ہمت کے پیکر

ہمت کے پیکر

  زاہدنواز جدون
 

خصوصی افراد پر اگر توجہ دی جائے تو یہ بھی معاشرہ کیلئے اسی طرح مفید ثابت ہوتے ہیں جس طرح ایک نارمل انسان ہوتا ہے ، بلکہ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ خصوصی افراد کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار صلاحیتیں عطا کی ہوتی ہیں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم انہیں معاشرے کا کارآمد فرد بنانے میں اپنا بھرپور کردار اداکریں ۔ ہمارے معاشرہ کا المیہ ہے کہ ہم نے ان کو یکسر نظرانداز کیا ہوا ہے اور ان پر توجہ نہ اجتماعی سطح پر اور نہ ہی انفرادی سطح پر دی جا رہی ہے، ہم ہر سال تین دسمبر کو خصوصی افراد کا دن تو مناتے ہیں لیکن باقی سال کے 365 دن انہیں بھول جاتے ہیں۔ ان کو معاشرے پر بوجھ سمجھتے ہیں۔ خصوصی افراد کو رہنمائی فراہم کرنے کیلئے ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔
اسی حوالے سے ایبٹ آباد یونیورسٹی میں گزشتہ دنوں خصوصی افراد کے حوالے سے ایک ہفتہ کی تقریبات کا انعقاد کیاگیا، وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار کی خصوصی ہدایات اور سربراہی میں اس ہفتہ کے دوران معاشرے کے نظر انداز کئے ہوئے اس طبقہ کے اندر پائی جانیوالی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کیساتھ ساتھ انفرادی طور پر جدوجہد کرنیوالے خصوصی افراد کو بھی تلاش کر کے سامنے لایا گیا اور انہیں ایک مثال بنا کر دیگر خصوصی افراد کے سامنے پیش کیاگیا جن میں صلاحیتیں تو موجود ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کرنے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں لیکن معاشرہ کی طرف سے انہیں نظرانداز کئے جانے اور دیگر وجوہات کی بناء پر حوصلہ ہارچکے ہیں، ان میں سے ہر خصوصی فرد خود ایک داستان ہے۔ اس تقریب کی خاص بات وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی خصوصی افراد کے حوالے سے ایک قراردادکی متفقہ منظوری تھی جس میں حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ ’’ضلعی سطح پر خصوصی افراد کیلئے کالج لیول کے تعلیمی ادارے اور خصوصی افراد کی تعلیم کو بھی صحت مند افراد کے نظام تعلیم کیساتھ منسلک کیاجائے‘‘۔ایبٹ آباد یونیورسٹی کے زیر اہتمام ان افراد کی رہنمائی اور معاشرہ میں شعور اُجاگر کرنے کیلئے واک کا انعقادکیاگیا جبکہ ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے سپیشل ایجوکیشن سکول کے بچوں نے ٹیبلو بھی پیش کئے، شعبہ سائیکالوجی کے زیر اہتمام اس ہفتہ میں ان بچوں میں چھپے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کی بھرپور کوشش کی گئی،اس ہفتہ کا باقاعدہ افتتاح صوبائی وزیر ہایئر ایجوکیشن وفارسٹ مشتاق احمد غنی نے کیا ، اس موقع پر انہوںنے اپنے خطاب میںکہا کہ ان افراد سے اظہار یکجہتی اور ان کی فلاح کیلئے کئے جانیوالے کام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قائم دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بھی اس کی تقلید کرنی چاہیے ، خصوصی افراد ہم سے ہزار وں درجہ بہتر ہیں۔ ان افراد نے پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کیا، اولمپک میں گولڈ میڈل سے لیکر پاکستان کیلئے ورلڈ کپ اور دیگر کارہائے نمایاں انہیں کی محنت اور کاوشوں کی وجہ سے ممکن ہوئے، مشتاق احمد غنی نے کہا کہ مجھے انتہائی خوشی ہے کہ یونیورسٹی میں نئی تعمیرات اس طرح ڈیزائن کی جارہی ہیں جہاں خصوصی افراد کی آمدورفت سے لیکر آرام ، کلاس رومز اور بیت الخلاء کے حوالے سے علیحدہ سہولیات فراہم ہوں گی، معاشرہ کے تمام طبقات ایسے افراد کی فلاح کیلئے آگے آئیں اور اس سلسلہ میں حکومت کی بھی رہنمائی کریں، انہوں نے کہا کہ ایبٹ آباد یونیورسٹی کی طرح دیگر اداروں کو بھی ان افراد کے حوالے سے سوچنا ہوگا، یہ افراد ہماری خصوصی توجہ کے مستحق ہیں ، اگر ہم انہیں مناسب توجہ اور رہنمائی دیں تو یہ افراد بھی پاکستان کیلئے مزید کارہائے نمایاں سرانجام دے سکتے ہیں۔ شعبہ نفسیات کے زیر اہتمام اس افتتاحی تقریب کے دوران ایک واک کا بھی اہتمام کیاگیا، واک کے شرکاء نے مختلف بینرز بھی اُٹھائے ہوئے تھے جس میں خصوصی افراد کی حوصلہ افزائی اور اظہار یکجہتی کے حوالے سے نعرے درج تھے۔
اس ہفتہ کو منانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ معاشرہ میں پائے جانیوالے ایسے افراد جن میں ٹیلنٹ تو بہت ہے مگر انہیں سامنے لانے کیلئے کوئی بھی پلیٹ فارم نہیں ملا تھا، اس پلیٹ فارم سے ایسے افراد کی نشاندہی بھی ہوئی جن میں بہت ہی زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں بے پناہ صلاحیتیں عطا کی گئی ہیں ان میں ایک نعت خواں بچی فریحہ پرویز بھی شامل تھی جس نے آل پاکستان نعت خوانی میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، یہاں پر ہمیں دو ایسے حوصلہ مند بھائی بھی ملے جو خود توخصوصی افراد کی فہرست میں شامل تھے لیکن انکے تعلیمی ریکارڈ اور نابینا افراد کیلئے کی جانیوالی جدوجہد کو دیکھ کر ان پر بے انتہا رشک آجائے۔ ان میں سے ایک زوہیب نامی حوصلہ مند نوجوان جو ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی حالیہ ہونیوالی بھرتیوں کے دوران لیکچرر کی پوسٹ پر بھرتی ہوا، واضح رہے کہ اس ’’ہمت کے پیکر ‘‘کی بھرتی کسی کوٹہ ،سفارش یا ہمدردی کی بنیاد پر نہیں صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر ہوئی۔
وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کی خصوصی اقدامات اور ہدایات کی روشنی میں شعبہ سائیکالوجی کے اساتذہ کی خدمات بھی اب ان بچوں کو حاصل ہو گئی ہیں اور جہاں ماہر نفسیات کے حوالے سے ضرورت پڑتی ہے تو ایبٹ آباد یونیورسٹی اس سلسلہ میں اپنی بھرپور خدمات فراہم کرتی ہے ۔ تقریب کے آخری روز شعبہ نفسیات ایبٹ آبادیونیورسٹی کی طالبات کی جانب سے خصوصی افراد پر توجہ کے حوالے سے ایک بہترین خاکہ بھی پیش کیاگیا ۔

اداریہ