صلح میں بھلائی ہے‘‘

صلح میں بھلائی ہے‘‘

کرہ ارض پر جزا اور سزا کا عمل قیامت تک جاری رہے گا۔ کبھی شر کی قوتوں کو غلبہ حاصل ہوگا۔ توکبھی نیکی کا پلڑا بھاری ہوگا۔ روئے زمین پرانسان کا پہلا قتل ہابیل کا ہو اتھاجو اپنے بھائی کے ہاتھوں ابدی نیند سو گیا تھا ۔اُس وقت سے لیکر آج تک بے شمار انسان مختلف وارداتوں میںقتل کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اس میں کبھی بھی کمی واقع نہیںہوئی۔ شر کی قوتوں کو مات دینے کے لیے عدالتی نظام وجود میں لایا گیا ہے تاہم بعض وجوہات اوربے شمار مسائل کی بنا پر عدالتی نظام عوام کو سستا اور بروقت انصاف کی فراہمی کو ممکن نہ بنا سکے ۔سالہا سال مقدمات کی پیروی میں گزر جاتے ہیں۔ بہت سے مقدمات میں تو فریقین انصاف کے انتظار میں دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں لیکن ان کا کوئی فیصلہ نہیں ہو پاتا ۔ان مقدمات پر قیمتی وقت کے ساتھ ساتھ پیسہ بھی ضائع ہو جاتا ہے۔ ان کمزوریوں اور خامیوں کے باعث عوام بروقت اور سستے انصاف کیلئے متبا دل نظام اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔اگر ہم پاکستانی قوانین کا جائزہ لیں تو ہمیںان میں کوئی ایسا متبادل اصلاحی نظام نہیں ملے گا ۔ زیادہ تر قوانین میں اصلاحی نظام اُس وقت عمل میں لایا جاتا ہے جب مجرم کو سزا ہوجاتی ہے ۔یہ خیال کیا جا تا ہے کہ وقتی قانون اصلاح کیلئے کا فی ہے۔اس کے برعکس پولیس اور وکیل کی خواہش ہوتی ہے کہ جرائم پیشہ افراد کو سزا ملے ۔متبادل اصلاحی نظام عدالتی کارروائی کے دوران یا اس کے بعد لاگو ہوسکے گا ۔ یہ بہتر ہو گا کہ متبادل اصلاحی نظام پر عمل کیا جائے۔ کیونکہ یہ بغیر کسی تاخیر کے جرائم پیشہ افراد کے رویے میں تبدیلی لاتا ہے۔ لیکن یہاں پر اس رائے کو تقویت نہیں ملتی اور بغیر کسی وجہ کے عدالتی کارروائی میں تاخیر ہوتی ہے ۔اور اصلاحی نظام بھی متعارف نہیں ہوتا ۔ جس کے نتیجے میں مجرم غلط اثر لیتا ہے۔ ایسے میں"Dispute Resolution Councils"جسے ـ"تنازعات کے حل کی کونسل" بھی کہتے ہیں اور حرف عام میں جرگہ سسٹم بھی کہا جاتا ہے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ 

