Daily Mashriq


بونیر میں بڑھتا ہوا نشے کا رجحان

بونیر میں بڑھتا ہوا نشے کا رجحان

ضلع بونیر خیبر پختونخوا کا ایک پسماندہ ضلع ہے۔ یہاں کی آبادی تقریباً آٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس میں اکثریت نوجوانوں کی ہے ۔ نوجوان کسی بھی ملک و قوم میں مرکزی اہمیت رکھتے ہیں ۔ اقوام عالم کی تاریخ اور ترقی پر غور کیا جائے تو اس کے پیچھے نوجوانوں ہی کی شبانہ روز محنت نظر آئے گی ۔ اقبال کی محبت کا بھی کتنا مشکل پیمانہ ہے اپنی محبت ان نوجوانوں کے پلڑے میں ڈال دی جو ستاروں پر کمندیں ڈالتے ہیں ۔آسمان کے تارے ہم سے بہت دور ہیں ان پر کمند ڈالنا تو کجا یہاں پر تو زمین پر رینگتی چیونٹیوں کو لڑانا اور تنگ کرنا نوجوانوں کا مشغلہ بن گیا ہے ۔بدقسمتی سے آج کا ہمارا نوجوان بھی ان تمام صفات سے کوسوں دور ہے ۔ اس کے پیچھے جتنے بھی عوامل کارفرما ہیں وہ اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب نظر آرہے ہیں ۔ خوش قسمتی ہماری یہ ہے کہ ہمارے ملک میں چونسٹھ فی صد نوجوان بستے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اکثریت کے زندگی کا کوئی خاص نصب العین نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا نوجوان طبقہ پوری طرح مس گائیڈڈ ہے ۔ یہ نوجوان ہی ہیں جوقوموں کی تقدیر بنانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔ نوجوانوں کے ہاتھ میں اگر علم کی شمع اور کتاب دی جائے تو یہ فخر کا باعث بنتے ہیں لیکن یہی کتاب اور علم اگر ان سے چھن جائے تو قوموں کے قافلے دن دیہاڑے لٹ جاتے ہیں ۔ خیبر پختون خوا کے دوسرے اضلاع کی طرح ضلع بونیر میں بھی اگر نوجوانوں کی موجودہ حالت دیکھی جائے تو دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ یہاں کے نوجوان ان تمام سہولیات سے محروم ہیں جو آگے بڑھنے کیلئے پوری دنیا میں نوجوانوں کو مہیا کی جاتی ہیں ۔ تعلیمی ضروریات کیلئے پرائیویٹ سکولز اور گورنمنٹ سکولز کے علاوہ یہاں ہائیر سیکنڈری اور ڈگری کالجز بھی ہیں لیکن شاید نوجوانوں کی اکثریت پر ان کا کنٹرول نہیں ورنہ جہاں تعلیمی ادارے فنکشنل ہوں وہاں ٹیلنٹ کا بحران کبھی نہیں آتا۔ ایک یونیورسٹی بھی ہے جو ابھی نئی ہے لیکن وہاں بھی روایتی تدریسی انداز میں نوجوانوں کو پڑھایا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ضلع کے ذیادہ تر طالب علم صوبے کی دوسری یونیورسٹیز میں زیر تعلیم ہیں ۔ اچھا ہوتا اگر یہاں کے نوجوانوں کے رجحانات میں مثبت سرگرمیاں ہوتیں اور ارباب اختیار ان نوجوانوں کے لئے ایسے مواقع پیدا کرتے جن کی وجہ سے ان کی شخصیت میں نکھار آجاتا اور ان کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ بونیر میں نوجوانوں کی اکثریت نشے کی عادی بن چکی ہے۔ نشہ ایک لت ہے اور انسان کو جب اس کی عادت پڑ جاتی ہے تو اپنے پرائے کی پہچان ختم ہوجاتی ہے ۔ ضلع بونیر میں یہ لت روز بروز بڑھ رہی ہے اور اولیاء کرام کی تجلیوں سے بھرپور یہ زمین چرس ،آئس ،شراب اور دوسری نشہ آور چیزوں کا گویا مرکز بن گئی ہے ۔ نوجوان فخر کے ساتھ نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتے ہیں اور اپنے ساتھ اس لت میں دوسرے نوجوانوں کو بھی شریک کر لیتے ہیں ۔ نوجوانوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے مگر مسند اقتدار پر براجمان حضرات کے پیش نظر صرف اپنے مفادات کا حصول ہی اہم ہے ۔ 

