ایسے مجرم بزدل ہوتے ہیں۔ اسی طرح کے چار پانچ مجرموں کو کسی چوک میں پھانسی دیدیں تو ہی ان جیسے گھناؤنے جرائم کا خاتمہ ہو سکے گا۔ بچوں کو سکول سے لانے اور لے جانے والی پرائیویٹ گاڑیوں میں لڑکیوں کو آگے بٹھایا جاتا ہے جبکہ اکثر گاڑیوں میں بے ہودہ گانے لگائے جاتے ہیں۔ مگر ان سے باز پرس والا کوئی نہیں ہوتا۔ والدین کو اپنے بچوں کو باہر اکیلے نہیں بھیجنا چاہئے ان کے ساتھ گھر کے کسی بڑے فرد کا ہونا ضروری ہے۔

کچھ باتیں جو آنکھیں کھولنے کیلئے ضروری ہیں۔اولاً زینب مرڈر کیس کوئی عام کیس نہیں ہے، اس زیادتی اور قتل کے پیچھے کچھ ہولناک حقائق ہیں۔

دوم زینب پہلی بچی نہیں، یہ صرف قصور شہر میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی بارہویں بچی ہے۔2015ء میں قصور میں اڑھائی سو سے زیادہ بچوں کے ریپ اور ویڈیوز کا جو معاملہ اٹھا تھا، اس کے پیچھے بہت بڑا مافیا ہے جو ان بچوں کی ویڈیوز بنا کر ڈارک ویب پر بیچنے کے کروڑوں ڈالر کے کاروبار میں ملوث تھا۔ سوم زینب اور اس سے پہلے ماری جانے والی کم از کم9 بچیوں کے جسموں سے ملنے والا ڈی این اے ایک ہی درندے کا ہے۔ چہارم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق زیادتی کے بعد اس کو مارنے کیلئے اس کی سانس بھی بند کی گئی، گلا بھی کاٹا گیا اور کلائیاں بھی۔پنجم، جاننے والے جانتے ہیں اور سمجھ گئے ہوں گے کہ ایسے واقعات میں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد دردناک طریقے سے ان کو مارا جاتا ہے، ان کی ویڈیو یا پہلے لائیو اور ریکارڈڈ ڈارک ویب پر چلائی جاتی ہیں اور اس مکروہ اور قبیح فعل سے کروڑوں ڈالر کمائے جاتے ہیں۔ششم اور آخری بات یہ کہ یہ سب ہمارے قانونی محافظوں کی غفلت اور بعض دفعہ ملی بھگت سے ہوتا ہے۔ ابھی کوئی بندہ پکڑا جاتا ہے کہ کچھ دنوں بعد اس کی ’’خود کشی‘‘ یا ’’پولیس مقابلے میں مارے جانے‘‘ کی خبر آجاتی ہے، یہ بہت بڑا جرم ابھی شروع ہوا ہے اور اس میں بڑے بڑے لوگ شامل ہیں، آپ اسے مانیں یا نا مانیں، یہ آپ کے ضمیر کی گواہی پر ہے۔

ہمارا المیہ یہی ہے کہ جب کوئی بڑا واقعہ پیش آجاتا ہے تو ہم جاگتے ہیں۔ قصور سکینڈل کے بعد ایسا ہی ہوا‘ قومی اسمبلی میں چائلڈ پروٹیکشن بل2015ء منظور کیا گیا‘ سب قانون سازی کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد کی گارنٹی نہیں ہوتی۔ قانون سازی کے باوجود بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

اس مسئلے پر سیاسی جماعتوں‘ عوام الناس اور سبھی عناصر کا افسوس اور احتجاج فطری امر ہے لیکن کیا کبھی کسی نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی ہے کہ اس طرح کے واقعات کی آئندہ روک تھام کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کی جانی چاہئے۔ ہمارے پارلیمان میں کبھی اس طرح کے ملزموں کو سرعام چوراہے پر لا کر چین‘ سعودی عرب اور ایران کی طرح سزائیں دینے کا قانون منظور کرنے کیلئے کبھی کسی نے کوئی بل پیش کیا ہے؟ کیا کسی نے شرعی سزائوں کے نفاذ کی بات کی ہے؟

زبانی کلامی اور انفرادی طور پر ایسا ضرور ہوتا ہے لیکن اس ملک کی پارلیمان میں کبھی ایسا مطالبہ بطور مسودہ قانون اور بطور بل کسی جماعت نے پیش نہیں کیا۔ جس ملک میں دہشتگردوں کی پھانسی کی سزائیں روک دی جائیں یا رکوا دی جائیں‘ جس ملک میں قتل کے ملزمان وی کا نشان بنا کر اس پر پورا اُترنے کی مثالیں پیش کرتے ہوں‘ جس معاشرے میں قانونی معاملات سیاست زدہ کردئیے جائیں اس ملک میں خواہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان کی مظلوم لڑکی ہو یا قصور کی زینب یا اسلام آ باد کی معصوم نوکرانی کوئی بھی محفوظ ہے اور نہ ہوگا اور نہ ہی اس کی توقع رکھنی چاہئے۔ اس کا تدارک سخت سزائوں اور ملزمان کو نشان عبرت بنا کر ہی ممکن ہوگا۔

متعلقہ خبریں