پختون معاشرے میں جرگہ کو اعلیٰ اور منفرد مقام حاصل ہے۔برطانوی دور حکومت میں صوبہ خیبر پختونخوا میں تمام مقدمات پر بحث وتمحیث اور اُن کے فیصلے جرگے کے ذریعے کئے جاتے تھے۔ ہر جرگہ مقامی روایات ،ثقافت اور اقدار کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتا اور برطانوی حکومت جرگہ کے نظام میں کوئی مداخلت نہیں کرتی تھی ۔ اس جرگہ سسٹم کے تحت تمام مقدمات کا مصالحت کی بنیاد پر فیصلہ ہوتا تھا ۔ تمام فریق جرگے کے فیصلے کے پابند ہوتے تھے۔ جرگہ کے تحت فریقین کو جیل بھیجنے کی بجائے مدعی کے نقصان کا ازالہ کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں مصالحتی طریقہ کار کے امکانات بڑھتے ہیں۔ اس سسٹم کے بہت سے فوائد ہیں۔ اس سسٹم کے تحت تفتیش ، عدالتی کا رروائی اور مخالف پارٹی کو جیل نہیں بھیجا جا سکتا ۔ جرگہ کے ممبران علاقہ کے سماجی نظام اورفریقین کے حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے سادہ طریقے سے فیصلے کرتے ہیں۔فریقین یہ فیصلے بخوشی قبول کر لیتے ہیں۔ اس نظام کے تحت معاشرتی سطح پر مقدمات کامحض سادہ طریقے سے فیصلہ کیاجاتا ہے اور اس طرح پولیس اور عدالتوں کو پیچیدہ جرائم کا فیصلہ کرنے کیلئے وقت مل جاتا ہے۔ شکایت گزار اور ملزم کو عدالتوں کے اخراجات سے نجات ملتی ہے اور اُن کے قیمتی وقت کو بھی بچایاجاتاہے۔ اس کے علاوہ معاشرتی مداخلت کی وجہ سے ایک صلح جو اوربہتر ماحول بنایا جا سکتاہے۔ اُن کے کشیدہ تعلقات کو دوستی میں تبدیل کیاجاتاہے اور ملزم کو شکایت گزار کے نقصان کا پابند بنادیا جاتاہے۔ فریقین کے درمیان تنازعات مقامی سطح پر ختم کیے جاتے ہیں جو معاشرتی عمل کیلئے مفید ہے۔ اور یہ ملزم کو شکایت گزار کے ساتھ بہتر طریقے سے گفت وشنیدکی طرف راغب کرتا ہے۔ صوبے میں مصالحتی کمیٹیاں پہلے سے موجود تھیں لیکن اس نظام کو اس وقت پذیرائی حاصل ہوئی جب موجودہ حکومت نے جون 2014 میں پشاور میںتنازعات کے حل کی کونسل کے قیام کا آغاز کیا۔اور اس کے حوصلہ افزا نتائج کو دیکھتے ہوئے صوبہ بھر کے لوگوںنے اپنے اپنے اضلاع میں کونسلوں کے قیام کا پُرزور مطالبہ کیا۔اور آج صوبے کے تمام اضلاع میں یہ کونسلیں قائم کی گئی ہیں۔کونسل برائے تنازعات کے حل کا منشور قرآن و سنت کی روشنی میں تشکیل دیا گیا ہے۔جو سورۃ الحجرات کی تعلیمات یعنی ’’ صلح میں بھلائی ہے‘‘ سے ماخوذ ہے۔مصالحتی کونسلوں کا قیام صوبے میں امن و آشتی اور بھائی چارے کے لیے ایک بہترین اقدام ہے۔ موجود ہ دور میں اس کی اہمیت اورافادیت کچھ زیادہ ہی محسوس کی جارہی ہے۔مصالحتی کونسلوںکے قیام کا بنیادی مقصد معاشرے کے مختلف افراد کے مابین ہونے والے جھگڑوںیاتنازعات کا پُر امن حل تلاش کرکے ہم آہنگی برقرار رکھنا ہے۔ یہ نظام ہر حوالے سے ہماری مذہبی اقدار، روایات اور ثقافت کا مکمل آئینہ دار ہے۔ اس کے تحت کسی بھی تنازعہ کے حل کے وقت لوگوں کی موجودگی میں کھلے عام ماحول میں دونوں فریقین کو بٹھا کر پُر امن حل تلاش کیا جاتا ہے۔کونسل کے ممبران فیصلہ کرتے وقت کسی بھی فریق پر کوئی دبائونہیں ڈالتے کیونکہ کسی قسم کا دبائو یا دھمکی مصالحتی کوششوں کے بنیادی جذبے کے متصادم تصور کیا جاتا ہے ۔مصالحتی کونسلوںمیں سیاسی وابستگیوں سے بالا تر معاشرے کے غیر جانبدار، دیانتدار، ایماندار اور بالخصوص خدمت خلق کے جذبے سے سرشار لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور فریقین کے مابین تعلقات کو تنازعے سے پہلے والی سطح پر واپس لانا ہوتاہے۔پولیس کسی بھی فریق کا ساتھ نہیں دیتی اور نہ گواہ بنتی ہے۔پولیس کا کام صرف مصالحت کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہوتا ہے۔تمام مقدمات کی مصالحت قانونی دائرہ کار کے تحت کی جاتی ہے۔جن کے نتیجے میں عوام بھی مطمئن ہوتے ہیں۔ معاشرے میں ہم آہنگی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے اور تنازعہ کے دونوں فریقوں کے مابین خوشگوار تعلقات استوار قائم ہوئے ہیں۔مصالحتی کونسلوںکی کوششوں کی وجہ سے مقدمات کا اندراج کم ہو جاتا ہے۔ جن کی وجہ سے پولیس پرملزموں کی گرفتاری اور عدالتوں میں مقدمات پیش کرنے کا بوجھ کم ہوجاتا ہے۔

اداریہ