نوجوانوں میں سب سے زیادہ آئس کا استعمال عام ہوچکا ہے ۔آئس کی تاریخ بھی بڑی عجیب ہے ۔ کہتے ہیں اس کو ایجاد جرمنی نے کیا تھا اور دوسری جنگ عظیم میں جاپان اور مخالف فوجی جب یہ نشہ کرلیتے تو ہفتوں وہ نیند سے دور رہتے اور ان کو ان تمام سختیوں کا اندازہ نہیں ہوتا جو عام زندگی میں انسان کو کوئی بھی مشکل کام کرنے میں ہوتا ہے ۔ خاص طور پر جو پائلٹ کسی ایسی مہم میں شریک ہوتے جس میں موت یقینی ہوتی تو پہلے ان کو آئس کا نشہ دیا جاتا ۔ بونیر میں ایسے بہت سے دیہات ہیں جہاں آئس کا بے تحاشہ استعمال ہورہا ہے جیسے ایلئے ،انغاپور، ریگا ،تورورسک ،پیربابااور چملہ کے علاقے جہاں نوجوان اس لت کے عادی ہو چکے ہیں بالخصوص ایلئے منشیات کا گڑھ بن چکا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کیا کر رہی ہے اور یہ چیزیں آتی کہاں سے ہیں ۔ تورخم کے راستے ان تمام چیزوں کی ترسیل ہوتی ہے اور پھر یہ پورے صوبے میں پھیل جاتی ہیں ۔ایک نوجوان سے میری بات ہوئی جس کا تعلق ایلئے گاوں سے ہے اس نے اپنی ایک تنظیم بھی بنائی ہے جس کا نام "خادم خلق" ہے اور جس نے اپنی طرف سے اس مسئلے کے حل کے لئے کافی تگ و دو بھی کی ہے اور ضلعی انتظامیہ سے بھی کئی بار ملا ہے لیکن کوئی حوصلہ افزا جواب جب نہ ملا تو نہ چاہتے ہوئے بھی وہ مایوس ہوا اور ابھی تک کسی نجات دہندہ کے انتظار میں ہے ۔ اس کے علاوہ چرس کا استعمال بھی حد سے زیادہ ہے اور جو اس نشے کے عادی ہیں وہ تیرہ سے پندرہ سال تک کے بچوں کو بھی عادی بنا رہے ہیں ۔ جس گائوں کا میں نے ذکرکیا( ایلئے) یہاں زیادہ ترطالب علم چرس کے عادی ہیں اور ذہنی طور پر بہت سے نوجوان چرس کی وجہ سے خراب بھی ہوچکے ہیں ۔ باجکٹہ ،کلیاڑی ،ایلئے ،انغاپور ،تورورسک ،پیربابا ،ریگا اور چملہ میں جب رات کی تاریکیاں چھا جاتی ہیں تو نوجوان چرس کا زہر اپنے اندر اتاراتار کر خود کو برباد کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ ضلع انتظامیہ رات کو شاید سو رہی ہوتی ہے اور یہ نوجوان پتہ نہیں اور کیا کیا کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہ نشئی آور نوجوان ڈاکے بھی ڈالتے ہیں لوگوں کو تنگ بھی کرتے ہیں اور سب سے بڑی بات ان کے اپنے گھر والے ان سے چھٹکارا پانے کیلئے صرف بد دعائوں سے کام چلارہے ہیں ۔ یہ مخصوص طبقہ ایک لابی کی طرح اپنے ساتھ دوسرے نوجوانوں کو جب شامل کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو ان کی بہت خاطر مدارت کرتے ہیں ان کو چرس کی سپلائی روازنہ مفت میں کرتے ہیں اور اس وقت یہ ان کے لئے استاد بھی بن جاتے ہیں اور خیر خواہ بھی ۔ المیہ یہ ہے کہ ایسے ایسے بچے بھی ہیں جن کو دیکھ کر گود میں لینے کو جی چاہتا ہے لیکن ان کے ہاتھوں میں چرس کا سگریٹ دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ چرس اور آئس کے علاوہ شراب کا استعمال بھی گاہے بگاہے ہورہا ہے اور نوجوان شراب کے عادی بن رہے ہیں ۔ ان نازک گلوں کے حلق سے جب شراب کے گھونٹ اندر جاتے ہیں تو وہ قیامت کے لمحات ہوتے ہیں ۔

کف افسوس ملنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ ہمارا معاشرہ دن بہ دن بگاڑ کی طرف گامزن ہے ۔ یہ جو رشتوں کی پامالی روز کا معمول بن گیا ہے ۔ یہ جو روز چھوٹی چھوٹی باتوں پر برسوں کے دوست اور رشتہ دار دشمن بن جاتے ہیں ۔ یہ بلا وجہ نہیں اس کے پیچھے موجود محرکات ہی اصل میں نقصان کا باعث بن رہے ہیں ۔ بونیر کے ارباب اختیار چاہے وہ پولیس ہو ،ضلعی انتظامیہ ہو ،سیاست دان ہوں یا ضلع کے دوسرے وہ لوگ جو جرگوں میں بیٹھتے ہیں ان کو چاہیئے اس مسئلے سے چھٹکارہ پانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ۔ سیمینارز اور باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ باتوں کی جگہ عملی اقدامات کرنے ہی سے مسائل حل ہوتے ہیں ۔ ضلع انتظامیہ کو چاہیئے کہ ان تمام لوگوں کو انجام تک پہنچائے جو منشیات کی سپلائی کرتے ہیں اور اس میں کسی بھی سیاست دان یا بااثر شخصیت کو خاطر میں نہ لا یا جائے ۔ وہ نوجوان جو نشے کے عادی ہیں ان کو پکڑ کر ان کے والدین سے بات کرنی چاہیئے ۔ وہ راہ راست پر آئیں تو ٹھیک ورنہ مستقل ان کو جیل میں ڈال دینا چاہیئے ۔ آخری قدم جو ضلع انتظامیہ کو اٹھانا چاہیئے وہ نشے کے خلاف آگاہی مہم ہے ۔ ہر گائوں کی سطح پر یہ آگاہی مہم ہونی چاہئے اور ان بزرگوں سے بات کرکے ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے جو سینے میں نوجوان طبقے کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں